اسلام آباد میں ہوائی جہاز کے حادثے میں تمام ایک سو باون مسافر اور عملہ جاں بحق

28/07/2010

حسن خان

اسلام آباد – پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے جہاز میں سوار تمام 152 مسافروں اور عملے کے اراکین کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ 28 جولائی کی صبح ایئر بلیو کا ایئر بس اے 320 ہوائی جہاز مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایک چوٹی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا۔

امدادی ٹیموں کے لئے ڈھلوان پر گھنے درختوں سے بھری پہاڑیوں پر لاشوں کی تلاش کا کام بڑا کٹھن تھا اور حادثے کے وقت وہاں بارش ہو رہی تھی۔

نجی فضائی کمپنی کا طیارہ کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا۔ حکام نے حادثے کے سبب کا تعین نہیں کیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں بعض غیر ملکی بھی شامل تھے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ کوئی شخص بھی زندہ نہیں بچا ہے۔ رحمان ملک نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کابینہ کے اجلاس سمیت اپنی تمام معمول کی مصروفیات منسوخ کر دیں۔

رحمان ملک نے بتایا کہ وزیر اعظم نے تین وزرائے اعلٰی اور کابینہ کے ساتھیوں کے ہمراہ جائے حادثہ کا فضائی جائزہ لیا اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا حکم دیا۔ وزیر اعظم گیلانی نے ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا۔

رحمان ملک نے بتایا کہ حکومت نے حادثے کے اسباب کی تحقیقات کے لئے ایک پانچ رکنی بورڈ تشکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مرحلے پر تخریب کاری کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتے۔ تاہم، ہمیں کوئی تبصرہ کرنے سے قبل تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔

لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہم لاشوں کو لے جانے کے لئے چھوٹے ہیلی کاپٹر استعمال کر رہے ہیں۔ آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے چیئرمین جنرل ندیم بحالی آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

سہ پہر کے وقت جنرل ندیم نے بتایا تھا کہ ہم نے 102 لاشیں نکال لی ہیں۔ امید ہے کہ رات تک ہم زیادہ سے زیادہ لاشیں نکال لیں گے۔

اس مشکل کام میں بہت سے امدادی اداروں نے حصہ لیا۔ مقامی اسپتالوں کی گاڑیاں، ایمبولینسیں اور دیگر امدادی گاڑیاں دن بھر لاشوں کو اسپتال پہنچاتی رہیں۔

ایدھی ریسکیو سروس کے ایک اہلکار وحید نے بتایا کہ لاشیں نکالنے کا کام انتہائی دشوار ہے کیونکہ جائے حادثہ تک گاڑی سے رسائی ناممکن ہے۔

وحید نے جائے حادثہ سے واپسی پر بتایا کہ ہم گھنے درختوں کے جھنڈ تلے پیدل جائے حادثہ تک آ جا رہے ہیں۔

ایک سابق وفاقی وزیر عمر ایوب نے بتایا کہ جہاز پہاڑ کی چوٹی سے ٹکراتے ہی ہر طرف ملبہ بکھر گیا اور آگ لگ گئی۔ جائے حادثہ عمر ایوب کے سیاسی حلقے میں شامل ہے۔

عمر کے بقول انہیں عینی شاہدوں نے بتایا کہ جہاز انتہائی نیچی پرواز کر رہا تھا اور چوٹی سے ٹکرا گیا۔

شہری ہوا بازی کے ادارے کے مطابق، لاشیں تلاش کرنے والے کارکنوں کو پرواز کا ریکارڈ رکھنے والا بلیک باکس مل گیا ہے۔ شہری ہوا بازی کے ایک عہدیدار نے ایک نجی ٹی وی اسٹیشن کو بتایا کہ صبح 9 بج کر 45 منٹ پر ہوائی جہاز کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

مسافروں کے رشتہ داروں کی ایک بڑی تعداد اپنے پیاروں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئی۔

ایئر پورٹ کے ایک عہدیدار رحیم خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ مسافروں کے عزیز و اقارب نے معلومات کے حصول کے مرکز پر دھاوا بول دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لواحقین کا انتہائی زیادہ رش ہے۔ وہ شدت غم سے نڈھال ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں۔

ایئر پورٹ پر موجود ایک صحافی نے اہلکاروں کے اس سانحے سے نمٹنے کے رویے کی شدید مذمت کی۔ حادثے کے دو گھنٹے بعد ایئر پورٹ پہنچنے والے مقامی صحافی شہاب نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر مکمل بدنظمی کا ماحول تھا۔ کوئی بھی سوگوار خاندانوں کی مدد نہیں کر رہا تھا۔ مرد و خواتین زار و قطار روتے ہوئے ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر کی جانب بھاگ رہے تھے۔

ایئر بلیو کے عہدیدار سعید حسن نے بتایا کہ شہری ہوا بازی کا ادارہ واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے اس مفروضے کو مسترد کر دیا کہ حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔

حسن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسم خراب تھا تاہم یہ اتنا بھی خراب نہیں تھا۔ جہاز میں کوئی معلوم تکنیکی خرابی نہیں تھی اور نہ ہی پائلٹوں نے کوئی ہنگامی سگنل بھیجے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ایئر بلیو نے ایئر پورٹ پر ہنگامی مرکز قائم کر رکھا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمود جمال نے بتایا کہ گاڑیوں کے ذریعے 70 لاشیں پمز پہنچائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر محمود جمال نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور تمام عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جمال نے کہا کہ اعضاء سے شناخت مشکل ہو گی اور اس کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پڑے گی کیونکہ اکثر لاشیں مسخ ہو کر ناقابل شناخت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت لاشوں کو خاندانوں کے گھروں تک بلامعاوضہ پہنچائے گی۔