ازبکستان میں سال دو ہزار نو کے موسم گرما میں ہونے والے قتل کے واقعات پر مبنی دستاویزی فلم نشر

28/07/2010

اسٹین راجرز

تاشقند – ازبکستان کے مرکزی ٹی وی چینل نے مئی کے اواخر میں ایک مذہبی شخصیت اور وزارت داخلہ کے عہدیدار کے قتل کی دستاویزی فلم نشر کی جنہیں 2009 کے موسم گرما میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ بات 28 جولائی کو فرغانہ ڈاٹ آر یو نے اپنی خبر میں بتائی۔

فرغانہ ڈاٹ آر یو نے اپنی خبر میں بتایا کہ دستاویزی فلم نشر کرنے سے قبل اس کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

سولہ جولائی 2009 کو ایک مدرسے کے نائب مہتمم ابرور ابروروف کو چھرا گھونپ کر قتل کر دیا گیا۔ 31 جولائی 2009 کو ایک امام انور قوری ترسونوف کو چھرا گھونپ کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس حملے میں بچ گئے۔ 9 اگست کو وزارت داخلہ کے انسداد دہشت گردی محکمے کے عہدیدار خاسان اسدوف کو اپنے اپارٹمنٹ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

دستاویزی فلم میں شوکت محمودوف اور سویڈن میں مقیم ازبک نژاد مولوی عوبد ہون نذروف پر ازبکستان میں دہشت گرد حملوں کا الزام عائد کیا گیا۔ شوکت محمودوف ستمبر میں تاشقند پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ فرغانہ ڈاٹ آر یو کی خبر کے مطابق، دستاویزی فلم میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ قازقستان کے انٹیلیجنس اداروں نے ازبک پولیس کو مطلوب نذروف کو 2005 میں قازقستان سے سویڈن فرار ہونے میں مدد دی تھی۔