لاہور – اٹھائیس جولائی کو پنجاب کے شہر دیپالپور کے ایک نواحی گاؤں میں خاندانی دشمنی کے نتیجے م...افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے پچیس شہری جاں بحق
کابل – جنوب مغربی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پچیس بس مسافر جاں بحق اور 27...کرغزستان کے انتخابات میں ایک سو اڑتالیس جماعتوں کی شرکت
بشکیک – کرغزستان میں اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے لئے 148 سیاسی جماعتوں نے اندراج کرایا ہے۔...قازقستان میں ایڈز مرکز کی دھوکہ دہی کی تحقیقات
الماتی – حکام نے قازقستان کے قومی ایڈز مرکز میں دھوکہ دہی سے متعلق دو مقدمات کا آغاز کیا ہے۔ ی...ازبکستان میں سال دو ہزار نو کے موسم گرما میں ہونے والے قتل کے واقعات پر مبنی دستاویزی فلم نشر
تاشقند – ازبکستان کے مرکزی ٹی وی چینل نے مئی کے اواخر میں ایک مذہبی شخصیت اور وزارت داخلہ کے ع...تاجک اور افغان اہلکاروں نے سال دو ہزار دس کی پہلی شمشاہی میں چھ سو تریسٹھ کلوگرام منشیات ضبط کی
دوشنبہ – سال 2010 کی پہلی ششماہی کے دوران تاجکستان کے انسداد منشیات ادارے نے افغان قانون نافذ...تاجک بینکار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جعلی تاجک کرنسی تیار ہو رہی ہے
دوشنبہ – چھبیس جولائی کو تاجک نیشنل بینک کے چیئرمین شریف رحیم زودہ نے کہا کہ تاجکستان میں افغا...تاجک حکام کا اخمدوف کی ہتھیار اٹھانے کی دھمکی پر ردعمل
دوشنبہ – تاجکستان کے کئی مبصرین نے متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق عسکری کمانڈر مرزو خدزہا اخمدو...
قازقستان کے حزب اختلاف کے گروپوں کا چین کو زمین پٹے پر دینے کے خلاف احتجاج
الماتی – 30 جنوری کو الماتی میں قازقستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں آل نیشنل سوشل ڈیموکریٹک آزات پارٹی (ANSDAP) اور آلگا نے تالماس شہری تحریک کے ہمراہ قازق زمین کو غیر ملکی سرمایہ کاروں، بالخصوص چین، کے حوالے کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ریلی میں 2000 کے قریب مظاہرین سری آقا تھیٹر کے نزدیک چوک میں جمع ہو گئے جبکہ پولیس ان کی نگرانی کرتی رہی۔
2009 میں چین نے قازقستان کو 10 ارب امریکی ڈالر کا قرض دیا۔ کومر سانت ڈاٹ آر یو کی خبر کے مطابق، اس کے کچھ ہی عرصے بعد چین کی نیشنل پٹرولیم کمپنی نے قازقستان کی پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں ایک تہائی حصہ رکھنے والی کمپنی منگستاؤ مونائی گیس کے 50 فیصد حصص حاصل کر لیے۔
قازقستان میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ پر عوام میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے اور گزشتہ دسمبر میں اس پر توجہ اس وقت زیادہ ہوگئی جب قازق صدر نور سلطان نذر بائیف نے بتایا کہ چین کی زرعی پیداواری کمپنیاں زمین پٹے پر لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
"چین کے ساتھ اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات ہمارے لئے اہم ہیں لیکن ان کی خاطر اپنے مفادات کو داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا"، کومر سانت ڈاٹ آر یو نے مظاہرے میں حزب اختلاف کے رہنما زہرماہن تویاکبائی کے حوالے سے بتایا۔ "پہلے ہی ہمارے ملک کا تقریباً 40 فی صد تیل ان کی ملکیت بن چکا ہے۔ اب آہستہ آہستہ توسیع کے ذریعے زمین پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ہماری خودمختاری شدید متاثر ہو گی"۔
مظاہرے میں شریک حزب اختلاف کے رہنماؤں نے قوانین املاک میں ترامیم کا مطالبہ کیا اور زمین کی نج کاری کی مخالفت کی۔ انہوں نے وزیر اعظم کریم ماسیموف کی حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا۔
"قازقستان کے سر پر چین کے پندرہ ارب ڈالر کے قرضہ جات منڈلا رہے ہیں"، آل نیشنل سوشل ڈیموکریٹک آزات پارٹی کے رہنما بولات عابلوف نے اعلان کیا۔ "اب ماسیموف کی وزارت عظمٰی کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے"۔
قارئین کے تبصرے
ہم کہاں تک پہنچ گئے ہیں!
مچھلی کے گلنے سڑنے کے عمل کا آغاز سر سے ہوتا ہے۔ اس وقت بدعنوان کرایے کے فوجیوں کی مثال سر کی ہے۔
میں بھی اس کا مخالف ہوں۔ اگر انہوں نے اسے فروخت کرنے کا قریب قریب فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ اسے فروخت کر دیں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدر اور تمام رہنماؤں کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین کی فروخت ایسے ہی ہے جیسا کہ خودکشی کرنا۔ ایک محاورے کے بقول، سوئے ہوئے درندے کو جگانے کی کوشش خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ مسائل کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
حکومت کی قومیت شکن پالیسی کے حوالے سے قومی سطح پر رائے عامہ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ صدر کی اپنے بڑے ہمسایہ ملکوں روس اور چین کے مطالبات پر سر جھکانے کی عجیب عادت کے نتیجے میں صدر کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ قازقستان میں آئندہ صدارتی انتخاب (آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ میں اس حوالے سے کئی مثالیں موجود ہیں) جلد منعقد کیے جا سکتے ہیں اور قازقستان کے موجودہ صدر اس کے نتائج سے حیران رہ جائیں گے۔
ایک محب وطن شخص کی حیثیت سے مجھے، خاص طور پر چینیوں کو، زمین پٹے پر دینے پر دل کی گہرائیوں سے غصہ ہے۔ زمین کے ہر ہیکٹر حصے پر کام کرنے کے لئے چینی باشندوں کو ملازم رکھا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں، پانچ سالوں میں قازقستان میں ان کی تعداد قازق باشندوں سے بڑھ جائے گی۔ اسی لئے، میں اس مضمون کے مصنفین کی حمایت کرتا ہوں اور عمدہ نتائج کا متمنی ہوں۔
کیا این اے این اس مسئلے کو نظر انداز کر رہی ہے؟ علیئیف کی کتاب کی اشاعت کے بعد میرا خیال ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔
ماسیموف اور نذر بائیف دونوں کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
ماسیموف اور نذر بائیف دونوں کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔
میں کوئی سیاست دان نہیں ہوں لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے امراء شاہی کس طرح ارزاں مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اس وقت بھی حکومت کے ساتھ کام کرتے رہے جب 40 فی صد تیل چینی کمپنیاں لے جاتی تھیں۔ اب جبکہ ان کے سرکاری عہدے ختم ہو گئے ہیں تو نتیجہ سامنے نظر آ رہا ہے۔ ملک میں زمین کی فروخت پر پابندی کا قانون موجود ہے۔ کیا ہم اتنے سمجھدار ہوجائیں گے کہ خود پر طاری کیا ہوا "نمائشی خود پسندی" کا خول اتار کر چینیوں کی پیشکش (لیکن یہ لازمی طور پر چینیوں کی پیشکش ہونی چاہیے) کو قبول کرتے ہوئے اپنے ماہرین چین بھجوائیں تاکہ وہ سویا بین کے پودے اگانے کا مشاہدہ کرنے، کاشت کی تکنیکی صراحتوں اور سویا بین کے پودوں کی کاشت شروع کرنے سے متعلق سیکھ کر واپس لوٹیں۔ یا ایک بار پھر، حکام (ان کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے رہنما بھی) اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو وہاں بھیج دیں گے تاکہ وہ سویا بین کی کاشت کی ضرورت کو فروغ دیں اور زبانی اور عملی اقتصادی فوائد کی تصدیق کریں اور ہر چیز اپنے ہاتھوں میں لے لیں، جبکہ عام لوگ ان کے غلاموں کی حیثیت سے ہی زندگی بسر کرتے رہیں۔

