پنجاب میں خاندانی دشمنی کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک
لاہور – اٹھائیس جولائی کو پنجاب کے شہر دیپالپور کے ایک نواحی گاؤں میں خاندانی دشمنی کے نتیجے م...
افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے پچیس شہری جاں بحق
کابل – جنوب مغربی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پچیس بس مسافر جاں بحق اور 27...
کرغزستان کے انتخابات میں ایک سو اڑتالیس جماعتوں کی شرکت
بشکیک – کرغزستان میں اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے لئے 148 سیاسی جماعتوں نے اندراج کرایا ہے۔...
قازقستان میں ایڈز مرکز کی دھوکہ دہی کی تحقیقات
الماتی – حکام نے قازقستان کے قومی ایڈز مرکز میں دھوکہ دہی سے متعلق دو مقدمات کا آغاز کیا ہے۔ ی...
ازبکستان میں سال دو ہزار نو کے موسم گرما میں ہونے والے قتل کے واقعات پر مبنی دستاویزی فلم نشر
تاشقند – ازبکستان کے مرکزی ٹی وی چینل نے مئی کے اواخر میں ایک مذہبی شخصیت اور وزارت داخلہ کے ع...
تاجک اور افغان اہلکاروں نے سال دو ہزار دس کی پہلی شمشاہی میں چھ سو تریسٹھ کلوگرام منشیات ضبط کی
دوشنبہ – سال 2010 کی پہلی ششماہی کے دوران تاجکستان کے انسداد منشیات ادارے نے افغان قانون نافذ...
تاجک بینکار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جعلی تاجک کرنسی تیار ہو رہی ہے
دوشنبہ – چھبیس جولائی کو تاجک نیشنل بینک کے چیئرمین شریف رحیم زودہ نے کہا کہ تاجکستان میں افغا...
تاجک حکام کا اخمدوف کی ہتھیار اٹھانے کی دھمکی پر ردعمل
دوشنبہ – تاجکستان کے کئی مبصرین نے متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق عسکری کمانڈر مرزو خدزہا اخمدو...
mail

لوئر دیر میں بم دھماکہ، سکول کی چار طالبات اور چھہ دیگر افراد ہلاک، 126 زخمی

سٹاف رپورٹر
سنٹرل ايشياء آنلائن کے لۓ
2010-02-03


نومبر 2009 کی اس فائل فوٹو میں، پاکستانی شہری خیبر کے علاقے باڑا میں، ایک سکول کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ لوئر دیر میں تین فروری 2010 کو ہونے والے اس تازہ ترین دھماکے میں چار لڑکیاں ہلاک ہو گئیں جو کہ ایک سکول کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ (ایس ٹی آر/ اے ایف پی/ گیٹی امیجز)

لوئر دیر، پاکستان -- ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، تین فروری کو لوئر دیر کی تحصیل بلام بٹ میں لڑکیوں کے ایک سکول کے نزدیک نصب کیے گئے بم کے پھٹنے سے کم از کم دس افراد، جن میں سکول کی چار طالبات بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر126 افراد زخمی ہو گئے۔


اے ایف پی نے لوئر دیر کے مرکزی شہر تیمرگرہ کے مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن، محمد وکیل کے بیان کے حوالے سے بتایا " ہمارے پاس جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں ہیں ، جو کہ دس سے پندرہ سال کی عمر کی سکول کی طالبات کی ہیں"۔


روزنامہ جنگ کے مطابق، زخمی والے 126 افراد میں70 طالبات بھی شامل ہیں، جنہیں پشاور، تیمرگرہ اور سوات کے ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ اخبار نے خبر دی ہے کہ ممکنہ طور پر اور بچے بھی اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

بہت سے خبری ذرائع کے مطابق، تحرک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔


مقامی ٹیلی ویژن کی طرف سے بنائی جانے والی وڈیو میں سکول کی عمارت کو کافی قابل قدر نقصان پہنچا ہوا نظر آتا ہے جبکہ امدادی کارکن ملبے کو کھود رہے ہیں۔ ایک نیوز رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی منہدم ہو جانے والی دیوار کے نیچے دب گئی تھی۔


ہلاک ہونے والوں میں تین امریکی فوجی بھی شامل ہیں جو کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے پروگرام کے سلسلہ میں ایک دوسرے سکول تک سفر کر رہے تھے۔


ٹی ٹی پی ، لڑکیوں کی تعلیم کی مخالف ہے اور وہ اسے شریعت کی اپنی تشریح کے خلاف تصور کرتی ہے۔


بُک مارکنگ

.

ارزشیابی مقاله:5.0 /5 (1رای )

.
براۓ مہربانی اس آرٹیکل پر تبصرہ کریں تاکہ ھم آپکے اس ویب سائٹ کے تجربے کو بہتر بنا سکیں۔ کامنٹ پالیسی

قارئین کے تبصرے

sorry 2 say sir.k shariut to aik he haiaur us ki defination bhi aik he hai.but agar kirdar kashi he kerna chahtey tu alag bat hai.

میں ایم ایس سی معاشیات میں زیر تعلیم ہوں۔ جب کبھی میں بم دھماکے کے بارے میں سنتا ہوں تو میرا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ یہ لوگ طلباء کو کیوں ہلاک کرتے ہیں؟ وہ چاہتے کیا ہیں آخر؟ وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔

* پُر کرنا ضروری ہے
نام:
ای میل*:
کامنٹ*:
1800 حروف باقی ہیں (حد 1800)
نمبر ڈالۓ*:
Captcha
* پُر کرنا ضروری ہے



verification image, type it in the box
نمبر ڈالۓ*:
نمبر نہیں پڑھ سکتے؟‏‎‎
.