کوہاٹ - کوہاٹ میں پولیس ہیڈکواٹر کو نشانہ بنائے جانے والے کار بم دھماکے میں کم از کم اٹھارہ اف...پشاور کے اسلامیہ کالج کے وائس چانسلر اغوا
پشاور – چھ ستمبر کو پشاور کی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنے گھر کے باہر سے اغوا...اعصام قریشی یو ایس اوپن ٹینس کے سیمی فائنل میں پہنچ گئے
اسلام آباد – چھ ستمبر کو پاکستان کے ٹینس اسٹار اعصام الحق قریشی نیویارک میں منعقدہ یو ایس اوپن...تحریک طالبان پاکستان سرکاری فوج کے خلاف حملے جاری رکھے گی
پشاور – پاکستانی طالبان نے ملک کی سیکورٹی فورسز پر حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور انہو...اقوام متحدہ: عالمی استحکام کے لئے پاکستان کی امداد ناگزیر ہے
نوشہرہ – دنیا کو عسکریت پسندی کا شکار پاکستان میں عوام کے دل اور ذہن جیتنے کی غرض سے ملک میں س...ایشیائی ترقیاتی بینک نے سیلاب زدہ پاکستان کے لئے دو ارب ڈالر کی اضافی رقم دینے سے انکار کر دیا
اسلام آباد – ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو سیلاب سے بحالی کے منصوبوں کے لئے 2 ارب ڈالر کی...پشاور، خیبر ایجنسی کے تین اسکولوں میں بم دھماکے
پشاور – گزشتہ دو روز میں خیبر ایجنسی کے دو اور پشاور کے ایک اسکول کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گ...افغان کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو شکست دے دی
کراچی – افغانستان کی یوتھ افغان کرکٹ ایسوسی ایشن نے کراچی میں منعقدہ ڈاکٹر ایم اے شاہ لیفون نا...فوج کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے نوے فیصد حصے کو عسکریت پسندوں سے واگزار کرا لیا گیا ہے
اورکزئی ایجنسی – سات ستمبر کو پاکستانی فوج نے دعوٰی کیا کہ اس نے اورکزئی ایجنسی کے تقریباً 90...قازقستان اور روس اماشیفسکی گیس علاقے کو مشترکہ ترقی دیں گے
آتی راؤ اوبلاست، قازقستان -- قازقستان اور روس نے اماشیفسکی گیس علاقے میں گیس کی مشترکہ تلاش او...اوش کے ہنگاموں میں شریک شخص کو تیئس سال قید کی سزا
اوش -- اوش کی ایک عدالت نے جون کے نسلی فسادات میں حصہ لینے والے ایک شخص کو 23 سال قید کی سزا س...فرار ہونے والے قیدیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک تاجک محافظ جاں بحق
دوشنبہ -- سات ستمبر کو مشرقی تاجکستان میں سیکورٹی اہلکاروں اور 23 اگست کو جیل سے فرار ہونے وال...ترکمانستان میں ایک ارب نوے کروڑ ڈالر کی لاگت سے اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا
اشک آباد -- چار ستمبر کو حکومت ترکمانستان نے 1 ارب 90 کروڑ ڈالر کی لاگت سے اولمپک سٹی اسپورٹس...قازقستان اور روس کی توکامک نے پہلا پلازمہ تیار کر لیا
اوسکیمن، قازقستان -- قازقستان اور روس کی ایک مشترکہ توکامک مشین نے اپنا پہلا پلازمہ تیار کیا ہ...او ایس سی ای نے کرغزستان کے لئے انتخابی مبصر مشن تعینات کر دیا
بشکیک -- یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے جمہوری اداروں و انسانی حقوق کے دفتر نے 10 اکتوب...
کرغزستان میں توانائی کے بحران نے شدت اختیار کر لی
بشکیک – کرغزستان میں توانائی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اپریل میں اس وقت کے صدر کرمنبیک بکائیف کی معزولی کے بعد نئی حکومت نے عوام کے لئے بجلی کے نرخوں میں 1.5 کرغیز سوم (قریباً تین امریکی سینٹ) فی کلو واٹ گھنٹے کی کمی کرتے ہوئے انہیں گزشتہ سال کے 0.7 کرغیز سوم کی سطح تک کر دیا۔ حکومت نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں بجلی کی وقفے وقفے سے بندش اور نرخوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔
سابق صدر کرمنبیک بکائیف کی حکومت نے 2009 میں نرخوں میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ توانائی کی صنعت میں 1 ارب 40 کروڑ کرغیز سوم کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے اضافہ ناگزیر ہے۔ قیمتوں میں اُس اضافے کے باعث وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
وزیر توانائی عثمون بیک آرتیک بائیف نے صحافیوں کو یقین دلایا تھا کہ 1 ارب 50 کروڑ کرغیز سوم کے موجودہ خسارے کے نتیجے میں توانائی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
تاہم وزارت توانائی کے محکمہ نرخ کی سربراہ میر گل آئیدروفا کا کہنا ہے کہ 0.7 کرغیز سوم کا سماجی لحاظ سے مفید نرخ اخراجات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مراعات دینے کے لئے بجٹ میں کوئی فنڈز مختص نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر 0.7 کرغیز سوم کے نرخ کو برقرار رکھا گیا تو بجلی کی کمپنیاں بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہوں گی اور توانائی کے خسارے میں ہر سال اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
آئیدروفا کا کہنا تھا کہ اس کا حل صرف نرخوں میں اضافہ ہے تاہم ہمیں ان کی ادائیگی کے لئے صارفین کی مالی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جو انتہائی کمزور ہے۔
ایک تجزیہ کار البرٹ لی نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ موسم بہار میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک اہم وجہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بھی تھا۔ کرغیز عوام کے لئے توانائی کے نرخوں میں اضافہ ایک حساس معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے نرخوں پر منفی عوامی ردعمل کی وجہ نہ صرف دیگر اشیاء اور سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ ہے بلکہ لوگ یہ محسوس بھی کرتے ہیں کہ انہیں دھوکا دیا جا رہا ہے۔
توانائی کی صنعت کے ایک خود مختار تجزیہ کار نکولائی کرافتسوف نے بتایا کہ صنعت کے بجٹ خسارے میں 10 کروڑ کرغیز سوم کا اضافہ ہو چکا ہے۔
کرافتسوف کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ واضح نہیں ہے کہ اس میں کیوں اتنا اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار میں کوئی شفافیت نہیں پائی جاتی۔ سابقہ انتظامیہ کے دور میں یہ مسئلہ درپیش تھا اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔ تاہم، حکومت سماجی یا تجارتی لحاظ سے نرخوں میں اضافے کا جواز پیش کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔
آئیدروفا نے اس کے لئے تکنیکی اور تجارتی مسائل کو مؤرد الزام ٹھہرایا۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی نقصانات کا تعلق بجلی کی ترسیل میں تکنیکی خامیوں سے ہے اور بہت سے لوگوں کے خیال کے برعکس تجارتی نقصانات کا تعلق نہ صرف توانائی کی چوری بلکہ برقی گرڈ میں استعمال کے باعث ہونے والی ٹوٹ پھوٹ سے بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت کل نقصانات کا تخمینہ 25 فیصد لگایا گیا ہے۔
یہ 6 کروڑ امریکی ڈالر کے مساوی بنتا ہے۔ توانائی کی صنعت کے ماہر بزر بائی ممبیتوف کے مطابق، اس خسارے پر قابو پانے کے لئے توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو مرمت اور دیکھ بھال کے اپنے اخراجات میں انتہائی کمی کرنا پڑے گی اور ترسیل کے دوران ہونے والے بجلی کے نقصانات میں کمی لانا پڑے گی۔
آئیدروفا نے بتایا کہ حکام بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے پہلے ہی قازقستان کو بجلی برآمد کرنے کے معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ توکتوگل آبی ذخیرے میں پانی کی سطح تقریباً 18 ارب مکعب میٹر تک پہنچ چکی ہے جس سے ہم ہمسایہ ملکوں کو توانائی برآمد کر کے منافع کمانے کے قابل ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے 0.031 امریکی ڈالر فی کلو واٹ گھنٹے کے حساب سے پانچ یا چھ قازق کمپنیوں کو 53 کروڑ کلو واٹ گھنٹے بجلی فراہم کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
علاوہ ازیں، ہم نے 2 ارب 33 کروڑ کلو واٹ گھنٹوں سے زائد بجلی برآمد کرنے کے لئے قازقستان کی کئی دیگر کمپنیوں کے ٹینڈر وصول کیے ہیں۔ مجموعی طور پر، ہم توانائی کی برآمدات سے 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کمانے کی توقع رکھتے ہیں۔
توانائی کے نرخوں میں اضافے کی تجویز یہاں تک کی عالمی بینک نے بھی کرغزستان جیسے ممالک کو توانائی کے نرخوں میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے تاہم حکومت اس سلسلے میں تذبذب کا شکار ہے۔
آرتیک بائیف نے کہا کہ بلاشبہ 0.7 کرغیز سوم بہت کم نرخ ہے تاہم ملک کے باشندوں کی کم آمدنی کو دیکھتے ہوئے ہم ابھی اس میں اضافہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری پالیسی ہے کہ پینشنوں اور تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ اسے انتہائی محتاط انداز میں بتدریج بڑھایا جائے۔
آئیدروفا نے کہا کہ تاہم حکومت آبادی کے ان عناصر کے لئے نرخوں کو 1.3 کرغیز سوم تک بڑھانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے جو موسم سرما میں برقی حرارت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر توانائی آرتیک بائیف نے بھی 22 جولائی کو اس تجویز کا اعادہ کیا تھا۔
برقی حرارت کے آلات استعمال کرنے والے بیشتر صارفین نجی گھروں کے مالکان ہیں جن کے گھروں میں تین فیز میٹر نصب ہیں۔ 2008 میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرنے کے بعد حکام نے ان میٹروں کو بجلی کی ترسیل روک دی تھی۔
رواں سال موسم سرما میں وہ ان میٹروں کو ایک بار پھر بجلی کی ترسیل شروع کریں گے تاہم ان کے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔
آئیدروفا نے بتایا کہ حکام کو توانائی کی فی کس کھپت کا تعین کرنا پڑے گا اور وہ ہر اضافی کلو واٹ گھنٹے کے لئے زیادہ نرخ وصول کریں گے تاہم ابھی تک ان قواعد اور ادائیگیوں کا طریقہ کار وضع کرنے پر کام جاری ہے۔
کرغزستان میں تین فیز میٹر کے صارفین کی تعداد 54 ہزار ہے۔
آرتیک بائیف نے بتایا کہ وہ لوگ جن کے میٹر پہلے بند کر دیے گئے تھے اگر وہ نئے نرخوں کی پالیسی کو قبول کرنے پر آمادہ ہوں تو ان کے ذاتی خرچ پر ان کے میٹر کو بجلی کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔
اوش کی ایک رہائشی خاتون طلائی گل آسانوفا نے بتایا کہ کسٹم یونین کے قیام اور گزشتہ موسم بہار میں آنے والے انقلاب کے بعد ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اب حکام بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔
البرٹ لی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حکام نے ابھی تک ادائیگی کا طریقہ کار وضع نہیں کیا اور کسی کو بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ صارفین کو کتنا بل ادا کرنا پڑے گا اور یہ کس حساب سے وصول کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کمپنی کی مؤثر انتظامیہ اور توانائی کے نرخوں کا حساب لگانے کے ایک شفاف نظام کی ضرورت پڑے گی۔
لی نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لئے ایک نگرانی بورڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں توانائی کمپنی کے حکام، غیر سرکاری تنظیموں، وزارتی حکام اور صنعت کے ماہرین کو یکساں نمائندگی حاصل ہو گی۔
تاہم اس طرح کا انتظام کرنے کے لئے آپ وزارت توانائی کو اطلاع دینے والے توانائی کمپنی کے حکام اور سرکاری حکام کو آسانی سے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ بقیہ تہائی پینل پھر کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکے گا۔
قارئین کے تبصرے
عوام کے لئے ایک نرخ اور اداروں کے لئے مختلف نرخ مقرر کرنا درست اقدام ہے تاہم معمول کے نرخوں میں اضافہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ عوام پر یہ بہت بڑا بوجھ ہے جو پہلے ہی بمشکل گزارا کر رہے ہیں۔ ہمیں تین فیز نظام نصب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کوئلہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔
عام لوگوں کے لئے ایک نرخ ہے اور کیسینو، سوانا اور نائٹ کلبوں کے لئے دوسرا جبکہ بیکریوں کے لئے تیسرا نرخ ہے۔ یہ سادہ سی بات ہے۔


