لاہور – اٹھائیس جولائی کو پنجاب کے شہر دیپالپور کے ایک نواحی گاؤں میں خاندانی دشمنی کے نتیجے م...افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے پچیس شہری جاں بحق
کابل – جنوب مغربی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پچیس بس مسافر جاں بحق اور 27...کرغزستان کے انتخابات میں ایک سو اڑتالیس جماعتوں کی شرکت
بشکیک – کرغزستان میں اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے لئے 148 سیاسی جماعتوں نے اندراج کرایا ہے۔...قازقستان میں ایڈز مرکز کی دھوکہ دہی کی تحقیقات
الماتی – حکام نے قازقستان کے قومی ایڈز مرکز میں دھوکہ دہی سے متعلق دو مقدمات کا آغاز کیا ہے۔ ی...ازبکستان میں سال دو ہزار نو کے موسم گرما میں ہونے والے قتل کے واقعات پر مبنی دستاویزی فلم نشر
تاشقند – ازبکستان کے مرکزی ٹی وی چینل نے مئی کے اواخر میں ایک مذہبی شخصیت اور وزارت داخلہ کے ع...تاجک اور افغان اہلکاروں نے سال دو ہزار دس کی پہلی شمشاہی میں چھ سو تریسٹھ کلوگرام منشیات ضبط کی
دوشنبہ – سال 2010 کی پہلی ششماہی کے دوران تاجکستان کے انسداد منشیات ادارے نے افغان قانون نافذ...تاجک بینکار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جعلی تاجک کرنسی تیار ہو رہی ہے
دوشنبہ – چھبیس جولائی کو تاجک نیشنل بینک کے چیئرمین شریف رحیم زودہ نے کہا کہ تاجکستان میں افغا...تاجک حکام کا اخمدوف کی ہتھیار اٹھانے کی دھمکی پر ردعمل
دوشنبہ – تاجکستان کے کئی مبصرین نے متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق عسکری کمانڈر مرزو خدزہا اخمدو...
پاکستان کو موصول ہونے والے عطیہ دہندگان کے قرضوں میں 122 فیصد اضافہ
کراچی، پاکستان ۔۔ عطیہ دہندگان ایک بار پھر پاکستان کو قرضے دے رہے ہیں۔
مالی سال 2010-2009 کے گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستان کو بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لئے موصول ہونے والے قرضہ جات میں 122 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مالی سال 2010 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے عرصے کے دوران، پاکستان کو بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 1 ارب 75 کروڑ امریکی ڈالر موصول ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران یہ رقم 71 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر تھی۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسلام آباد سے فون پر سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ "مالی سال 2010 میں عطیہ دہندگان، خاص طور پر عالمی بینک [WB] اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں ترقیاتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے اور حکومت کو کساد بازاری کے منفی اثرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لئے قرضوں کی فراہمی کا کام تیز کر دیا"۔
"عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرضوں کا ایک بڑا حصہ فراہم کر دیا ہے جن کی مالیت ایک ارب امریکی ڈالر سے کچھ زیادہ بنتی ہے اور یہ رقم صحت، تعلیم، آب پاشی، سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کے شعبے کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی"، انہوں نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ قرضوں کی رقم میں اضافہ، عالمی مالیاتی فنڈ کی قسط کی فراہمی، امریکی امداد کی مد میں 7 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر کی منظوری اور جاپان کی جانب سے مزید امداد کے وعدوں سے ملکی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہو گئی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2008 میں عالمی بحران کے آغاز پر پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ کھینچ لینے والے غیر ملکی سرمایہ کار واپس لوٹ رہے ہیں اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران انہوں نے 27 کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ایک سال قبل اسی مدت کے دوران اسٹاک مارکیٹ سے 17 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر نکال لیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں بیشتر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی واپسی سے دیگر سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کی ترغیب ملے گی۔
شوکت ترین نے بتایا کہ حالیہ چند ماہ کے دوران عام طور پر مثبت اشاریے دیکھنے کو ملے ہیں۔ عالمی اور ملکی معیشت کی بحالی کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں دسمبر 2009 میں ملکی برآمدات میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ مزید برآں، رواں مالی سال جولائی تا دسمبر کے عرصے کے دوران حکومت ملکی حسابات کے خسارے میں کمی لاتے ہوئے اسے 1 ارب 75 کروڑ ڈالر تک لے آئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران یہ خسارہ 7 ارب 85 کروڑ امریکی ڈالر تھا۔
انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں "شاندار" اضافے کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ ان تمام عوامل کے باعث رواں سال معتدل بحالی اور معاشی نمو کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔
یہ مثبت اشاریے ملک کی مارکیٹ کو ملکی اور عالمی اقتصادی بحرانوں کے باعث پہنچنے والے نقصان اور سرمایہ کاری کی فضا مکدر ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔
2008 میں پاکستان کو ریکارڈ تجارتی اور بجٹ خساروں کا سامنا تھا۔ مالی سال 2007 اور مالی سال 2008 کے دوران ملک کا مجموعی تجارتی اور بجٹ خسارہ 58 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ تھا۔
نومبر 2008 میں، ملک کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر تقریباً 60 کروڑ امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔ یہ رقم بمشکل ہی دو ہفتوں کی درآمدات کی ادائیگی کے لئے کافی تھی۔ اس سے تیرہ ماہ قبل، زر مبادلہ کے ذخائر 16 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح پر جا پہنچے تھے۔
ملک کے مالی حالات کی انتہائی دگرگوں صورت حال کے باعث افراتفری پھیل گئی اور ملک سے سرمایہ باہر جانے لگا جس سے روپے کی قدر مزید گر گئی۔
ملکی معیشت کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو سہارا دینے کے لئے غیر ملکی عطیہ دہندگان نے مداخلت کی۔ نومبر 2008 میں حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 7 ارب 60 کروڑ امریکی ڈالر کی مالیت کا ایک تین سالہ امدادی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ عالمی ادارے نے 2009 میں اس رقم میں مزید 11 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کر دیا۔ نومبر 2009 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 3 ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر کی ایک قسط بھی جاری کر دی جس سے پاکستان کے سر پر نادہندگی کی لٹکتی ہوئی تلوار کا خاتمہ ہوا۔
2009 میں امریکا نے کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کے لئے آئندہ پانچ سالوں کے دوران 7 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر کی مزید امداد کا اعلان کیا۔ فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان [FODP] فورم نے بھی تین سالوں کے دوران 5 ارب 60 کروڑ امریکی ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ وہ ضمانت تھی جس نے ملک کی بحالی کے امکانات پر اعتماد بحال ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔
لیکن ایک سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف غیر ملکی امداد طلب کرنے کی بجائے ملک میں اصلاحات لانے کی بھی ضرورت ہے۔ "حکومت کو کاروبار کے اخراجات میں کمی لانا ہوگی، فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان کی وعدہ کی گئی رقم کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہو گی اور مالی سال 2010 کے دوران 3 فی صد سے زائد اقتصادی نمو کا اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے توانائی کے بحران پر قابو پانا ہو گا،" سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے لاہور سے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔
ان کی رائے میں موجودہ سخت زری پالیسی، کاروباروں اور انفرادی قرض داروں کے لئے 15 سے 25 فیصد کی انتہائی بلند شرح سود پر قرض، بجلی اور گیس کا شدید بحران اور ٹیکس محصولات میں کمی سے اقتصادی نمو میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
سلمان شاہ نے تجویز دی کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور آزاد منڈی کے تصور پر مبنی معیشت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو منڈی میں اپنی مداخلت ختم کر دینی چاہیے۔ بینکوں اور اقتصادی ادارے کے حکام کو امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور کثیر الملکی عطیہ دہندگان جیسا کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے مالی سال 2010 کے دوران تقریباً تین فیصد اقتصادی نمو کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ گزشتہ سال اقتصادی نمو محض دو فیصد رہی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ملک دہشت گردی اور توانائی کے بحرانوں پر قابو پالے تو سالانہ اقتصادی شرح نمو پانچ فیصد سے بھی بڑھ سکتی ہے۔
قارئین کے تبصرے
مجھے زرداری قبول نہیں

