لاہور – اٹھائیس جولائی کو پنجاب کے شہر دیپالپور کے ایک نواحی گاؤں میں خاندانی دشمنی کے نتیجے م...افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے پچیس شہری جاں بحق
کابل – جنوب مغربی افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پچیس بس مسافر جاں بحق اور 27...کرغزستان کے انتخابات میں ایک سو اڑتالیس جماعتوں کی شرکت
بشکیک – کرغزستان میں اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے لئے 148 سیاسی جماعتوں نے اندراج کرایا ہے۔...قازقستان میں ایڈز مرکز کی دھوکہ دہی کی تحقیقات
الماتی – حکام نے قازقستان کے قومی ایڈز مرکز میں دھوکہ دہی سے متعلق دو مقدمات کا آغاز کیا ہے۔ ی...ازبکستان میں سال دو ہزار نو کے موسم گرما میں ہونے والے قتل کے واقعات پر مبنی دستاویزی فلم نشر
تاشقند – ازبکستان کے مرکزی ٹی وی چینل نے مئی کے اواخر میں ایک مذہبی شخصیت اور وزارت داخلہ کے ع...تاجک اور افغان اہلکاروں نے سال دو ہزار دس کی پہلی شمشاہی میں چھ سو تریسٹھ کلوگرام منشیات ضبط کی
دوشنبہ – سال 2010 کی پہلی ششماہی کے دوران تاجکستان کے انسداد منشیات ادارے نے افغان قانون نافذ...تاجک بینکار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جعلی تاجک کرنسی تیار ہو رہی ہے
دوشنبہ – چھبیس جولائی کو تاجک نیشنل بینک کے چیئرمین شریف رحیم زودہ نے کہا کہ تاجکستان میں افغا...تاجک حکام کا اخمدوف کی ہتھیار اٹھانے کی دھمکی پر ردعمل
دوشنبہ – تاجکستان کے کئی مبصرین نے متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق عسکری کمانڈر مرزو خدزہا اخمدو...
دوسری شادی: خواتین کے لئے سنگین مسئلہ لیکن پاکستانی قانون سازوں کے لئے مذاق
اسلام آباد -- مرد کی دوسری شادی خواتین کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے لیکن پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے قانون سازوں کے لئے یہ معاملہ تفریح کا باعث بن چکا ہے۔
پاکستانی قوانین کے تحت کسی مرد کو دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی سے واضح طور پر اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی اور شرعی قوانین میں اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے دوسری شادی پر کڑی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاہم خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایک سے زائد شادیاں کرنے کا رواج اب بھی عام ہے۔
پاکستانی خواتین پر اس وقت حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جب پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون قانون ساز ثمینہ خاور حیات نے مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی کرنے سے روکنے والے قوانین میں ترمیم لانے کے معاملے پر بڑے جوش و خروش سے اپنا مؤقف پیش کیا۔
ثمینہ حیات نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کو بتایا کہ ہمیں اس سلسلے میں موجودہ قوانین میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے اور مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
صوبائی اسمبلی میں دوسری شادی کا معاملہ فروری کے آخری ہفتے میں سرکاری محکموں میں غیر شادی شدہ خواتین کی بھرتی کے حوالے سے ایک تحریک پر بحث کے دوران اٹھایا گیا تھا۔
ثمینہ نے لاہور سے سینٹرل ایشیا آن لائن سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اب اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کروں گی اور پھر فون بند کر دیا۔
دوسری شادی کا مسئلہ قومی پارلیمان میں موجود قانون سازوں کے لئے بھی تفریح طبع کا باعث بنا ہوا ہے۔
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک زمیندار اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نبیل گبول نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اسمبلی میں بیٹھے 80 فیصد سے زائد قانون سازوں نے دو یا دو سے زائد شادیاں کر رکھی ہیں۔
گبول کے غیر مصدقہ اعداد و شمار سے اسمبلی ہال قہقہوں سے گونج اٹھا لیکن ایک سے زائد شادیاں کرنے والے کئی اراکین پارلیمان کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
پارلیمانی گیلریوں میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ وہ صرف مذاق کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بیشتر اراکین پارلیمان نے خفیہ یا اعلانیہ دوسری شادی کر رکھی ہے۔
گبول دوسری شادی کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ لے رہے تھے جو ان کی سیاسی جماعت کی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے شروع کی تھی۔
شیری رحمان نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کہا کہ یہ معزز ایوان قانون کی خلاف ورزی میں دوسری شادی کی حمایت کرنے پر رکن پنجاب اسمبلی ثمینہ خاور حیات سے استعفٰی طلب کرے گا۔
تاہم، دوسری شادی کا مسئلہ ایوان میں صدائے احتجاج بلند کرنے والے قدامت پسند علماء کے لئے ہنسی مذاق کا معاملہ نہیں تھا۔
رکن اسمبلی مولانا عبد المالک نے ایوان کو بتایا کہ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور کسی طرح کا قانون بھی اس چیز سے روک نہیں سکتا جس کی ہمیں قرآن میں واضح طور پر اجازت دی گئی ہے۔
دوسری شادی کی حمایت میں بولنے پر ثمینہ حیات پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ پہلے ہی کافی بڑھ رہا تھا اور قومی اسمبلی میں شیری رحمان کی جانب سے اس مسئلے کو بر وقت اٹھانے سے ثمینہ کا مستقبل لازمی تاریک ہو سکتا تھا لیکن نبیل گبول کی جانب سے کھری کھری باتیں کرنے سے ان کے خلاف یہ مہم کمزور پڑ گئی۔
رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر نے قومی اسمبلی میں نبیل گبول اور پنجاب اسمبلی میں ثمینہ حیات کی جانب سے اس معاملے پر ظاہر کیے گئے خیالات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی اراکین نے ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے کو تماشا بنا دیا ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ مرد کی دوسری شادی خواتین اور بچوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اس چیز کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے اراکین پارلیمان کی خواتین کے مسائل کی جانب جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
میدان سیاست میں داخلے اور عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل بشرٰی گوہر خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ثمینہ حیات غالباً اپنے شوہر سے تنگ پڑ چکی ہیں اور اسی لئے انہوں نے انہیں سر عام دو سے زائد شادیاں کرنے کا مشورہ دیا۔
لاہور میں پنجاب اسمبلی کی عمارت کے باہر ٹی وی کے ایک صحافی سے باتیں کرتے ہوئے ثمینہ نے زور دار آواز میں کہا تھا کہ خاور حیات صاحب، آپ دو، تین یا چار شادیاں بھی کر سکتے ہیں، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
بشرٰی نے کہا کہ عام اور شرعی قوانین دونوں میں مرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اسلام کی اکثر غلط تشریح کی جاتی ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ اگر میں شریعت کی تشریح کروں تو اس میں دوسری شادی کی کوئی اجازت نہیں لیکن اگر یہی کام کوئی مولوی کرے تو پھر چار بیویوں کی اجازت نکل آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں پہلی بیوی سے اجازت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
ایک گھریلو خاتون نجمہ جہاں کا کہنا تھا کہ کوئی سمجھدار خاتون ان قوانین کو منسوخ کرنے کی حمایت نہیں کرے گی جن میں پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر مرد کو دوسری شادی کرنے سے روکا گیا ہو۔
نجمہ نے کہا کہ کوئی عورت سوتن (مقامی زبان میں شوہر کی دوسری بیوی کے لئے استعمال ہونے والا لفظ) کو قبول کرنے پر موت کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے فوراً کہا کہ جب کوئی اور آپ کے شوہر کے ساتھ شریک ہوتا ہے تو آپ کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔
قارئین کے تبصرے
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ میں اس پورے معاملے پر انصاف کے تناظر میں بات کرنا چاہوں گا کیونکہ ہر وہ چیز جس میں انصاف نہیں اسلام کا حصہ نہیں ہو سکتی اور اسلام کے ناقدین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک سے زائد شادیوں کے معاملے پر نہ صرف اسلام کے ناقدین بلکہ اس کے پیروکار بھی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات اور انصاف کے حقیقی روحانی تناظر میں یہ چیز اختیاری یا واجب کی بجائے لازمی ہے۔ یہ رضائے الٰہی سے ممکن ہے، اگر کوئی اپنے اعمال کے باعث وہ مقام حاصل کر لیتا ہے جو اللہ بہتر سمجھتا ہے اور اپنے اخلاقی کردار سے حقیقی معنوں میں مومن بن جاتا ہے تو اللہ اسے حوا کی ایک سے زائد بیٹیوں کی بیوی کے طور پر کفالت کا فریضہ سونپ دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا حیثیت کی بناء پر ایک سے زائد شادیاں ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں اور خواتین اپنے شوہر سے دل و جان سے محبت کرتی ہیں کیونکہ یہ رضائے الٰہی سے ممکن ہے اور اس میں مرد کی ہم بستری کی ہوس شامل نہیں۔ ایک سے زائد شادیاں کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں بلکہ مقدس فریضہ ہے۔ مسلمانوں کو اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ اللہ نے اس موضوع پر قرآن و سنت میں واضح ہدایات دے رکھی ہیں اور ہمیں اپنے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اسلام میں اس کی اجازت ہے اور اس پر فخریہ عمل کرنا چاہیے۔ ایک مطالعے سے پتا چلا ہے کہ امریکا میں ایک اوسط مرد اپنی پوری زندگی میں شادی کے علاوہ آٹھ خواتین کے ساتھ ہم بستری کرتا ہے۔ یہ اللہ کی برکت ہے کہ ایک مسلمان حوا کی بیٹی کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے ہم بستری کرتا ہے اور اس میں صرف جنسی خواہش کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اسلام میں خواتین کو دیے جانے والے احترام کا یہ حقیقی مظہر ہے۔ اللہ میری ان بہنوں کو بھی ہدایت دے جو اسے ایک معمہ سمجھتی ہیں۔ اور وہ مرد جنہیں اللہ ایک سے زائد شادیوں کی توفیق دیتا ہے انہیں بھی اس کے ساتھ اس طرح انصاف کرنا چاہیے جس طرح کہ نظام الٰہی کا تقاضا ہے۔ آمین!
اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو سچے جذبے سے اسلام کے احکامات پر عمل کرنا پڑے گا ورنہ اسلام کا ٹھپہ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وسیم
ہم مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآن اور سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ کوئی بھی قرآن کریم میں دیے گئے احکامات میں تحریف کی جرات نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے بیشتر قوانین غیر اسلامی ہیں۔ یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ اسلامی قوانین پر مکمل طور سے عمل نہیں کیا جاتا۔ ہمارے دلوں میں خشیت الہٰی نہیں اور اسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بلاشبہ، اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کر سکے۔ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خلفائے راشدین، علماء و مشائخ یا بزرگان دین کی جانب سے احادیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ یہی حال طلاق کا ہے اور اس کے لئے بھی کسی کی اجازت کی قطعی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی دے اور منافقت کا خاتمہ کرے، آمین۔
ایک شادی کے برعکس ایک سے زائد شادیاں سادہ لفظ نہیں ہے۔ پاکستانی پارلیمان میں اس وقت زیر بحث مسئلہ ایک سے زائد بیویاں رکھنے کا ہے نہ کہ ایک سے زائد شادیوں کا۔ ایک سے زائد شادیوں سے عام طور پر یہ مراد ہے کہ I۔ ایک شوہر، کئی بیویاں II۔ ایک بیوی، کئی شوہر III۔ گروہ کی صورت میں شادیاں یعنی کئی شوہر، کئی بیویاں۔ چنانچہ اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے آپ کو ایک شوہر، کئی بیویوں کا حوالہ دینا چاہیے جو کہ اسلام میں کثیر ازواجی کی واحد قابل قبول شکل ہے جس میں سابقہ بیوی/بیویوں کی مکمل رضامندی شامل ہوتی ہے۔ اسلام شوہر کو اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف روا رکھنے کی تلقین کرتا ہے اور مزید یہ کہتا ہے کہ انصاف قائم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، پاکستان میں صنفی شرح 100 مردوں کے مقابلے میں 108 خواتین ہیں۔ چنانچہ ایک شوہر، کئی بیویوں کے معاملے میں کوئی بدنامی نہیں ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں عمومی طور پر مطمئن، سماجی انصاف کے حامل اور زنا سے پاک معاشرے کا قیام ضروری ہے۔ بیواؤں، غیر شادی شدہ خواتین یا دیگر خصوصی معاملات میں ایک سے زائد خواتین سے شادی سرطان کی بجائے علاج ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ اسے ہر کسی کے لئے اجازت نامہ کیوں تصور کرتے ہیں اور ہمارے قانون ساز اس طرح کے سنجیدہ معاملے کا مذاق کیوں اڑاتے ہیں۔ ہمیں اس معاملے میں واضح سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے اور معزز قانون سازوں کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔
ایک سے زائد شادیوں کے مسئلے پر سیاق و سباق سے ہٹ کر بحث نہیں کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں اس کی مخصوص حالات میں اجازت دی گئی ہے اور اس کا مقصد جنسی خواہش کی تکمیل نہیں۔ خواتین کے بیوہ اور غلام ہونے کی صورت میں اس کی اجازت ہے نہ کہ ہر ملا کو اچھا وقت گزارنے کے لئے۔ تاہم، عمرانیاتی نقطہ نظر سے انسانی فطرتاً زنا کار ہے اور طبی نقطہ نظر سے یہ مرد عورت کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ شعور اور تاریخ کے لحاظ سے ارتقاء کی منازل طے کرنے والے انسانوں کو اس کی بھاری ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کی خاص رحمت تھی اور ان کی سوچ کا مطالعہ کرنے اور پھر دونوں پس مناظر کو سامنے رکھتے ہوئے جذبات اور تصادم کے بغیر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب تعریف اللہ کی ہے۔
ہمیں اپنے عظیم مذہب اسلام کا تمسخر نہیں اڑانا چاہیے۔ اسلام میں ایک سے زائد شادیوں کی کڑی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ہمیں پہلے قرآنی احکامات کا مطالعہ کرنے کے بعد رائے زنی کرنی چاہیے۔ ہمیں مغرب میں زنا کے اعداد و شمار اور خبروں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے جہاں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی ہے۔ ہم جدیدیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی مرضی سے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں تحریف نہیں کر سکتے یا مذہب کو دوش نہیں دے سکتے۔ نبیل گبول یا شیری رحمان کو اس موضوع پر دسترس حاصل نہیں ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی ثمینہ خاور میں سچ بولنے کی تاب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سچ کی بالادستی پر انہیں سلام پیش کریں اور ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کریں۔
ایک سے زائد شادی انتہائی مکروہ فعل ہے۔ معاشرے کے بعض آوارہ مزاج لوگ اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے قرآن اور سنت کی خود ساختہ تشریح کے ذریعے اس کا جواز پیش کرتے ہیں۔ ایک پرمسرت اور مطمئن زندگی گزارنے کے لئے ایک شادی سے بڑھ کر اچھی کوئی چیز نہیں۔ ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محبت، مدد اور باہمی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر یہ دونوں مقناطیسی قوتیں ایک دوسرے کے لیے وفاداری اور ایثار کا جذبہ رکھتی ہوں تو پھر دوسری شادی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگرچہ دوسری شادی بروقت یا غیر ضروری خدشات کے باعث کی جاتی ہے، تاہم ہم میں دوسری شادی کا جواز پیش کرنے کا شعوری رجحان پایا جاتا ہے۔ علی عمران چدھڑ 0300-7070494
شریعت اسلامی کے مطابق، دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی مرضی یا اجازت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام میں مسلمان مرد پر زنا سے بچنے کے لئے زیادہ بیویاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں بشرطیکہ وہ ان میں انصاف کر سکتا ہو۔ قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے یہ نقطہ نظر جاننے کے لئے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور دینی علماء سے مشاورت کی ہے اور مجھے مسلمان مرد پر دوسری شادی کی کوئی پابندی نہیں ملی۔ علاوہ ازیں، پہلی بیوی کی اجازت یا مرضی کا تصور بھی پاکستان کے مسلم عائلی قانون میں متعارف کردہ غیر اسلامی شق سے آیا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ خواتین کے پاس عصمت فروشی اپنانے سے بہتر راستہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کرنا ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ چیز پہلی بیوی سے قربانی مانگتی ہے لیکن اس سے معاشرے میں خوشیاں آئیں گی۔ میں اسلامی تعلیمات پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن اور سنت کی پیروی میں کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہے۔ یہ تصور خدا نے دیا ہے اور اس نظریے میں وابستہ مفادات پوشیدہ ہیں اور یہ چیز سماجی ڈھانچے کے لئے مفید ہے، چاہے ہم اپنی کمتر ذہنی صلاحیت کی بناء پر اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ نعوذ باللہ، اللہ ظالم نہیں ہے اور وہ مردوں اور عورتوں دونوں کا خدا ہے۔ چنانچہ وہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے اس چیز کو انتہائی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ میرے والد، دادا، سسر اور دیگر رشتہ داروں میں سے ہر ایک نے دو دو شادیاں کر رکھی ہیں اور وہ خوش باش زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ناجائز سرگرمیوں کی بجائے اسلامی شریعت پر عملدرآمد مشکل نہیں ہے۔ میں بھی دوسری شادی کے لئے مکمل تیار ہوں اور اگر کوئی شخص مجھ سے کسی مسلمان مطلقہ، بیوہ، غیر شادی شدہ خاتون کے رشتے کے سلسلے میں رابطہ کرنا چاہتا ہے یا دوسری شادی کے فیصلے کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو میرا پتا درج ذیل ہے۔ حسنین، اسلام آباد، dreamperishes@yahoo.com

