-
ترکمانستان میں صحت بخش خوراک کا پروگرام منظور
-
افغانستان میں ترکی کا کردار برقرار
-
فاٹا میں دو ہزار تیرہ کے اختتام تک پولیو کے خاتمے کا امکان، حکام
-
کرغیزستان میں اسلحہ قوانین سخت کرنے پر غور
ایک انوکھا خواب جو حقیقت بن گیا
للی جے لارنس
2008-08-05
ڈاکٹر سپوجمائی نے گذشتہ ایک دہائی سے یہاں کے مقامی شہریوں کی دیکھ بھال و خدمت جاری رکھی ہوئی ہے، چاہے حالتِ جنگ ہو، قحط ہو یا سیاسی افراتفری۔
"طالبان، مجاہدین، یہ الفاظ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے – میں سیاست پسند نہیں کرتی ۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ میں بیمار لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں،" سپوجمائی کہتی ہیں۔ "میں نے اس وقت ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا تھا ہوں جب میں صرف ایک چھوٹی سی بچی تھی۔"
اس وقت صوبے میں صرف ایک اور خاتون ڈاکٹر ہے، لیکن ماضی میں تو کوئی بھی نہیں تھی۔ 1996 میں پہلی بار اسکے کُنَڑ آنے کی وجہ جزوی طور پہ شاید یہی بات تھی۔ "میں یہاں کئی وجوہات کی بناء پر آئی تھی،" وہ بتاتی ہیں۔ "میرا شوہر کُنَڑ سے تعلق رکھتا ہے اور ہم یہاں رہنا چاہتے تھے۔ مزید برآں، کُنَڑ میں کوئی بھی پیشہ ور ڈاکٹر نہیں تھا، خصوصاً خاتون ڈاکٹر، اور لوگوں کو اس سلسلے میں مدد کی شدید ضرورت تھی۔ میں ان لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔"
1996 تک کُنَڑ کے حالات انتہائی ابتر ہوچکے تھے۔ مجاہدین کے مختلف گروہ آپس میں نبرد آزما تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ پاکستان کی طرف ہجرت کرچکے تھے۔ " کُنَڑ میں کوئی بھی مناسب ڈاکٹر نہیں تھا اور لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت تھی، " اس نے بتایا۔ چنانچہ، وہ اور اسکا شوہر وہاں منتقل ہوگئے اور کام شروع کر دیا۔
سپوجمائی تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں، "جب میں کُنَڑ پہنچی تو وہاں کے ھسپتال میں خواتین کا کوئی الگ شعبہ نہیں تھا۔ یہ صورتحال میرے اور مریضوں دونوں ہی کے لیے خطرناک تھی ۔ ہم نے خواتین کا شعبہ قائم کیا ۔ ھسپتال کا سربراہ ایک مُلّا تھا، نہ کہ کوئی پیشہ ور فرد۔" وہ مزید بتاتی ہیں، " میں دن کے اوقات میں 3 یا 4 گھنٹے کام کیا کرتی تھی، اور اسکے بعد مریض میرے گھر پہ آتے تھے۔ میں ھسپتال کی مستقل ملازم تھی، مگر تنخواہ بہت ہی کم تھی۔ پھر طالبان آگئے۔ وہ وقت لوگوں کے لیے بہت خطرناک تھا، بے حد وحشتناک۔ لیکن طالبان کو بھی پتہ تھا کہ ہمیں یہاں خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، اسلئیے انہوں نے مجھے وہاں رہنے کی اجازت دے دی۔"
کُنَڑ کے ہر ضلع سے مریضوں نے جوق در جوق ھسپتال آنا شروع کردیا۔ "طالبان رات کے وقت لوگوں کو نہیں آنے دیتے تھے، مگر میں ھسپتال آکر انہیں نسخے لکھ دیتی تھی۔" 50 سے زائد خواتین روزانہ مدد کے لیے وہاں آتی تھیں، اور وہ ان سب کی مدد کے لیے کوشاں رہتی تھی۔ بیرونی ادارے مدد و اعانت کی پیشکشیں تو کرتے تھے، مگر انکےخود اپنے بہت مسائل تھے۔
AMI [ایک فرانسیسی طبی ادارہ] 1996 میں وہاں آیا اور اس نے زیادہ تنخواہوں اور بہتر سہولتوں کے ذریعے حفظانِ صحت کے نظام کی اعانت شروع کردی ۔ لیکن ایک سال بعد ہی طالبان نے انکے عملے کے ایک غیرملکی کارکن کو گرفتار کرلیا یوں AMI نے کُنَڑ میں اپنا پروگرام ختم کردیا۔" یوں سپوجمائی صرف ایک دائی کے ساتھ دوبارہ اکیلی رہ گئی۔ وہاں مرد ڈاکٹر ملازم تھے، اور ایسے کام بھی کیا کرتے تھے جو عموماً عورتوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، "مثلاً پیدائش کے شعبہ میں دائیوں کا کام،" مگر زیادہ تر شوہر مرد ڈاکٹر کو اپنی بیویوں کو دیکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیتے تھے۔
"کُنَڑ کے مقامی لوگوں میں یہ ناممکن ہے کہ انکی عورتیں کسی مرد ڈاکٹر سے علاج کروائیں، لہٰذا کتنی ہی عورتیں اس وجہ سے گھروں میں بیمار پڑی رہتی تھیں،" اس نے بتایا۔ سڑکوں کی حالت بھی بہت خراب تھی، جسکی وجہ سے بہت سے لوگ سفر کرنے سے گھبراتے تھے۔
ان دنوں کے مقابلے میں اب صورتحال کافی بہتر ہوگئی ہے۔ طالبان کے خاتمہ کے بعد بہت سے ادارے مدد کے لیے آگے آئے ہیں اور حفظانِ صحت کی سہولتیں اب ہر ضلع میں دستیاب ہیں۔ وزارتِ صحت، کُنَڑ کی صوبائی تعمیری ٹیم، اور AMI سب باہم مل کر کُنَڑ کے حفظانِ صحت کے نظام میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں۔
"جب میں یہاں آئی تو لوگوں کے لیے یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں بہت خوش ہوں کہ اب ہمارے پاس پیشہ ور ڈاکٹر اور بہترین سازوسامان موجود ہے"۔ وہ آگے کہتی ہیں، "اب میں یہاں کی صورتحال سے کافی مطمئن ہوں۔ جب میں پہلی بار یہاں آئی تو یہاں کچھ نہیں تھا، کوئی سازوسامان بھی نہ تھا۔ اب یہاں سب ضلعوں میں مجموعی طور پہ 23 کلینک ہیں، جن سب میں حاملہ خواتین کے لیے علیحٰدہ شعبہ جات موجود ہیں۔ اسد آباد میں اب 2 خاتون ڈاکٹرز، 6 دائیاں، 3 ھیلتھ ورکرز، اور 2 حفاظتی ٹیکوں والیاں موجود ہیں- اور وہ سب عورتیں ہیں۔ اب یہ سب بہت کافی ہے۔ اگر مزید ایک خاتون ڈاکٹر آجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔"
سپوجمائی مزید کہتی ہیں، "ماضی میں ہمیں کُنَڑ میں کام کرنے کے لیے کوئی تربیت یافتہ خواتین نہیں ملتی تھیں، چنانچہ پاکستانی خواتین یہاں آکر کام کرتی تھیں .ہمیں یہاں کے مقامی خاندانوں کی مدد و حوصلہ افزائی کی بہت ضرورت ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں"، ڈاکٹر سپوجمائی کہتی ہیں۔ "ہم مقامی خاندانوں سے بات چیت کرتے رہتے ہیں، اور انہیں سمجھاتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول جانے سے ہرگز نہ روکیں۔"







![پشاور میں ایک کمہار 22 مئی کو ایک بھٹی میں پکانے سے پہلے پھولوں کے گملے کی نوک پلک سنوار رہا ہے۔ [ظاہر شاہ]](/shared/images/2013/05/24/pakpot-230_184.jpg?1369394104)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )