احمدی نژاد نے دعوی کیا کہ ایران یورینیم کی مزید افزودگی کو جاری رکھے گا
صدر احمدی نژاد نے دو دسمبر کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران یورینیم کو بیس فیصد تک افزودہ کرنے کے اپنے منصوبے پر قائم رہے گا۔ بین الاقوامی برادری کا طویل مدتی خوف ہے کہ ایران کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے۔
الشورفہ آن لائن اور خبر رساں ادارے
2009-12-05
تہران — صدر احمدی نژاد نے دو دسمبر کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران یورینیم کو بیس فیصد تک افزودہ کرنے کے اپنے منصوبے پر قائم رہے گا۔ بین الاقوامی برادری کا طویل مدتی خوف ہے کہ ایران کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا ہے۔
عالمی طاقتوں کے ساتھ گفت و شنید میں تلخی آ گئی ہے اور ایران نے کہا ہے کہ وہ یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے مزید دس پلانٹ لگائے گا۔ سویلین ایٹمی توانائی کے لیے یورینیم کو تین فیصد تک افزودہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیم کو نوے فیصد تک افزودہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایران کا دعوی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر سویلین مقاصد کے لیے ہے۔
ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے گفت و شنید کرنے والے ممالک نے تجویز پیش کی تھی کہ سویلین نیو کلیر انرجی کے لیے یورینیم کی افزودگی کی نگرانی کی جا سکتی ہے اگر ایران اپنے یورینیم کو روس کے حوالے کر دے جو اس عمل کو منظم کرے۔ مگر ایران نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف اپنی سرحدوں کے اندر ہی ایندھن کی بیک وقت منتقلی پر رضامند ہو گا۔
اصفہان میں اپنے دو دسمبر کےخطاب میں احمدی نژاد نے کہا کہ ایران جن ممالک سے مذاکرات کر رہا ہے، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس جو کہ پی فائیو پلس ون کہلاتے ہیں، نے بہت زیادہ شرائط عائد کی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی طرف سے منظور کی جانے والی قرار داد کی مذمت کرتے ہوئے اسے "غیر قانونی" قرار دیا جس میں ایران پر یورینیم کی افزودگی کے ایک کارخانے کو خفیہ طور پر تعمیر کرنے کے سلسلے میں تنقید کی گئی تھی۔
ایران نے اُنتیس نومبر کو اعلان کیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے دس مزید پلانٹ تعمیر کرے گا اور اس کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس نے اس مذمت کے جواب میں اٹھایا ہے۔ اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسا کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہیں۔
احمدی نژاد نے کہا کہ اسرائیل اور مغرب "ایران کے ایٹمی کام کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں"۔
روس جو کہ پہلے ایران کا اتحادی تصور کیا جاتا تھا، نے آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے ووٹ میں شرکت کی تھی جس میں قم کے پہاڑوں کے نزدیک دوسرے نیوکلیئر پلانٹ کو چھپانے پر ایران کی مذمت کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں احمدی نژاد نے یکم دسمبر کو کہا کہ اس نے تہران پر تنقید کر کے "ایک غلطی" کی ہے۔
اقوام متحدہ کی موجودہ پابندیوں کا مقصد ایسی چیزوں اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کو روکنا ہے جس سے یورینیم کی افزودگی یا ایٹمی ہتھیاروں کی ڈیلیوری کے نظام کو بنانے میں مدد ہو سکے۔ یہ پابندیاں حقیقی فروخت یا فراہمی یا مخصوص افراد کے ساتھ تعلق رکھنے پر عائد ہیں۔
[بی بی سی]












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )