قازقستان میں گوشت کی پیداوار میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی کوششیں

سال 2020 تک سالانہ 1 لاکھ 80 ہزار ٹن گوشت برآمد کرنے کا منصوبہ

الیگزینڈرا باب کینا

2012-02-06

الماتی – قازقستان نے سال 2020 تک گوشت کا ایک بڑا برآمدی ملک بننے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس وقت ملک میں برآمد کی غرض سے اضافی گوشت دستیاب نہیں ہے تاہم حکام کو توقع ہے کہ قازقستان آئندہ پانچ سالوں کے دوران برآمد کرنے کے لئے سالانہ 60 ہزار ٹن جبکہ 2020 تک 1 لاکھ 80 ہزار ٹن گوشت حاصل کر سکے گا۔

سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اس منصوبے کو شروع کرنے کا مقصد ملک کی گوشت کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے تا کہ اپریل میں منظور کیے جانے والے ریاستی پروگرام برائے ترقی ء مویشی بانی کی مدد کی جا سکے۔ پروگرام کے ابتدائی پانچ سالوں کے دوران حکام اس منصوبے کے لئے 1 سو 30 ارب قازق ٹینگے (87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) کے لگ بھگ رقم مختص کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

'ہم مویشیوں کی افزائش نسل میں ناکام ہو چکے ہیں'

شماریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ 20 سالوں کے دوران قازقستان میں مویشیوں کی تعداد 97 لاکھ سے کم ہو کر 60 لاکھ رہ گئی ہے۔ گوشت کی سالانہ پیداوار 1990 میں 7 لاکھ 9 ہزار 6 سو ٹن ہوا کرتی تھی جو 2010 میں کم ہو کر 3 لاکھ 96 ہزار 90 ٹن رہ گئی۔

گوشت کی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ چلانے والی قاز ایگرو نیشنل ہولڈنگ کمپنی کی نائب انتظامی خاتون سربراہ آئیگل احمت زہانوفا نے شاکی لہجے میں کہا کہ 1990 میں قازقستان 1 لاکھ 80 ہزار ٹن گوشت برآمد کرتا تھا جبکہ گزشتہ سال یہ زیادہ سے زیادہ ایک ٹن رہا۔

دریں اثناء گوشت کی درآمدات میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ 1990 میں ملک میں 6 ہزار ٹن گوشت درآمد ہوا جبکہ 2011 میں درآمد ہونے والے گوشت کی مقدار تقریباً 20 ہزار ٹن تھی۔

گوشت کے تاجروں کی ایسوسی ایشن، گوشت یونین، کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر عیسٰی ابزہپار نے بتایا کہ سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد مویشیوں کے ریوڑوں اور مرغیوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ صنعت صرف ملکی ضروریات کو ہی پورا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مویشیوں کی افزائش نسل میں ناکام رہے ہیں اور اب آہستہ آہستہ اس بحران سے باہر نکل رہے ہیں۔

ابزہپار نے کہا کہ اس پروگرام پر پہلے عمل درآمد کرنا چاہیے تھا۔ اگر ہم مزید چند سال انتظار کرتے تو مویشی بانی کی بحالی تقریباً ناممکن ہو جاتی۔

گوشت یونین کے بورڈ کے ایک رکن الیگزینڈر سولیولیف نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آزادی کے 20 سالوں میں ہم نے کافی اقتصادی کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر مویشی بانی ان میں شامل نہیں۔ یہ وہ صنعت تھی جو تاریخی اعتبار سے قازقستان کا حصہ تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں قازقستان میں مویشی بانی کا شعبہ عالمی لحاظ سے کافی پیچھے رہ گیا ہے۔ اگر مزید کچھ عرصہ یہی صورت حال رہی تو ہم سو فی صد گوشت درآمد کرنے والا ملک بن جائیں گے۔

انفرادی فارموں کا غلبہ

قازقستان میں گوشت کی پیداوار کو درپیش ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ 82 فی صد مویشی چھوٹے پیمانے پر انفرادی فارموں میں مرتکز ہیں۔

احمت زہانوفا نے کہا کہ قازقستان میں گوشت کی زیادہ تر مصنوعات وہ عام اور کم پیداواری چھوٹے فارم فراہم کر رہے ہیں جنہیں صرف اپنے مالکان کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ غیر ملکی منڈیوں میں چھوٹے انفرادی فارموں کی مصنوعات غیر مسابقتی ہوتی ہیں۔

ملک کے صرف 18 فی صد مویشی ہی بڑے اور بین الاقوامی مسابقتی فارموں میں پائے جاتے ہیں۔

قازقستان میں اچھی نسل کے مویشیوں کی شرح بھی خاصی کم یعنی 2 فی صد ہے۔ وزارت زراعت میں مویشیوں کی افزائش نسل اور حیوانات کی صحت کے تحفظ کی ڈائریکٹر رابیگا توکسائتوفا نے کہا کہ اس کے مقابلے میں امریکا، برازیل اور ارجنٹائن میں یہ شرح بالترتیب 80، 75 اور 72 فی صد ہے۔

دیگر اہم مسائل میں مویشی بانوں کے بقول خوراک کی پیداوار کے مسائل کی وجہ سے مویشیوں میں گوشت کی کم پیداوار، جانوروں کی صحت کی ناقص دیکھ بھال اور افزائش نسل کے فرسودہ طریقے شامل ہیں۔

قدرتی فوائد سے صنعت کی ترقی میں مدد ملے گی

توکسائتوفا کا اصرار تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کی ناسازگار تصویر کے باوجود قازقستان کی مویشیوں کی افزائش نسل کی صنعت میں غیر معمولی برآمدی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس قدرتی مسابقتی فوائد مثلاً منڈیوں تک رسائی، موزوں آب و ہوا اور بڑی بڑی چرا گاہیں موجود ہیں۔

قازقستان میں تقریباً 18 کروڑ 22 لاکھ ہیکٹر رقبے پر قدرتی چرا گاہیں موجود ہیں جن میں سے آج کل صرف بیالیس تینتالیس فی صد استعمال کی جاتی ہیں۔

توکسائتوفا کے بقول ایک اور چیز جو قازقستان کے حق میں جاتی ہے وہ یہ ہے کہ قازق عوام کو مویشی بانی اور خانہ بدوش طرز زندگی گزارنے کا قدیم تجربہ ہے۔

سولیولیف نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے پیداواری اخراجات کم رکھنے کے قابل بنانے والی وسیع و عریض چرا گاہوں اور چین اور روس کی ہمسایہ منڈیوں کے باعث مویشیوں کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں کافی زیادہ مدد ملے گی۔ ہمیں ان قدرتی فوائد کو دانش مندی سے استعمال کرنا ہو گا۔

مویشیوں کی تعداد میں اضافہ، جانوروں کی افزائش نسل میں بہتری

منصوبے کا ہدف گوشت کی برآمدات بڑھانا، تجارتی ریوڑوں کی ترقی، مویشیوں کی جینیاتی صلاحیتوں اور پیداواری خصوصیات میں اضافہ کرنا اور جدید صنعتی ڈھانچہ قائم کرنا ہیں۔

پہلے مرحلے کا مقصد گوشت کی زیادہ پیداوار والے مویشیوں کے ریوڑوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک دشوار کام ہے کیونکہ قازقستان میں گوشت والے مویشیوں کی تعداد کم ہے۔

قازقستان کی نیشنل ایگریرین یونیورسٹی کے پہلے نائب ریکٹر کانات تائریوف نے کہا کہ ملک میں عمدہ نسل کے مویشیوں کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے مگر اسے تیزی سے بحال کیا جا سکتا ہے۔

گوشت کی اعلٰی پیداواری اقسام کے بیلوں سے ملک کے مویشیوں کا ملاپ کرا کے قازقستان میں مویشیوں کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ قاز ایگرو کے مطابق ملک اس مقصد کے لئے دنیا سے گوشت کے 72 ہزار بہترین مویشی درآمد کرے گا۔

تائریوف نے کہا کہ خوراک کی تیاری میں بھی بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ وزارت زراعت نے ملک بھر میں خوراک کی تیاری کا ایک پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں موسمیاتی علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چارے کی فصلیں کاشت کرنے اور چارے کے بیجوں کی پیداوار کے نظام سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔

فارموں پر سرمایہ کاری

مویشیوں کی افزائش نسل میں انتہائی معمولی کردار ادا کرنے والی فارموں کو امداد بھی اس منصوبے کا ایک کلیدی عنصر ہے۔

کاشت کاروں کی مدد کے لئے قاز ایگرو نے سازگار شرائط پر قرضوں کا ایک نظام سیباگا شروع کیا ہے تا کہ وہ افزائش نسل کے لئے گائیں اور بیل خرید سکیں۔

زراعت کے لئے مالی امداد کی فاؤنڈیشن کے ایک خود مختار ڈائریکٹر بولات اتیپ بائیف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارموں کے لئے قرض کا حصول ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں کاشت کاروں کے پاس رہن رکھوانے کے لئے املاک کا نہ ہونا اور تجارتی بینکوں کا مسائل کے شکار قرض لینے والے افراد کو قرض دینے میں تذبذب شامل ہیں۔

سیباگا پروگرام کے تحت کاشت کاروں کو سالانہ 6 فی صد شرح سود پر آسان قرضے دیے جاتے ہیں اور مویشیوں کو رہن رکھا جاتا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 27)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • میں جانوروں کا فارم بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے قرض کہاں سے ملے گا؟

    April 18, 2012 @ 02:04:31PM жумабай
  • اچھا پروگرام ہے!!!

    February 8, 2012 @ 12:02:28PM малик