تاجک وزارت محنت کی بیروزگاری کے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیروزگار افراد کو نئی تربیت کی ضرورت ہے

فرومرزی اولا مفروز

2012-02-08

دوشنبہ – تاجکستان میں جہاں شہری اکثر بیروزگار رہنے اور روس کو نقل مکانی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں، سرکاری حکام بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ملک کی 76 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 60 فی صد افراد کام کرنے کی عمر کے ہیں مگر ان میں سے صرف 55 ہزار نے بیروزگار افراد کی حیثیت سے اندراج کرا رکھا ہے۔ تاہم حکام اور تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ بیروزگاروں کی حقیقی تعداد اس سے کم از کم 10 گنا زیادہ ہے۔ تاجکستان کے 10 لاکھ کے قریب شہری روس اور قازقستان میں ملازمتیں کر رہے ہیں یا پھر کام کی تلاش میں ہیں۔

وزارت محنت و سماجی تحفظ کو امید ہے کہ اس مسئلے کو مقامی سطح پر روزگار کی فراہمی اور 2011 میں ملک بھر میں کھولے جانے والے نئی تربیت کے مراکز کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔

دوشنبہ کے ایک رہائشی اکبر نے ان 19 مراکز میں سے ایک میں قسمت آزمائی۔ تاجک نیشنل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اکبر ملازمت تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ جب انہیں سیکورٹی گارڈ کی ملازمت کی پیشکش کی گئی تو اس ملازمت کے لئے کمپیوٹر اور مواصلاتی نظاموں کے بارے میں آگاہی لازمی تھی۔

نئی تربیت کے کورسز مکمل کرنے والے اکبر نے بتایا کہ سوویت دور میں گارڈز کا کام کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کی ذمہ داری صرف غیر مجاز لوگوں کو عمارتوں سے دور رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ بجلی کے تمام آلات بند ہیں۔ مگر اب یہ بالکل مختلف ہو چکا ہے۔

نئی تربیت کے مراکز کے ڈائریکٹر علی شیر فرو مرزوف نے کہا کہ ان مراکز میں 40 پیشوں کے لئے تربیت دی جاتی ہے جن میں تارکین وطن محنت کشوں کے لئے مفید پیشے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں کو بھی ان مراکز میں تربیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اپنے حالات سدھارنے کے لئے دیگر ملکوں کو نقل مکانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

فرو مرزوف نے کہا کہ 40 میں سے پندرہ پیشوں کی روس کی منڈی میں مانگ ہے اور ان مراکز سے فارغ التحصیل ہونے والے 27 فی صد افراد تارکین وطن محنت کش بن جاتے ہیں۔

فرو مرزوف نے کہا کہ ہم لڑکیوں کو ریستوران کے کاروبار اور یورپی اور تاجک کھانے پکانے، کمپیوٹر کی صلاحیتوں، اکاؤنٹنگ، انگریزی اور بال سنوارنے کے کورسز کراتے ہیں۔ لڑکوں کو برقی آلات کی دیکھ بھال، پلمبنگ، صراف، بیرا گیری اور بار ٹینڈر کے ہنر سکھائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں نے مراکز کے اساتذہ کو جرمنی اور کرغزستان میں تین ماہ دورانیے کے تربیتی کورسز کرانے کے لئے مالی امداد فراہم کی۔

تاجک صدر امام علی رحمان کے حکم پر ان مراکز میں 40 ہزار تاجک باشندوں کو بلامعاوضہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ فرو مرزوف نے کہا کہ اپنے قیام کے نو ماہ میں یہ مراکز پہلے ہی 34 ہزار کارکنوں کو تربیت فراہم کر چکے ہیں۔

فرو مرزوف نے کہا کہ ہمارے لئے ایک اہم کام تارکین وطن محنت کشوں کو کسی نہ کسی قسم کے ہنر کی تربیت فراہم کرنا ہے کیونکہ وہ اکثر کم ہنر یافتہ افرادی قوت پر مشتمل ہوتے ہیں۔

فدوکور نامی غیر سرکاری تنظیم کی ڈائریکٹر دلبر حلیلوفرا نے کہا کہ بعض مسائل بھی پیش آتے ہیں کیونکہ ان مراکز کی اسناد حقیقی ڈپلومے نہیں ہیں اور ان مراکز کے پاس لائسنس بھی نہیں ہیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ملک کی اپنی اور روسی کمپنیاں ان اسناد کو اہمیت نہیں دیتیں۔

حلیلوفرا کی غیر سرکاری تنظیم نے دور دراز علاقوں میں زیادہ تر نوجوان لڑکیوں کو کم از کم کچھ پیشہ وارانہ تربیت دینے کے لئے متعدد مراکز کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنیادی طور پر انہیں سلائی کڑھائی اور کھانا پکانا سکھاتے ہیں۔ یہ کوئی بہت اہم صلاحیتیں نہیں ہیں مگر ان سے پھر بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

سماجی مسائل پر لکھنے والے ایک فری لانس صحافی ثریو شدوزہت نے کہا کہ ان کورسز کی تربیت حاصل کرنے والے بیشتر افراد نجی شعبے میں کام ڈھونڈ لیتے ہیں کیونکہ سرکاری شعبے میں صرف سرٹیفکیٹوں کی مدد سے ملازمت تلاش کرنا دشوار ہوتا ہے۔

فرو مرزوف نے کہا کہ مراکز تربیت سے فارغ ہونے والے افراد کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ انہیں وزارت محنت و سماجی تحفظ کے منعقد کردہ مختلف ملازمتی میلوں میں بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے نو ماہ میں 1 ہزار 5 سو 17 ملازمتی میلے منعقد ہوئے جن سے 4 ہزار سے زائد افراد کو ملازمتیں ڈھونڈنے میں مدد ملی۔

ایک ماہر عمرانیات مسلمہ لطیپوفا نے کہا کہ یہ میلے اور کورس خاص طور پر حال ہی میں اسکول یا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کے لئے مفید ہیں کیونکہ انہیں کسی قسم کی تربیت اور ملازمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان کے لئے معاشرے میں اپنا مقام بنانا آسان ہو جائے گا۔

دوشنبہ میں نئی تربیت کے ایک مرکز سے فارغ التحصیل ہونے والی عزیزہ نے بتایا کہ اب وہ کپڑے سی کر اپنا اور اپنے دو بچوں کا پیٹ پال سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے میری کم عمری ہی میں شادی کر دی تھی اور اس وجہ سے میں اسکول کی تعلیم مکمل نہ کر سکی۔ پھر میرے شوہر نے ایک اور عورت کی خاطر مجھے چھوڑ دیا اور مجھے اپنے دو بچوں سمیت گھر سے نکال دیا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ اس مرکز میں تربیت نے مجھے زندگی گزارنے کا حوصلہ دیا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 6)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ پیشہ وارنہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس خطے سے کوئی واضح تعداد تو نہیں ملی اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہ کہ انہوں نے تعلیم کے لیے کتنی رقم ادا کی۔ کیا انہوں نے اس پروگرام کےلیے غیر جانبدارانہ ذرائع سے سروے کرایا ہے؟ کیا یہ اعدادوشمار حقیقی ہیں؟

    February 15, 2012 @ 12:02:05AM сабохат