دوشنبہ اوپیرا اور بیلے تھیٹر شائقین کو دوبارہ راغب کرنے کے لیے پُر امید
تھیٹر کی بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے لیکن اسے نوجوان رقاصوں کی ضرورت ہے
رخشونہ ابراگیموفا
2010-03-13
دوشنبہ – ایک وقت ایسا تھا کہ تاجک بیلے کمپنی کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی اور اس کے کھیلوں کے ٹکٹ کافی عرصہ قبل ہی فروخت ہو جایا کرتے تھے۔
کئی سال کی خانہ جنگی اور دربدر ہونے کے بعد اب تاجکستان کی بیلے رقاصائیں اور اوپیرا گلوکار نصف خالی تھیٹروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر تے ہیں۔ لیکن صدر الدین عینی اسٹیٹ اوپیرا اور بیلے تھیٹر کی انتظامیہ اپنے شاندار ماضی کے دنوں کو واپس لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ضروری مرمت کا کام سر انجام دینے کے بعد موسم بہار 2009 میں اس تھیٹر کا دوبارہ آغاز ہوا۔ مرمت کا کام صدر امام علی رحمان کی ہدایت پر عمل میں آیا جنہوں نے 2004 میں اس شکستہ ہال عمارت کی تزئین و آرائش کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
دوشنبہ کی ایک رہائشی مستونا رخمون کلوفا نے اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ دوبارہ آغاز کے بعد دون کوئیکسوت نامی پہلا بیلے کھیل پیش کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ کچھ افسوس کی بات تھی کہ تاجک رقاصوں نے مرکزی کرداروں میں اپنے فن کے جوہر نہیں دکھائے۔ اس کی بجائے کرغزستان سے تعلق رکھنے والے رقاص پیش ہوئے۔
وزارت ثقافت کی فنون سے متعلق نظامت کے سربراہ گل مرود مالیئیف کے مطابق، 1942 میں تعمیر ہونے والے اس تھیٹر کی تزئین پر 55 لاکھ تاجک سوم (13 لاکھ امریکی ڈالر) لاگت آئی ہے۔
مالیئیف نے بتایا کہ دوبارہ آغاز کے بعد ہم نے اوپیرا میں رودکی اور آئیدہ کے غنائیہ کھیل پیش کیے۔ اٹلی سے تعلق رکھنے والے موسیقی کے ہدایت کار جیرارڈو کولیلا کو تھیٹر میں مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اطالوی زبان میں آئیدا پیش کیا۔ جلد ہی تاجکستان کے شائقین فرانسیسی زبان میں کارمن دیکھیں گے۔ ان میں سے ہر مظاہرے میں بیلے کے حصے شامل ہیں۔
تھیٹر کے ہدایت کار خول اخمد مجیدوف نے بتایا کہ ہم نے تاجک بیلے کے احیاء اور نئے رقاصوں کی تربیت کے لئے کرغزستان کے رقاصوں ایمل اخماتوف اور آئزادہ اکماتوفا کو یہاں آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اخماتوف نے ایک بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لے کر اپنے تھیٹر میں ملکہ صوبروفا ایوارڈ جیتا تھا۔
بیلے میں رقص کی تربیت کار ستر سالہ استالینا عظمتوفا نے عہد رفتہ پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قومی سطح پر بہترین طائفہ تھا۔ 1990 کی دہائی میں جنگ سے قبل تھیٹر پر پیش کردہ ہمارے کھیلوں میں 60 سے زائد رقاص حصہ لیتے تھے۔ کوپیلیا کی ریہرسل تو بمباری کے دنوں میں بھی جاری رہی۔
انہوں نے بتایا کہ اب طائفے میں 12 اراکین باقی رہ گئے ہیں اور باقی سب ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ تھیٹر کے ملازموں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ نوجوان اداکاروں کا فقدان ہے۔
تھیٹر کے نائب ہدایت کار عزت اللو صمدوف کے مطابق، تاجکستان کے دس نوجوان روس کے پرم اسٹیٹ کوریوگرافک اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔
عظمتوفا نے بتایا کہ معاہدے کی رو سے وہ تاجکستان واپس لوٹنے کے پابند ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چھ سال قبل دوشنبہ میں رقص کی تربیت دینے کے ایک کالج کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اس میں تربیت حاصل کرنے والے بیشتر طلباء کا تعلق تاجک خاندانوں سے ہے۔ عظمتوفا نے کہا کہ مذہب اور روایات کے باعث بہت سے والدین اپنے بچوں، بالخصوص لڑکیوں کو فارغ التحصیل ہونے کے بعد اسٹیج پر رقص کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
نوجوان خواتین رقاصاؤں کی کمی کے باعث بہت سے مرد اب خواتین کے کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک اعزاز یافتہ تاجک رقاص الیگزینڈر بخمان نے بتایا کہ ایک کھیل کے دوران ہمیں کئی کئی بار اپنا لباس تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ بخمان اسٹیج پر اپنی 18 سالہ فنی زندگی میں 50 سے زائد بیلے کھیلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔
عظمتوفا نے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں جاری خانہ جنگی کے دوران اور اس کے بعد بہت کم کھیل پیش کیے گئے اور اس کے نتیجے میں جنگ کے دوران پرورش پانے والے نوجوان فنون سے کوئی رغبت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سالوں میں شائقین کی توجہ برقرار رکھنے کے لئے بچوں تک رسائی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم بچوں کے کھیل کیپولینو کو اسٹیج پر پیش کرنے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو پتا چلے گا کہ اس وقت شائقین کی تعداد بہت کم ہے اور ان میں اکثریت بڑی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔
طائفے کی سربراہ 57 سالہ ویلنتینا انوچینا نے شکایت کی کہ رقاصوں کو نئی پوشاکوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی پوشاکوں میں اداکاری کرنا پڑتی ہے جو ہم سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔
مجیدوف نے کہا کہ اس مسئلے کا جلد ہی حل نکالا جائے گا۔ یہ عظیم الشان عمارت اب بحال ہو چکی ہے۔ جلد ہی اس کی آرائش اور پوشاکوں کو بھی تبدیل کر دیا جائے گا۔
تاجکستان میں رقص جاری رکھنے کے خواہش مند افراد کو اپنے فن سے محبت ہونی چاہیے اور انہیں کم تنخواہوں کی پروا نہیں ہونی چاہیے۔
بخمان نے کہا کہ بیلے ایک مشقت طلب کام ہے اور 100 ڈالر ماہانہ تنخواہ اخراجات پورے کرنے کے لئے ناکافی ہے۔
صمدوف کا کہنا تھا کہ ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم انتہائی قلیل ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے اداکاروں کی تنخواہیں بڑھائی ہیں۔ اب ان کی تنخواہیں ملک کے باقی تھیٹروں میں کام کرنے والے اداکاروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔
بخمان اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے رات کے وقت ایک ریستوران میں رقص کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجک بیلے اس وقت نامساعد حالات سے گزر رہا ہے لیکن اس کے باوجود میں تھیٹر کو خیر باد نہیں کہنا چاہتا۔ رقص کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔
عظمتوفا بھی اس پیشے کو الوداع کہنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا میں اچھی امید لگاتے ہوئے نئے اور نوجوان رقاصوں کی منتظر رہوں گی اور یہاں سوان لیک نامی کھیل پیش کرنے کا اپنا قیمتی خواب پورا کروں گی۔
خطے میں چند دیگر اوپیرا اور بیلے تھیٹر بھی موجود ہیں۔ اس وقت تاشقند کے علی شیر ناووئی اسٹیٹ اکیڈمک بولشوئی تھیٹر کو سب سے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ آستانہ، الماتی، شمکنت اور بشکیک کے اپنے اوپیرا اور بیلے تھیٹر ہیں۔
دوسری جانب، ترکمانستان میں طویل عرصے تک حکومت کرنے والے صدر سپر مراد نیازوف نے اوپیرا اور بیلے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ پابندی ان کے جانشین گربان گلی بردی مخمیدوف کے دور میں 2008 میں اٹھائی گئی۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میں نے کارمن اوپیرا کا پہلا شو دیکھا ہے۔ انہوں نے اس کا بالکل بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا۔