بشکیک میں تھیٹر میلے کا انعقاد
وسطی ایشیا اور بھارت کے تھیٹر گروپوں کی جانب سے فن کا مظاہرہ
الان نذروف
2011-04-25
بشکیک – بشکیک میں اپریل کی 22 تا 26 تاریخ تک ارالاش بین الاقوامی تھیٹر میلہ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں بھارت اور وسطی ایشیا کے تھیٹر گروپ 10 ڈراموں میں اپنا فن پیش کریں گے۔
میلے کی رابطہ کار گالینا کیتوفا نے کہا کہ ہمارے میلے کا مقصد مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اداکاروں، موسیقاروں اور فنکاروں کا ایک مشترکہ ثقافتی مقام بنانا ہے۔ ایک جانب تو اس طرح کے تعاون سے خطے کے تمام ملکوں کی جدید ثقافتوں میں نئے رجحانات کا اضافہ ہو گا اور دوسری جانب مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر خطے کی ثقافت کی مناسب نمائندگی ہو گی۔
آزمائشی بنیادوں پر فن کے مظاہرے منعقد کرنے والے چنگیز ایتماتوف روسی ڈرامہ تھیٹر کے ترجمان ولادیمیر تروفیموف نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات اور عدم استحکام کا شکار سیاسی صورت حال کے باعث اس میلے کو خزاں میں ملتوی کیا گیا۔
میلے کے تمام ڈراموں میں داخلہ مفت ہے۔
میلے کے ڈائریکٹر فن اور ترکمان ڈائریکٹر اولیا کلی حوجا کلی نے کہا کہ یہ ایک منفرد تھیٹر میلہ ہے جس میں روایتی اور آزمائشی تھیٹر کے ساتھ ساتھ لوک اور نسلی ثقافت کا امتزاج شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے بھر سے 10 ڈراموں کا انتخاب کیا۔ ہمیں انتہائی مسرت ہے کہ اوش کا دیدار طائفہ صرف اپنے جوش و جذبے کی بنیاد پر اس میلے میں شرکت کرے گا۔ وہ ایک آزمائشی کھیل 'آدم' پیش کریں گے جو عہد بابل کے تصورات پر مبنی ہے۔
بھارت کی ایک کمپنی 'آوازوں کے ذریعے تاریخ' نامی کھیل پیش کرے گی اور اس میں قدیم آلات موسیقی مثلاً سرود، ددگیریدو اور طبلہ استعمال کیے جائیں گے۔
طائفے کے ڈائریکٹر سچیت ملہوترہ نے کہا کہ ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ انٹرنیٹ کے دور میں نسلی موسیقی ہمیشہ واضح اور قابل رسائی نہیں ہوتی خاص طور پر جب پرانی موسیقی کی بات کی جائے۔ لہٰذا، روایتی موسیقی کے ساتھ ساتھ ہم اکثر اپنی موسیقی پر تجربات کرتے رہتے ہیں تاکہ ناظرین کے لئے وہ دلچسپی کا باعث ہوں۔
تاجک طائفہ شمس "دنیا کی بے ثباتی" نامی موسیقی کے حقیقی کھیل پر فن کا مظاہرہ کرے گا۔
گروپ ڈائریکٹر اقبول زفکی بیکوف نے کہا کہ یہ پامیر کے بنیادی خیالات اور صوفی رقص کا ہم آہنگ امتزاج ہے اور اس کے ہمراہ لوک آلات موسیقی پر جدید نسلی جاز کا رنگ شامل ہو گا۔ وہ اس کا اختتام رومی، نوصر حضراف اور عمر خیام کی رباعیوں پر مبنی صوفی گیتوں پر کریں گے۔
ازبک شرکاء نے راک بینڈ سلیوزی سولنتسا (سورج کے آنسو) کے ہمراہ یونانی داستان ایڈیپس کی غیر متوقع ترجمانی پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مرکزی کرداروں کی زندگی سے بھرپور آوازیں کرغیز، روسی اور ترکمان زبانوں میں سنی جا سکتی تھیں۔
حوجاکلی نے کہا کہ تجربات سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ منفرد تھیٹر میلہ ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوا کرے گا اور یہ ہماری تھیٹر کمپنیوں کی ترقی پر مثبت اثر ڈالے گا جو اپنی انفرادیت کھوئے بغیر نئے خیالات اپنانے کے لئے آزاد ہوں گی۔
ایک ناظر حکیم ترسونوف نے کہا کہ ہمارے ملک سے ملتی جلتی ثقافتوں والے ملکوں کے کھیل دیکھنا بہت دلچسپ تھا۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
خوبصورت