حیرتان تا مزار شریف ریلوے لائن کا آغاز

مبصرین کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن سے تجارت اور تعاون میں اضافہ ہو گا

میکسم ینیسیئف

2011-08-23

تاشقند – طویل انتظار کے بعد گزشتہ اختتام ہفتہ پر حیرتان سے مزار شریف ریلوے سروس کا آغاز ہو گیا۔

یہ ریلوے لائن ازبکستان ریلوے نے تعمیر کی ہے۔ ریلوے لائن کا افتتاح جولائی میں ہونا تھا تاہم مختلف ناگزیر وجوہات کی بناء پر اس میں تاخیر ہوتی رہی۔

ازبکستان ریلوے کے عہدیدار رسول حولقوف نے کہا کہ ہم جولائی کے اوائل سے راستے کی حیثیت اور ان چیزوں کا تعین کرنے میں مصروف تھے کہ اس کا انتظام کون اور کیسے کرے گا۔

ازبکستان اور افغانستان نے 4 اگست کو ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ازبکستان کاروباری سہولیات فراہم کرے گا اور 75 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا انتظام و انصرام کرے گا۔ ابھی تک اس پٹڑی پر صرف سامان لے جانے کی سہولت ہے۔ حولقوف نے کہا کہ تکنیکی مسائل کو حل کر لیا گیا ہے جن میں پٹڑیوں کے حصوں کو مضبوط بنانا اور افغان علاقے میں حفاظتی انتظامات کرنا شامل تھے۔

ابتدائی منصوبے میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک ریلوے لائن کے انتظام و انصرام میں حصہ لیں گے، مگر افغانستان میں ضروری سامان کے فقدان کے باعث مکمل انتظام و انصرام ازبک ریلوے کے پاس ہے۔

حولقوف نے کہا کہ ہماری کمپنی ریلوے کا انتظام چلا رہی ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ افغانستان اپنے افراد کار کو تربیت دینے اور ضروری سامان حاصل کرنے کے بعد اپنے استعمال کے لئے اس راستے کا انتظام سنبھال لے گا۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کارکنوں اور سامان کا فقدان ہے۔

مزار شریف سے تعلق رکھنے والے ایک افغان ریلوے انجنئیر ولید عبیدی نے کہا کہ سامان کی بلاتعطل باربرداری کو یقینی بنانے کے لئے ہمارے پاس ضروری سامان، انجنوں اور مال بردار بوگیوں کا فقدان ہے۔ ہر انجن پر تقریباً 3 لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ کسی ایسی کمپنی پر انحصار کیا جائے جس کے پاس خاطر خواہ مادی وسائل ہوں اور وہ ریلوے کے شعبے میں اچھی ساکھ کی حامل ہو۔

ماسکو میں جدید افغانستان پر تحقیق مرکز میں کام کرنے والے محمد داؤد نے کہا کہ افغانستان کو اقتصادی وجوہات کی بناء پر ریل کے نظام کو ترقی دینے کی کوششوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔

داؤد نے کہا کہ وسطی ایشیا کے تمام ملکوں کو افغان منڈی میں دلچسپی ہے۔ مثال کے طور پر، ازبکستان اسے بجلی اور کپڑا برآمد کرتا ہے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب باربرداری کا کام معمول کے مطابق سرانجام دیا جا سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار ویلری ہان نے کہا کہ ریلوے نے بلاشبہ پورے شمالی خطے کی ترقی کو تحریک دی ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے اور مقامی کاروبار شروع ہو گئے۔ ریلوے سے ان علاقوں میں زراعت، صنعت اور کان کنی کی ترقی پر مثبت اثر پڑے گا۔ مستقبل میں اس سے وسطی ایشیائی ممالک کو کراچی کی بندرگاہ کے راستے سمندر تک رسائی ملے گی۔

ازبکستان اور افغانستان کے سلامتی کے ادارے ریلوے لائن کو محفوظ بنانے کے لئے مل جل کر کام کر رہے ہیں۔ ازبک ریلوے نے کہا کہ مستقبل میں ریلوے کے حفاظتی اقدامات میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

ایک ازبک سینیٹر دامر صدیقوف نے کہا کہ ہم ریل ٹرانسپورٹ کی سلامتی کو یقینی بنانے، ممکنہ ہنگامی صورت حال کی روک تھام اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرات سے بچانے کے لئے ریلوے قانون میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قومی ریلوے ٹرانسپورٹ تحفظ نظام متعارف کرائیں گے۔

ازبک ریلوے کے انجنئیر امید ہرسندوف نے کہا کہ میں نے تمام اسٹیشنوں سے گزر کر مزار شریف تک ٹرین چلائی ہے۔ ہماری کمپنی کی بچھائی ہوئی دیگر ریلوے لائنوں کی مانند یہ نئی ریلوے لائن بھی قابل اعتماد ہے اور تمام معیار پر پورا اترتی ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے ریلوے کارکنوں کو اس راستے پر تحفظ کے خدشات لاحق ہیں۔ بلاشبہ اس بات کو تسلیم نہ کرنا حماقت ہو گی کہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، مگر مجھے پوری ریلوے لائن پر حفاظت کے بہترین انتظامات نظر آئے اور ہر گزرگاہ اور اہم ریلوے یارڈ کے تحفظ پر فوجی مامور تھے۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • تاجکستان سے بجلی برآمد کی جانی چاہیے!

    February 8, 2013 @ 07:02:17AM Марат
  • بلا شبہ مارکیٹ ڈسٹری بیوشن سے منسلک ہونے کا یہ اچھا طریقہ ہے۔ لیکن اس سے زیادہ مال بنانے کا بھی طریقہ ہے۔ اچھِی ٹرانسپورٹ کے فائدے اور نقصان تو ہمیشہ ہی ہوتے ہیں اسی لیے جنگ میں سب سے پہلے انہیں ہی تباہ کیا جاتا ہے۔

    March 9, 2012 @ 06:03:08PM Omid
  • یہ خبر وسطی ایشیائی ریاستوں کے مستقبل بتا رہی ہے۔ خالد

    September 16, 2011 @ 08:09:00PM khalid
  • افغانستان اور پاکستان و ایران جیسے ہمسایہ ممالک بھی اس سے فائدہ اٹھا لیں گے۔

    September 3, 2011 @ 11:09:00PM tariq
  • ایک ایسا واقعہ جس کا بہت عرصے سے انتظار تھا۔ مزید پھیلنے کا انتظار کریں۔

    August 26, 2011 @ 03:08:00PM Nili Sadeqi
  • آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

    August 24, 2011 @ 06:08:00AM sulman
  • بہت اچھی خبر ہے۔ تاہم، کیا واقعی الیکٹرک ٹرین والی تصویر سچ ہے؟ ہرات افغانستان میں ہے، اور سرحدوں کے درمیان کی باڑ بجلی والی نہیں ہے۔

    August 24, 2011 @ 04:08:00AM Andrew Grantham