جند الخلافت: حقیقت یا افسانہ؟

مبصرین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کو قازقستان میں حمایت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے

گلمیرا کامزیئیفا

2011-12-12

الماتی – قازقستان میں رواں سال کے اوائل میں جند الخلافت کہلانے والے ایک گروپ کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں انتہاپسندی کو ایک بڑھتا ہوا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے تاہم اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا یہ گروپ حقیقت میں موجود بھی ہے اور اگر ہے تو کتنا مضبوط ہے۔

جند الخلافت نے 31 اکتوبر کو آتی راؤ میں ہونے والے دو دھماکوں سمیت متعدد دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ نے انٹرنیٹ پر بھی بہت سے پیغامات شائع کیے ہیں جن میں مذہب سے متعلق حال ہی میں لاگو ہونے والے ایک قانون کو "غلط" قرار دیتے ہوئے تشدد کے استعمال کی دھمکی دی ہے۔

اس تنظیم کا قازقستان میں کوئی وجود نہیں

ایک عالم دین رسلان پرم بیتوف نے کہا کہ قازقستان سے باہر سرگرم ایک گروپ جس کے اراکین میں قازقستان کے شہری بھی شامل نہیں ہیں، اسے قازقستان کے خلاف دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔

انہوں نے کہا کہ گروپ کا کوئی منشور اور منفرد نظریہ نہیں ہے اور یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ اس کے اراکین کی تعداد کتنی ہے۔ غالباً ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد ایک یا دو درجن ہو گی۔

اس کے باوجود آستانہ حکومت نے اس اسلامی گروپ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر کے عہدیدار نور دولت سوئن دیقوف نے 30 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ جند الخلافت کی قازقستانی سرزمین پر سرگرمیوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آتی راؤ کی شہری عدالت کے 25 نومبر کے فیصلے کی روشنی میں جند الخلافت کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور ملک میں اس کی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ جند الخلافت سے وابستہ کسی بھی شخص پر دہشت گردانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کے الزام میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

قازقستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان کنزہی بولات بیک نذروف نے اس وقت اس معاملے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔

کمیٹی کے عہدیدار ریٹائرڈ کرنل ارات نرمن بیتوف نے کہا کہ اگر اس گروپ نے دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جند الخلافت جن کارروائیوں میں ملوث ہے وہ اتنی غیر معمولی ہیں کہ انہیں دہشت گردی قرار دینا ہی مناسب ہے اور اسی وجہ سے اس پر کافی شور مچا ہوا ہے۔ لوگوں کو تشویش ہے کہ اس طرح کی مزید کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔

جند الخلافت، ایک گمنام تنظیم

الماتی ہیلسنکی کمیٹی کی سربراہ نائنل فوکینا نے کہا کہ یہ گروپ ابھی بھی زیادہ معروف نہیں ہے۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ درست معلومات کی عدم دستیابی سے ہمیشہ افواہیں پھیلتی ہیں۔ وہ ادارے جنہیں اس گروپ کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے، بظاہر ان کے پاس بھی کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں ورنہ وہ انہیں عام کر دیتے۔ جب معلومات دستیاب نہ ہوں تو لوگ افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے ادارے انہیں کئی گنا بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔

قازقستان کے مسلمانوں کی روحانی انتظامیہ کے ترجمان اونگر قاضی عمر بیک نے اس تنظیم کے بارے میں معلومات کے فقدان کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جند الخلافت ان کی تنظیم کو فائدے کی بجائے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قسم کے نقصان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا داخلی سیاسی معاملہ ہے۔ لوگ اس بات کا خود فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ مذہبی اور مذہبی تنظیموں سے متعلق حالیہ قانون سے متفق ہیں یا نہیں۔ جند الخلافت کو اس حوالے سے ہمیں دھمکیاں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے خیال میں وہ جہالت اور اکھڑ پن کا اظہار کر رہے ہیں اور ہمیں ان سے اس قسم کے نقصان کی ضرورت نہیں ہے۔

عمر بیک نے کہا کہ جند الخلافت کا بیان قازقستان کی سلامتی کے لئے پہلا براہ راست خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی 70 فی صد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہاں ماضی میں کبھی بھی دہشت گردانہ حملے نہیں ہوئے۔ الماتی سے تعلق رکھنے والے ملا ابروخیم قوری دوسی پائیف کو جند الخلافت کے بارے میں پہلی بار رواں موسم خزاں میں خبروں سے پتا چلا۔

انہوں نے کہا کہ میرے ہمسائے اور واقف کار مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کس قسم کا گروپ ہے مگر میں نے اور نہ ہی میرے رفقائے کار نے پہلے کبھی اس کے بارے میں سنا ہے۔ میرے خیال میں یہ چند مٹھی بھر بہروپیے ہیں جو زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ انہیں اس ملک میں کوئی حمایت نہیں ملے گی۔

دریں اثناء پرم بیتوف نے کہا کہ بظاہر آتی راؤ کی حوالات میں ریکارڈ ہونے والا ایک وڈیو بیان 4 دسمبر کو یو ٹیوب پر نظر آیا جس میں جند الخلافت کے نادم سابق حامی اس تنظیم پر ہتھیار ڈالنے کے لئے زور دے رہے ہیں۔

تاہم آتی راؤ کے محکمہ جیل نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ یہ وڈیو اس کی زیر کنٹرول حوالات میں بنائی گئی تھی۔ محکمے کی خاتون ترجمان باخت گل ماراز بائیفا نے کہا کہ محکمہ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا یہ وڈیو آتی راؤ میں فلمائی گئی تھی۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 88)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 37 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • یہ خلافت کے سپاہی اور حق پر ہیں۔ یہ لوگ زندہ ہیں لیکن آپ کبھی سمجھیں گے نہیں٫

    April 23, 2012 @ 01:04:40PM Гамул
  • مجاہدین خلافت کا کوئی دین ایمان نہیں۔ وہ پیسے کے لیے کام کرتے ہیں، ان کے خاندان اور کاروبار سب ناکام ہو چکے ہیں۔

    January 29, 2012 @ 08:01:46PM kannat
  • حزب اختلاف کے خلاف کریک ڈاون کرنے اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے یہ خفیہ ایجنسیوں کی چال تھی۔ دہشتگرد کبھی بھی ایسی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوتے جیسے کہ کوڑے دان کو تباہ کرنا، کسی آوارہ گرد کو قتل کر دینا وغیرہ وغیرہ۔ این ایس سی کو خفیہ ایجنسیوں کے لیے مزید پیسے بٹورنا تھے۔

    January 29, 2012 @ 01:01:36PM Галымжан
  • اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہم بات یہ کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے کے لیے رحم اور شقفت ہو تاکہ ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ایک دوسرے کو مسکراہٹیں دیں اور ہمارے وطن میں امن ہو۔

    January 29, 2012 @ 11:01:53AM татьяна
  • قازق مسلمانوں کو زیدگی سے زیادہ ہی پیار ہو گیا ہے۔ اور اب یہاں بنیا دپرست مسلمان انسانوں کو قتل کرنے کے بدلے خوشیاں خریدنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔ اور لہذا، اگر قازقستان میں کوئی دہشتگرد آ دھمکا تو ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ ان کے لیے یہ زمین زرخیز نہیں ہے۔

    January 29, 2012 @ 06:01:46AM Ирина
  • بہت ہی خوفناک اور ڈراونی بات ہے اگر جاہل اور ان پڑھ لوگ یہ سوچنے لگیں کہ معصوم لوگوں کو قتل کر کے وہ خود خوشی خوشی رہ سکتے ہیں۔ اگر انہیں اس پر یقین نہ ہو تو اپنے ساتھ ایسا کر کے دیکھ لیں۔ اپنے پیاروں کو تو وہ چھونے تک کا حق نہیں دیتے۔ کون زندہ رہے گا اور کسے موت آئے گی یہ فیصلہ کرنا صرف ایک شخصیت کے ہی اختیار میں ہے کیونکہ اسی نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا تاکہ ہم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

    January 28, 2012 @ 11:01:26PM Сергей
  • آر کے حکومت کو چاہے کہ خود کو "مجاہدین خلافت" کہنے والے لوگوں سے درپش خطرات کا احساس کرے۔ بہت ضروری ہے کہ ملک کی داخلی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ بعض حکومتی اہلکاروں کے مطابق ملک و قوم میں امن ایک سراب ہے: لوگ غصے میں زانوزن جیسے فسادات کا عین امکان ہے۔

    January 27, 2012 @ 01:01:37PM Мадэл Исмаилов
  • میں قازقستان میں رہتی ہوں۔ یہاں کی جمہوریت روس سے قابل موازنہ ہے۔ ہم بھی سرکاری افسران پر کرپشن کا الزام لگا کر انہیں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ مجاہدین خلافت تو محض ایک خیالی داستان ہے۔ دہشتگردی کے واقعات قازقستان کی خفیہ ایجنسیوں کی کارستانی ہیں تاکہ لوگ اپنی پریشانیوں میں مبتلا رہیں اور آزاد میڈیا پر دباو ڈالا جا سکے۔ اور ویسے بھی الماتے کے میئر وکٹر ہرپانوف بھی 500 ملین ڈالر چُرا کر سویڈن فرار ہو گیا۔ لیکن ہمارے صدر نے پیوٹن یا میدادوف سے ہزار گنا زیادہ کرپشن کی ہے۔ قازقستان کے صدر صاحب معمر اور کمزور ہو گئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ان سے جان چھڑائی جائے۔

    January 26, 2012 @ 03:01:59PM Серик
  • میں قازقستان میں پیدا ہوا اور یہیں پلا بڑھا۔ یہ میرا گھر ہے اور جب یہاں ایسے حرامی لوگ فضول حرکتیں کرتے ہیں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہاں کے لوگ اچھے ہیں؛ مہمان نوازی کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی جگہ سے آئے ہوں۔ عمومی طور پر قازق نہایت مہمان نواز ہیں۔ انتہاپسند حرامیوں کو چاہیے کہ یہاں کے لوگوں کے ناک میں دم نہ کریں۔ ہمیں اکیلا چھوڑ دیں، ہم خود سب کچھ سنبھال لیں گے۔ ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ بم پھوڑنا چاہتے ہیں تو کہیں اور جائیں۔ آپ معصوم لوگوں کو کیوں قتل کرتے ہیں؟ سکیورٹی حکام پر حملے کیوں کرتے ہیں؟ قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے ریاست کی طرف سے یہ ان کی ذمہ داری ہے اور ان کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اچھے ہیں یا برے۔ اگر وہ برے ہیں ریاست انہیں سزا دے گی۔

    January 25, 2012 @ 11:01:33AM Сергей
  • آپ لوگ بھی عجیب ہیں۔ یہ کیسا سوال ہے: "یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟" جنگ بہترین کاروبار ہے۔ طاقت کے حصول میں کوئی بھی ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مغربی خفیہ ایجنسیوں کے چھوڑے ہوئے اس جن نے پہلے ہی بہت سے لوگوں کو نگل لیا ہے اور اب خود کفیل ہو گیا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی اسے مغرب ہی کنٹرول کرتا ہے۔ قازقستان میں اس جن کے لیے تمام ماحول دستیاب ہے۔ ہائیڈرو کاربن اور مایوس عوام، لہذا آئیے اب ہمیں جمہوریت جمہوریت کھیلنا چاہیے۔

    January 25, 2012 @ 07:01:07AM прохожий
  • مشرق وسطیٰ نے ہم نے اسلام اور مسلمانی مسلط کی ہے جن کے مفادات ابراہیمی مذاہب پر ہیں۔ تاہم، ہم 'اپنے' مذاہب کا احترام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اندرونی طور پر دیکھیں تو ہم سب یہودی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ کا ذہن ہے تو سوچیں ہم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کرتے ہیں اور انہیں قتل کیوں کرتے ہیں؟ یہ سارا پراپیگنڈا غیر ملکیوں کے پیسے پر کیا جا رہا ہے جس کا ہدف ان پڑھ لوگ ہیں۔ اور ہم میں سے ایسے بہت سے لوگ ہیں۔

    January 24, 2012 @ 07:01:54PM kannat
  • نکیتا نے درست کہا کہ انسان کو باعزت زندگی گزارنی چاہیے اور پیسے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔ صرف بےروزگاری اور پھر غربت کی وجہ سے دہشتگرد ان نوجوانوں کو 'جنت' کا لالچ دے کر ورغلا لیتے ہیں۔ لیکن اب تعلیم اور باعزت روزگار کے لیے تمام مواقع موجود ہیں۔ بدقسمتی بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو ان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ قازقستان میں انتہا پسندوں کے علاوہ کوئی ان 'مجاہدوں' کی پیروی نہیں کرے گا۔

    January 24, 2012 @ 01:01:50AM aborigen
  • میں قازقستان میں امن کا حامی ہوں۔ قازقستان میں زندگی گزارنا آسان نہیں۔

    January 23, 2012 @ 11:01:54PM Nurlan
  • اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔

    January 5, 2012 @ 05:01:13PM Никита
  • تمام انتہا پسندو کیا حال ہیں۔ ایک درخواست ہے: براہ مہربانی ہمیں پریشان مت کریں۔ اگر آپ لڑنا چاہتے ہیں تو وہاں جائیں جہاں جنگ ہو رہی ہے۔ ہمارے لوگ امن اور سکون سے محبت کرتے ہیں۔ اور ہم اللہ کے فضل سے اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر آپ کو کسی آسائش کی کمی محسوس ہوتی ہے تو جائیں نوکری ڈھونڈیں، دن رات کام کریں تو آپ کے پاس پیسہ آ جائے گا۔ گولیاں چلانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ویب سائٹ کی انتظامیہ کے لیے: معذرت چاہتا ہوں لیکن میں نے آپ کی ویب سائٹ کے ذریعے ان لوگوں سے درخواست کی ہے۔ میں ان کے نام تک نہیں لینا چاہتا۔ میں اپنے، اپنے بچوں اور رشتہ داروں اور قازقستان کی عوام کے لیے امن چاہتا ہوں۔ ان لوگوں کے جرائم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ مضامین لکھیں۔ لوگوں کو بتائیں کہ یہ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔

    January 5, 2012 @ 04:01:37AM Акерке
  • میں اس تنظیم کو نہیں جانتا لیکن ان لوگوں نے بہت برا کیا ہے۔ (میرا تعلق استانا سے ہے) قازقستان میں مذہب اور قوم کی تقسیم نہیں ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہمارے لوگ رنگ یا مذہب سے تفریق نہیں کرتے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے وہ خوف پھیلا رہے ہیں اور مسلمانوں کو دوبارہ دہشتگرد بول رہے ہیں۔ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ اس سے مسلمانوں کے لیے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

    December 12, 2011 @ 10:12:16PM Алиби