قازقستان میں گندم ذخیرہ کرنے کا مسئلہ درپیش

حکام کو اس بار گندم کی وافر فصل حاصل ہوئی ہے

گلمیرا عیساکوفا

2012-01-10

الماتی – قازقستان میں 2011 کے دوران گندم کی 2 کروڑ 97 لاکھ ٹن ریکارڈ فصل حاصل ہوئی ہے جس کے باعث اس کے تحفظ، نقل و حمل اور فروخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ اسے ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں کمی یا نقل و حمل کے مسائل کے باعث 30 سے 40 لاکھ ٹن گندم یا 10 سے 13 فی صد فصل ضائع ہو سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے بڑے ضیاع کی پیش گوئی، دیگر کچھ کہنے سے قاصر

ایوئل پارٹی کے رہنما غنی کالیئیف ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فصل کے 15 فی صد تک ممکنہ ضیاع کے بارے میں خبردار کیا۔ دیگر تجزیہ کار ابھی اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔

فصل کا کل وزن 2 کروڑ 97 لاکھ ٹن ہے جس میں نمی کے ساتھ ساتھ اناج کے علاوہ دیگر اجزاء بھی شامل ہیں۔

قازقستان کی قومی زرعی یونیورسٹی کے ایک استاد قسوم امان زہولوف نے کہا کہ فصل کو خشک کرنے اور اس سے مختلف اجزاء الگ کرنے کے بعد گندم کے وزن میں 5 فی صد کمی واقع ہو جائے گی۔ ایک زرعی ماہر اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیرک بولسن عبد الدین نے کہا کہ سوویت دور میں بہت کم اناج ضائع ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سوویت دور میں قازقستان میں گندم کی سالانہ پیداوار 3 کروڑ 40 لاکھ سے 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن تھی اور اس میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا تھا کیونکہ ہمارے پاس بڑے بڑے گودام اور اناج گھر موجود تھے۔

سینیٹر غنی قاسموف نے کہا ہم نے گندم چھڑنے والے میدانوں اور اسے ترپالوں کے نیچے محفوظ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔ اس سے مارچ تک گندم کا معیار متاثر نہیں ہو گا۔ بلاشبہ ایک مسئلہ تو گندم کو فوری طور پر کھیتوں سے محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ گندم کھلی جگہ پر خراب ہوتی رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فصل کو محفوظ کرنے میں کاشتکاروں کا ہی فائدہ ہے۔

سرکاری ملکیتی فوڈ کنٹریکٹنگ کارپوریشن کے چیف ایگزیکیٹو افسر بائبت خان عبد رخمانوف نے کہا کہ گندم ذخیرہ کرنے والے گوداموں کی مبینہ ناکافی گنجائش کے باعث ہونے والے نقصانات کم سے کم ہوں گے اور یہ ایک سے دو فی صد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کو ذخیرہ کرنے کی جگہوں کی کوئی قلت نہیں

انہوں نے کہا کہ قازقستان میں اناج کا ذخیرہ کرنے والے بہت کم گودام ہی مکمل طور پر بھرے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اکمولا اوبلاست میں کل 32 گودام ہیں جن میں سے صرف 11 بھرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کوستانائی میں 31 میں سے 16 میں گندم رکھی گئی ہے۔ اکتوب، الماتی، مشرقی قازقستان، زہمبیل اور مغربی قازقستان اوبلاستوں میں ایک بھی ایسا گودام نہیں ہے جو مکمل طور پر بھرا ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 2 سو 23 لائسنس شدہ اناج کے گودام ہیں جن میں 1 کروڑ 35 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرح غیر لائسنس شدہ گوداموں میں 89 لاکھ ٹن اناج ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ پون چکیوں میں 20 لاکھ ٹن گندم رکھی جا سکتی ہے۔

امان زہولوف نے کہا کہ بہت سے کاشتکار اناج کے گوداموں کا استعمال بالکل نہیں کرتے۔ اس کی بجائے وہ اپنی فصل کے ڈھیروں کے بالکل پاس فصل کو خشک کرنے والی مشینیں رکھ دیتے ہیں۔ وہ گندم کو خشک کرنے کے بعد بوریوں میں بھر دیتے ہیں۔ اس طرح اناج کو فروخت کرنے سے قبل گوداموں میں ذخیرہ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ چھوٹے تاجر اکثر یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

عبد رخمانوف کے مطابق بعض افراد کے خیال میں ممکنہ نقصان گندم کو ذخیرہ کرنے کی بجائے اس کی نقل و حمل میں زیادہ ہے۔

عبد رخمانوف نے کہا کہ قازقستان میں اناج کی نقل و حمل کے ٹرکوں کی تعداد 5 ہزار ہے جو بظاہر کافی زیادہ ہے مگر ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے مزید 5 ہزار ٹرکوں کی ضرورت ہے۔

امان زہولوف نے کہا کہ قازقستان اناج کے ٹرک روس اور یوکرائن سے خریدتا ہے جو انہیں اتنی زیادہ تعداد میں نہیں بناتے کہ قازقستان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اناج کی نقل و حمل کے ٹرکوں کی خریداری کے نئے پروگراموں پر کام کیا جا رہا ہے۔ مگر ٹرکوں کی ناکافی تعداد کے مسئلے کا اناج کے ضیاع پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ اس سے اناج کی فروخت میں کچھ تاخیر تو ہو سکتی ہے مگر غالباً اس کے نتیجے میں نقصانات نہیں ہوں گے۔ اگر اناج ضائع بھی ہوا تو یہ ایک دو فی صد سے زیادہ نہیں ہو گا۔

انتظامیہ اور فروخت بعض اہم مسائل

قازقستان کے کاشتکار دیمتری ایوانوف نے گزشتہ موسم بہار میں 21 ہزار ہیکٹر رقبے پر گندم کی فصل کاشت کی تھی اور انہیں کافی زیادہ پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اناج کو کہاں ذخیرہ کریں چنانچہ انہوں نے 10 فی صد فصل کھیتوں میں ہی چھوڑ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ میرے لئے زیادہ اہم چیز باقی فصل کو فروخت کرنا ہے۔ ہم ممکنہ خریداروں کو ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ ہم اپنی محنت کا معاوضہ چاہتے ہیں۔

قازقستان کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ایک رکن اور اے آئی بارائیف اناج کی کاشت کے تحقیقی و پیداواری مرکز کے سینئر محقق میخلص سلیمینوف کے بقول 2011 کی پیداوار گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اتنی زیادہ پیداوار حاصل ہونے کی توقع نہیں تھی۔ قازقستان کے تجزیہ کاروں کی پیش گوئی تھی کہ 2 کروڑ ٹن سے کچھ ہی زیادہ فصل حاصل ہو گی مگر حقیقی پیداوار 3 کروڑ ٹن ہوئی۔

سلیمینوف نے کہا کہ اگرچہ اناج کا کچھ حصہ کھلے میدانوں میں ہی چھوڑ دیا گیا ہے مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خراب ہو رہا ہے۔ پکا ہوا اناج کھلے میدانوں اور پختہ سطح پر بھی محفوظ حالت میں رہ سکتا ہے اور یہ کہنا درست نہیں کہ اس طرح وہ خراب ہو جائے گا۔ ہم اپنی پیش گوئیوں میں ہمیشہ انتہا کی بات کرتے ہیں۔ بعض افراد کہتے ہیں کہ اس سے کچھ نقصان نہیں ہو گا جبکہ دیگر انتہائی سنگین نقصانات کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح سچ ہمیشہ درمیان میں ہوتا ہے تاہم 20 سے 30 لاکھ ٹن اناج کا ضیاع بالکل ناممکن ہے۔

سلیمینوف نے کہا کہ حکومت برآمدات میں اضافہ کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ دسمبر میں مارکیٹ واچ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ قازقستان کی گندم کے خریداروں میں یورپی اور افریقی ملک، ترکی، آذر بائیجان، جارجیا، افغانستان اور چار دیگر وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔

تاہم مارکیٹ واچ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قازقستان کو اپنی ریکارڈ فصل برآمد کرنے کی کوششوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قازقستان میں گندم کے ایک تجزیہ کار دورن اوسحاق بائیف نے مارکیٹ واچ کو بتایا کہ ان مشکلات میں قازقستان کے جنوب میں واقع منڈی میں کم کھپت، نقل و حمل کے لئے ریلوے بوگیوں کی شدید کمی اور روس اور یوکرائن کی بحیرہ اسود کی بندر گاہوں میں اناج لوڈ کرنے کی انتہائی کمیاب سہولیات میں ملکی پیداوار کنندگان کے ساتھ سخت مقابلہ شامل ہیں۔

سلیمینوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ رواں سال گندم کی برآمد کے امکانات کمزور دکھائی دیتے ہیں مگر آخر کار صورت حال بہتر ہو جائے گی۔ مسئلہ تو موجود ہے مگر اسے بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔

قاسموف نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بعض تجزیہ کاروں میں صورت حال کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔

امان زہولوف نے کہا کہ قازقستان کے اناج کے شعبے میں رابطہ کاری کا فقدان پایا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں کے اندر یا حکومت اور نجی کاروباروں کے مابین کوئی رابطہ موجود نہیں ہے۔ کوئی عام ریکارڈ بھی نہیں رکھا جاتا اور اس کے نتیجے میں جب اناج ذخیرہ کرنے کے خالی گودام اور اس کی نقل و حمل کی سہولیات دستیاب بھی ہوں تو نجی کاروباروں کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • روٹی کہاں پر 60 ٹینگے کی ہے؟

    March 18, 2012 @ 12:03:04PM леля
  • میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نجی کسانوں، اناج اگانے والوں کی مدد کرے اور اس طرح زیادہ پیداوار حاصل کرے۔

    March 18, 2012 @ 12:03:52PM Гаухар
  • اس برس کی ریکارڈ فصل قازقستان کے لیے اچھی خبر ہے لیکن اور بھی اچھا ہو سکتا ہے اگر روٹی کی قیمت ساٹھ سے کم کر کے چالیس ٹینگے کر دی جائے۔ ذخیرہ اور ریل کاروں کی کمی کوئی مسئلہ نہیں ہے، اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ہمارے ملک میں کافی زمین ہے ہمیں صرف گودام تعمیر کرنے ہیں۔

    March 7, 2012 @ 01:03:07PM Бахыт
  • ہمیں جلدی سے ریل روڈ کی تعمیر مکمل کرنی چاہیے )کوستانے تا اکاتو( جو ترکمانستان اور ایران سے ہوتی ہوئے جائے اور وہاں سے مغرب کی جانب ترکی کو جائے گی اور پھر افغانستان اور جنوبی ایشیا کے سمندر تک۔

    March 5, 2012 @ 08:03:28PM МаратД
  • اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قازقستان کو زرعی کاروباری لاجسٹکس مرکز قائم کرنا چاہیے۔

    February 16, 2012 @ 09:02:05AM Мұқанбет-Шәріп