کرغیز حکومت کی جانب سے توانائی کی قیمتیں نہ بڑھانے کا عندیہ

شدید سردی کے باعث بجلی اور گیس کی طلب میں اضافہ

علی شیر کریموف

2012-02-07

بشکیک – کرغزستان میں رواں سال موسم سرما کے درجہ حرارت میں ریکارڈ کمی کے سبب توانائی کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مسئلے میں پیچیدگی ملک میں بجلی کے پرانی تاروں اور گیس کی بوسیدہ پائپ لائنوں سے ہونے والے غیر معمولی نقصانات سے پیدا ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں توانائی کی بندش اور مرمت کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بجلی کے نظام پر بوجھ کافی زیادہ

کرغزستان کی نیشنل الیکٹرسٹی گرڈ کے مطابق رواں موسم سرما میں بجلی کی یومیہ اوسط کھپت 6 کروڑ 60 لاکھ کلو واٹ گھنٹے ہے۔

وزارت توانائی کی ریاستی نظارت برائے بجلی و گیس کے ڈائریکٹر عقیل بیک تیومن بائیف نے کہا کہ لوگ بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی، حرارت، گیس اور پانی کے استعمال کی سالانہ حدود طے کرتی ہے۔ ان حدود کا اطلاق ریاستی بجٹ سے چلنے والے اداروں پر تو ہوتا ہے مگر عوامی یا نجی کاروبار اس سے مستثنٰی ہیں۔

اس کے نتیجے میں بشکیک شہر اور چوئی اوبلاستوں میں ٹرانسفارمر سب اسٹیشنوں پر بوجھ میں گنجائش سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث بجلی کی وقفے وقفے سے بندش ہو رہی ہے۔

تیومن بائیف نے کہا کہ عوام کے لئے بجلی کے نرخ ارزاں رکھے گئے ہیں اور اسی وجہ سے اس کی کھپت بڑھ رہی ہے۔ ملک میں بجلی کے نظام پر بوجھ گنجائش سے بڑھ چکا ہے۔ سب اسٹیشن اکثر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں۔

ملک میں بجلی کی بار بار بندش کے نتیجے میں جنوری میں سیور الیکٹرو کمپنی کے منیجنگ اور ٹیکنیکل ڈائریکٹران کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ وزیر توانائی اسکر بیک شادیئیف اور ان کے نائب کو بھی سرزنش کی جا چکی ہے۔

شادیئیف نے کہا کہ کافی عرصے سے برقی نظام کی تعمیر نو کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فرسودہ سامان اور بجلی کی لائنوں کی مرمت اور تبدیلی کے لئے وسائل مختص کرنا ہوں گے کیونکہ اب یہ لائنیں مطلوبہ بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ لائنوں پر بوجھ میں کمی کرنے اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو یقینی بنانے کے لئے نئی لائنیں بچھانا ہوں گی۔

تیومن بائیف کے مطابق مرمت اور تجدید کے کام کے لئے اضافی سرمایہ کاری درکار ہو گی تاہم حکومت یہ رقم عوام سے وصول کرنے کا ارادہ نہیں کر رہی، کم از کم اس وقت تو بالکل نہیں۔

گیس کی قیمتوں میں معمولی اضافہ

وزارت توانائی کے ماتحت ایندھن کے انتظام اور توانائی کمپلیکس کے ریاستی محکمے نے جنوری کے وسط میں اطلاع دی تھی کہ عام صارفین کے لئے فی مکعب میٹر گیس کی قیمت کو 13.1 کرغیز سوم سے بڑھا کر 14.5 کرغیز سوم (0.28 سے 0.31 ڈالر) کیا جا رہا ہے۔

اس قیمت کا تعین ازبکستان کے ساتھ 2 سو 90 ڈالر (13 ہزار 6 سو کرغیز سوم) اور قازقستان کے ساتھ 2 سو 24 ڈالر (10 ہزار 5 سو کرغیز سوم) فی ایک ہزار مکعب میٹر گیس کی فراہمی کے معاہدوں کے تحت کیا گیا۔

کرغیز گیز کے ڈائریکٹر جنرل ترگن بیک کلمر زائیف نے کہا کہ ابتدا میں ازبکستان نے 3 سو 20 ڈالر (15 ہزار 1 سو کرغیز سوم) اور قازقستان نے 2 سو 81 ڈالر (13 ہزار 2 سو کرغیز سوم) فی ایک ہزار مکعب میٹر گیس کے نرخوں کی پیشکش کی تھی۔

ایندھن کے انتظام اور توانائی کمپلیکس کے ریاستی محکمے کی ڈائریکٹر آئیگل سلطان کولوفا نے کہا کہ سال کے باقی عرصے میں عام صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کو ہی گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کے نرخوں کو ڈالر اور سوم کی شرح تبادلہ سے منسلک کیا جائے گا اور ان کا ہر ماہ نئے سرے سے تخمینہ لگایا جائے گا۔ اس سے قیمتوں میں اچانک انتہائی اضافہ ہونے کا امکان نہیں ہے کیونکہ امریکی کرنسی کی شرح تبادلہ کافی مستحکم ہے۔

کرغیز گیز کا گیس کی فروخت سے منافع صرف تقریباً 13 ڈالر (6 سو کرغیز سوم) فی ہزار مکعب میٹر ہو گا جو اتنا کم ہے کہ اس سے گیس کے شعبے کو جدید بنایا نہیں جا سکتا۔ کرغیز گیز کے نائب جنرل منیجر یوجینی اورلینکو نے کہا کہ اگر کمپنی نے نرخوں میں اضافہ نہ کیا تو وہ اخراجات پورے کرنے کے لئے حکومت سے 19 کروڑ کرغیز سوم (42 لاکھ ڈالر) مانگنے پر مجبور ہو جائے گی۔

جلال آباد کی کمپنی گورگاز میں مرمت کے ایک ماہر عیسٰی خول مرائیف نے کہا کہ کئی عشرے گزر جانے کے بعد پائپ گل سڑ گئے ہیں اور پمپ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تمام سامان زنگ خوردہ ہو چکا ہے اور موزوں تعداد میں فاضل پرزے بھی دستیاب نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر رساؤ کا سراغ لگانے اور گڑھے کھودنے کی بجائے زیادہ وقت پرانے پائپوں کو تبدیل کرنے کے لئے نئے پائپوں کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرسودہ سامان کے باعث ترسیل میں ہی کافی گیس ضائع ہو جاتی ہے۔

کرغیز گیز کی ایک نمائندہ دزہائنا گل میکسیموفا نے کہا کہ 2010 میں پرانے سامان کے باعث گیس کا ضیاع 23 فی صد تھا۔ ہم نے اس میں تقریباً 6 فی صد کمی کر لی تاہم اس طرح کے ضیاع کو بالکل روکنا ممکن نہیں ہے۔

اورلینکو نے کہا کہ صرف گزشتہ سال کے نو ماہ کے دوران ملک بھر میں گیس سے ہونے والے نقصانات 3 کروڑ 40 لاکھ مکعب میٹر گیس کے برابر رہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کرغزستان نقصانات کو روکنے یا پائپ لائنوں کی مرمت کے قابل نہیں رہے گا۔

تاہم ماہر سیاسیات مارس ساریئیف کی پیش گوئی ہے کہ حکومت قیمتوں میں اضافہ کرنے سے ہٹ کر کوئی حل ڈھونڈ نکالے گی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ کرنا سیاسی لحاظ سے خودکشی کے مترادف ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے ایندھن و توانائی کمپلیکس اور معدنی وسائل کا استعمال کے سربراہ عظمت ارپ بائیف نے اس کا ایک اور حل تجویز کیا ہے۔ ان کی رائے میں حکومت کو اس وقت تک قیمتوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب تک کہ صنعت کی نگرانی اور اس کی نقدی کے بہاؤ کا نظام قائم نہیں ہو جاتا۔

ان کے بقول شادیئیف کئی بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ گزشتہ سال میں نے ایک بل متعارف کرایا جس کے تحت نرخوں میں اضافہ پارلیمان اور حکومت کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ تاہم میں نرخوں میں اضافے کی قطعی مخالفت کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کاروباری اور گھریلو صارفین کے نرخوں کو منظم کرنے کا نظام بنا لیا تو مرمت کے لئے رقم دستیاب ہو جائے گی اور مسئلے کا حل نکل آئے گا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button