تاجک موسیقاروں کا راک اور لوک موسیقی کا امتزاج

راک موسیقاروں کی جانب سے صحت مندانہ طرز زندگی کی وکالت

میکسم ینیسیئف

2012-05-31

دوشنبہ – تاجکستان میں راک موسیقی محض تفریح سے بڑھ کر ہے۔ آج کے ابھرتے ہوئے ستارے موسیقی کو مثبت پیغامات پھیلانے اور ملکی لوک موسیقی کی روایات میں دلچسپی بحال کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔

موسیقاروں کے بقول اس کی ایک مثال دوشنبہ کا بلیک میٹل بینڈ العزیف ہے جو اپنے گیتوں کے بولوں اور اپنے طرز زندگی دونوں کے ذریعے تمباکو اور شراب سے احتراز کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

دوشنبہ کے بلیک میٹل بینڈ العزیف کے رہنما جیک راک کے نام سے معروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام پائے جانے والے تصورات کے برعکس راک موسیقار بننا درحقیقت ایک مشکل کام ہے۔ اس ملک میں یہ کام صرف خوشی کی خاطر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ بہت زیادہ منشیات استعمال کرتے ہیں یا شراب نوشی کرتے ہیں تو آپ ممکنہ طور پر اچھی موسیقی نہیں پیش کر سکتے۔ ہمارا بینڈ 'منشیات' کے سخت خلاف ہے، ہم ریہرسلوں یا موسیقی کے کنسرٹس میں شراب کا ایک قطرہ تک نہیں پیتے اور یہی حال منشیات کا ہے۔

العزیف نے "پاتال" نامی گیت میں استعمال ہونے والی موسیقی میں یہی پیغام دیا ہے۔ اس کے بول کچھ ایسے ہیں کہ منشیات یا شراب کا استعمال بہتر نہیں کیونکہ اگر آپ پاتال میں گر گئے تو وہاں سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

تاجک راک موسیقاروں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ تکنیک یا آلات موسیقی کے انتخاب کے ذریعے اپنی آواز ڈھونڈتے ہیں۔

مثال کے طور پر دوشنبہ سے تعلق رکھنے والے ریڈ پلینٹ نامی راک گروپ کی ڈرمر خورشیدہ فاضلوفا نے بتایا کہ ہم اپنے تخلیقی کام میں موسیقی کے مختلف انداز اور رجحانات کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں براہ راست آواز کا اس میں سب سے اہم کردار ہے اور اسی لیے ہم پس پردہ موسیقی استعمال نہیں کرتے۔

دیگر گروپوں نے لوک موسیقی کے آلات کی جدید شکل متعارف کرائی ہے۔ مثلاً وہ الیکٹرک گٹار کی بجائے الیکٹرک دومبرا اور رباب استعمال کرتے ہیں۔

ایک دومبرا نواز نگمت اللو نے بتایا کہ ان کی بدولت لوک موسیقی کے آلات تیار کرنے کا فن دوبارہ زندہ ہو رہا ہے۔

العزیف گروپ کے موسیقاروں اور دیگر کا کہنا ہے کہ لوک آلات موسیقی راک موسیقی کو تاجک آواز بخشتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ موسیقی کو سامعین کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کے لیے لوک تصورات متعارف کراتے ہیں۔

تاہم تاجکستان میں پیسہ کمانے اور فن کے لحاظ سے راک اسٹار بننا ایک آزمائش ہے۔

دوشنبہ کے ایک موسیقی کے پروڈیوسر کیرل کوزمن نے کہا کہ دوشنبہ میں ہر تین ماہ بعد کوئی راک کنسرٹ منعقد ہوتا ہے۔

اتنے کم مواقع کی وجہ سے تاجکستان میں گنے چنے ہی بینڈز ہیں۔

کوزمن نے کہا کہ دارالحکومت میں پانچ سات راک بینڈز ہیں جبکہ ملک کے جنوبی علاقوں یا خطہ پامیر میں کوئی بھی راک بینڈ نہیں ہے۔ شمال میں واقع صغد اوبلاست میں لاسٹ ریم گروپ نامی بینڈ ہے۔

فاضلوفا نے کہا کہ ریڈ پلینٹ کے کنسرٹ میں عام طور پر چند سو افراد جمع ہوتے ہیں تاہم ان کنسرٹس کے انعقاد کو بمشکل ہی پیشہ وارانہ کہا جا سکتا ہے۔

فاضلوفا نے کہا کہ بینڈز کو آلات موسیقی خریدنے اور ریہرسل اور کنسرٹس کے مقامات کا کرایہ ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہم یہ مسائل اپنے طور پر حل کرتے ہیں اور خود ہی رقم کا بندوبست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سرکاری ادارے بھی کافی مدد کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر یوتھ پیلس نے حال ہی میں ہمیں ریہرسل کے لیے ایک کمرے کی پیشکش کی ہے اور ایک ریکارڈنگ اسٹوڈیو کا بندوبست کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

جیک راک نے کہا کہ بہت سے موسیقار روایتی ملازمتیں بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر ہمارا ڈرمر ایک ڈاکٹر ہے اور ہمارا بیس گٹارسٹ ایئر پورٹ پر کام کرنے والا ٹیکنیشن ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم ریہرسل کرنے کے لیے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع مقام تک پیدل اور بھوکے پیاسے آتے جاتے ہیں کیونکہ ہم اچھے آلات اور دیگر سامان خریدنے کے لیے رقم کی بچت کر رہے ہیں۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی باتوں سے ان کا دل نہیں ٹوٹتا۔

جیک راک نے کہا کہ ہمارا ابھی نوآموز گروپ ہے مگر ہم پہلے ہی ایک پوری ڈسک کے لیے موسیقی ترتیب دے چکے ہیں اور کئی کنسرٹس منعقد کر چکے ہیں۔ ہمارا یو ٹیوب پر اپنا چینل ہے جہاں ہم وڈیو کلپ پوسٹ کرتے ہیں اور ہم نے اپنی البم 'دوشنبہ پنک اینڈ راک' پر تیانانمن 89 ریکارڈز کے لیبل کے تحت فرانس میں متعدد گیت جاری کیے ہیں۔

ایک اور موسیقار نے کہا کہ اس طرح کی رکاوٹیں بالآخر موسیقی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ٹیئرز آف دی سن نامی راک بینڈ کے ڈرمر استانسلاف توروپچن نے کہا کہ تاجکستان اپنی موسیقی کی روایات کے لحاظ سے ایک دلچسپ ملک ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ یہ ملک اپنے، حقیقی راک موسیقی کے رجحانات کو ترقی دے رہا ہے۔ محدود شائقین اور مختلف رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ اکثر کامیابی کے معدوم امکانات کے باوجود بھی نوجوان انتہائی جوش و خروش سے راک موسیقی بجاتے ہیں۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 93)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 29 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • اسلام علیکم، براہ کرم دوستی کے لئے میری ای میل کی اشاعت کریں، 35 اور زائد عمر کی خواتین، میں وسیع النظر ہوں، ایک انجنیئر، موسیقی پسند ہے اور زندگی کے تمام کام جو اللہ نے دیے ہیں۔

    April 27, 2013 @ 03:04:44PM yunus ghaznavi
  • اسلام میں موسیقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے

    March 23, 2013 @ 04:03:03AM naveed ahmed
  • Islam main music Koi gunjaish nahi hai

    January 12, 2013 @ 11:01:58PM Aslam sharif
  • راک اور روایتی موسیقی... میں حیران ہوں کہ یہ کیسی ہوگی۔

    January 10, 2013 @ 07:01:48AM фед
  • ان کی موسیقی کہاں سنی جائے؟

    July 29, 2012 @ 01:07:55PM Josh
  • میں دشانبے گیا ہوں۔ یہ عمدہ شہر ہے، موسیقی سے ساتھ ۔۔۔ سارا دن !!!

    July 2, 2012 @ 03:07:59PM nana