-
کرغزستان میں فضائی نقل و حمل کی سہولیات کو ترقی دینے کے اقدامات
-
خیبر پختونخواہ میں موبائل فون کے شعبے کی نمو کو فروغ دینے کا فیصلہ
-
ازبک تھیٹر گروپ کی جانب سے عصر حاضر کے ڈرامہ کی تعلیم
-
مصر میں القاعدہ سے روابط رکھنے والے دہشت گرد گروپ کے اراکین کی گرفتاریوں کا اعلان
قازقستان میں پینشن فنڈز کے انضمام پر تبادلہ خیال
ملک میں گیارہ پینشن فنڈز کو ضم کر کے ایک بنانے پر غور کیا جا رہا ہے
الیگزینڈرا باب کینا
2012-06-04
الماتی – قازقستان میں رواں سال اگست تک موجودہ 11 پینشن فنڈز کی جگہ ایک ریاستی پینشن فنڈ قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ منڈی کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اگرچہ مجوزہ تبدیلی کے نتیجے میں ریٹائرڈ افراد کو ملنے والی رقم میں اضافہ ہو جائے گا مگر ان کے پاس متبادل کم ہو جائیں گے۔
پینشن فنڈز کے انضمام کی یہ خبر سرکاری خبر رساں ادارے قاز تاگ نے دی تھی اور اس کا کہنا ہے کہ اس نئے فنڈ کا انتظام و انصرام ایک غیر ملکی کمپنی کرے گی جو اس سے پہلے بھی حکومت کے ساتھ کام کر چکی ہے۔
بعض مبصرین نے پینشن نظام کے ایک خوشحال مستقبل کی پیش گوئی کی ہے مگر دوسروں کے خیال میں ان تبدیلیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
الار امیت پینشن فنڈ کے ایگزیکیٹو چیئرمین دولت سخیپوف نے کہا کہ گزشتہ ہزاریے کے اختتام پر قازقستان آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ میں پہلا ملک تھا جس نے مجموعی پینشن نظام متعارف کرایا۔ بدقسمتی سے اس نظام میں اب بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تاہم میری رائے میں موجودہ ماڈل میں اصلاحات کرنا ہی بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہر چیز کو ختم کر کے نئے سرے سے کام شروع کیا جائے۔
پینشن فنڈز منافع بخش نہیں ہیں
پینشن کے موجودہ قانون کے تحت یکم جنوری 1998 سے تمام ملازمین کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا 10 فی صد یا اس سے زائد حصہ 11 پینشن فنڈز میں سے اپنی مرضی کے کسی ایک فنڈ میں جمع کرائیں۔ ان میں سے ایک فنڈ سرکاری اور 10 نجی ہیں۔
اس وقت ملک کے پینشن فنڈز کے اثاثوں کی مالیت 17 ارب ڈالر (25 کھرب قازق ٹینگے) ہے۔
پینشن سے متعلق سرکاری ویب سائیٹ پینشیا ڈاٹ کے زی کے مطابق ان سے ملنے والی رقم مختلف ہو سکتی ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 11 میں سے 4 فنڈز کو 3 ارب 50 کروڑ قازق ٹینگے (2 کروڑ 38 لاکھ ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ باقیوں نے 6 ارب قازق ٹینگے (4 کروڑ 8 لاکھ ڈالر) سے زائد کا منافع کمایا۔ تاہم واحد سرکاری فنڈ نے 12 ماہ کے عرصے کے دوران 5 اعشاریہ 26 فی صد منافع کے ساتھ افراط زر (4 اعشاریہ 8 فی صد) کو پیچھے چھوڑ دیا۔ این پی ایف آستانہ فنڈ 4 اعشاریہ 78 فی صد منافع کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
تاہم کارکردگی میں اس فرق کا پینشنر کو ملنے والی ماہانہ رقم پر بہت کم اثر پڑا ہے۔ اس کی بجائے اصلاحات کے حامی پینشن کو معیشت کی مجموعی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
اسیل انویسٹ نامی تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر نورلان رخیم بائیف نے پینشن فنڈز کے منافع میں اضافہ کرنے کے حوالے سے کہا کہ پینشن نظام کی امکانیت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں منڈی کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہو گا، اس کے حجم میں اضافہ کرنا ہو گا، مقامی کمپنیوں کو قرض کی منڈی میں داخل ہونے میں مدد دینا ہو گی اور اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی کہ وہ قازقستان کی حصص منڈی کے ذریعے فنڈز جمع کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اہم نقص یہ ہے کہ ریٹائرڈ افراد پینشن فنڈز کی سرمایہ کارانہ پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ دیگر خامیوں میں بازار حصص میں کم سیالیت، اعلٰی معیار کے مالیاتی اثاثوں کی کمی اور تجارتی شعبے میں کم سرمایہ کاری شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پینشن فنڈز کو منافع بخش صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جس سے نئی کمپنیاں کھلنے اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا موقع ملے گا۔ پینشن فنڈز کو معیشت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔
پینشن اصلاحات پر بحث
پینشن نظام کے مسائل کا سب کو علم ہے۔ صدر نور سلطان نذر بائیف نے فروری میں قوم کے نام اپنے سالانہ پیغام میں پینشن اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
مالیات اور بجٹ کے مسائل سے متعلق سینیٹ کی کمیٹی کے ایک رکن سرجئی پلوتنیکوف نے کہا کہ ایک مشترکہ پینشن فنڈ کے قیام سے آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ زیادہ آمدنی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ حکومت پینشنوں کے لیے پہلے سے زیادہ موزوں قانونی شرائط قائم نہیں کر لیتی۔ انہوں نے کہا کہ جن شعبوں میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ان میں افراط زر پر قابو پانا اور غیر مالیاتی شعبے میں وسیع سرمایہ کاری کرنا بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نگران اداروں کے لیے بھی 11 فنڈز کی بجائے ایک فنڈ کی نگرانی کرنا زیادہ آسان ہو گا جس سے سرمایہ کاریاں محفوظ ہو جائیں گی۔ تاہم بعض دیگر افراد کو پینشن میں اصلاحات کی دانشمندی پر زیادہ اعتبار نہیں ہے۔
ایسوسی ایشن آف پینشن فنڈز کے صدر آئیدر علی بائیف کا کہنا ہے کہ ایک مشترکہ فنڈ کا قیام جس کا انتظام و انصرام غیر ملکی ہاتھوں میں ہو وہ قازقستان کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ اس میں غیر ملکیوں کا ملوث ہونا قطعی غیر ضروری ہے۔
رخیم بائیف نے کہا کہ قازقستان کے پاس اس شعبے میں کافی ماہرین موجود ہیں۔ اگر ہم خاص طور پر یورپ میں پینشن کے بحران جیسے عوامل پر توجہ دیں تو پینشن کی منڈی کو غیر ملکی انتظام و انصرام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قازقستان کا مفاد اسی میں ہے کہ ریٹائرمنٹ کے اثاثوں سے ہماری معیشت کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکیوں کے زیر انتظام فنڈ اس رقم کی بیرون ملک سرمایہ کاری کرے گا۔
مشترکہ پینشن فنڈ سے مسابقت کا خاتمہ
اس پر تشویش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ مسابقت کے فقدان سے کسی پینشن فنڈ منیجر کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوئی ترغیب نہیں ملے گی۔
گرانٹم پینشن فنڈ کی نائب خاتون سربراہ سندوگش اکلاس بیکوفا نے کہا کہ پینشن کی منڈی کو مسابقتی ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر تمام پینشن فنڈز کو ملا کر ایک بنا دیا گیا تو ریٹائرڈ افراد کے پاس کوئی انتخاب نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ موجود نظام پر بھروسہ نہیں کرتے خاص طور پر جب منافع بھی عدم استحکام سے دوچار ہو۔ لوگ اور خاص طور پر بزرگ افراد چاہتے ہیں کہ پینشن کا نظام مستحکم ہو۔ پینشن فنڈز کو ضم کرنے کی خبر سے صرف بے چینی ہی پھیلے گی۔







![پاکستان میں خربوزوں کا ایک کسان 20 مئی کو پشاور کی پھل منڈی میں فروخت کرنے کے لئے یہ پھل لفافوں میں ڈال رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]](/shared/images/2013/05/20/pakmelon-230_184.jpg?1369057204)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
ایک پنشن فنڈ - لیکن اگر کوئی ریٹائرمنٹ کی عمر سے پہلے مر جاتا ہے تو کیا ہوگا (وہ جان بوجھ کر ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھاتے ہیں؟ بچت کہاں جاتی ہے؟ کسی کو امیر سے امیرتر بنانے کے لئے؟
لوگو! اپنی جمع پونجی غیرملکیوں کے حوالے مت کریں۔ مارچنکو کو جانا چاہیے!
کب تک لوگوں کو کوڑا کرکٹ سمجھا جائے گا؟ ہاں! ہم انتہائی صبر اور وفادار لوگ ہیں، لیکن ہر ایک چیز کی کوئی انتہاء ہوتی ہے! آپ کب تک ہمارے سہارے چلو گے؟ ہر چیز بیچ دی گئی ہے؟ کسی کے پاس پھر کافی پیسے نہیں رہے؟ ریفرنڈم کے بارے میں کیا خیال ہے؟
نظربایف جو ایک غیرملکی ہے اور اس کے چیلے؛ اس کا پیٹ ابھی نہیں بھرا اور اپنی زندگی کے آخر میں ریٹائر افراد کو لوٹنا چاہتا ہے۔
وہ لوگ جو حکومت میں ہیں انہیں ہماری پنشن کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ وہ بیرون ملک بھاگ جائیں گے۔ قازقستان کو ان کی ضرورت نہیں ہے اور ہماری تمام کاوشیں بے فائدہ ہیں۔ ایف او ایم سی میں اربوں ڈالروں کا چندہ کہا گیا؟ یہ ایک ریاستی فنڈ تھا! بہت سارے پنشن فنڈ تھے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ لوگوں کو آزادی کے ساتھ ایک مستحکم فنڈ کا انتخاب کرنے کا موقع دیا جائے اور ایک سال میں کئی بار مختلف فنڈوں کو آزمائیں۔
غیرملکی منیجرز پیسہ جیب میں ڈالیں گے، اور وہ دوسری ریاست کے بوڑھے شہریوں کے بارے میں خیال نہیں کرتے۔
پنشن فنڈز کا ادغام ناقابل قبول ہے۔۔۔ اگر تمام پنشن فنڈز ضم کیے جاتے ہیں، تو ہمیں ایک بڑی گڑ بڑ ملے گی۔۔۔ کوئی بھی اس کی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ اوپر ذکر کیا گیا پنشن فنڈ سرخ رنگ میں نہیں ہو گا۔ ہم مقابلہ بہتر ہونے اور پیسے کو کھونے والے ہیں۔ مزید برآں، ہم ایک غیرملکی کمپنی کو اپنے پنشن کے اساسوں کا انتظام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔۔۔ یہ ناقابل قبول ہے۔
واحد ایس این پی ایف زیادہ قابل اعتماد دکھائی دیتا ہے: 1 ﴾ ریاست پیسہ کو حقیقی معیشت میں خرچ کر سکتی ہے اور اس کا انتظام کر سکتی ہے۔ 2 ﴾ ریاست جمع کی گئی رقوم کی اکیلی ضامن ہو گی اور اس کے پاس اس کے لیے پیسہ ہو گا۔ 3 ﴾ پنشن سیونگز فنڈز آر کے میں سٹاک مارکیٹ کو بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ 4 ﴾ وہ اس کے انتظام کے لیے غیرملکیوں کی خدمات لینے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ مقامیوں پر اعتماد نہیں کرتے ﴿ ایف او ایم ایس کو یاد کریں﴾؛ بڑے شراکتی اخراجات کے پراجیکٹس ممکن ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں سارا نظریہ اچھا ہے اگر وہ اس غیر منظم نہیں کرتے۔ میں 23 سالوں میں ریٹائر ہوا ہوں، اور میرے ہم رتبہ اور میں ایک ایسا انقلاب نہیں لانا چاہیں گے جس کا مقولہ ہو: “بھوکے اور دھوکہ دیے گئے پنشنرز۔”
کب تک وہ ہمارے پیسے کو ہمارے جاننے کے بغیر استعمال کریں گے؟ جب وہ ٹیکسز محصول کرتے ہیں، وہ عوام میں جاتے ہیں، لیکن جب وہ ریٹائرمنٹ کی عمر اٹھاتے ہیں اور پنشن فنڈز بند کرتے ہیں، وہ اسے راز میں کرتے ہیں۔ مزید برآں، وہ اسے غیرملکی بنک کے قبضہ میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس کافی امریکی بینک ہیں، جنہوں نے ہمیں ڈالر دیے، اور اب ہم سب ڈالروں کے لیے رہ رہے ہیں۔
میں 57 برس کا ہوں اور میں بیماری کی وجہ سے کام پر جانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ میں پنشن کے نظام میں کسی بھی تبدیلی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد، قوم اپنی معیشت بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ تمام اشیاء درآمد کی جاتی ہیں، یہاں کوئی صنعتکاری کی صنعت نہیں ہے، اعلان کردہ تبدیلی کے پراجیکٹس عمل میں نہیں لائے جاتے، اور مجھے بتائیں کہ میں کیسے پنشن سسٹم کی تبدیلیوں پر یقین کر سکتا ہوں؟ انہیں چاہیے کہ مجھے میری باقی کی زندگی سکون سے گزارنے دیں۔۔۔
چناوٴ، آپ کو ٹھیک چناوٴ کا سوچنا چاہیے، جو ہمیں نفع دے گا۔ انویسٹرز کو کیا فرق پڑتا ہے اگر تمام فنڈز نقصان پر چلتے ہیں، نہ ہی افراط زر کی تلافی کرتے ہوئے؟ یہ شرمناک ہے کہ ہم نے اپنے مشکل سے کمائے ہوئے پیسوں کا 10٪ فنڈ میں ادا کیا ہے، لیکن کوئی ایک فنڈ بھی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمارا پیسہ کدھر ہے اور کیسے ہم اسے اپنے بہترین مفاد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ میری بچت کی ریاست گارنٹی دیتی ہے اور برے ترین حالات میں ریاست میری بچت واپس کرے گی۔ سوال یہ ہے؛ اگر ریاست میری بچت کی گارنٹی دیتی ہے تو، مجھے دوسرے فنڈ کی ضرورت کیوں ہے؟ اور تب ریاست بیمہ شدہ رقم کہاں سے لے گی؟ ہو سکتا ہے ان ٹیکسز سے جو ہم ہی نے ادا کیے ہیں؟ تو پھر، انہوں نے فنڈز صرف ہماری بچت کو ضائع کرنے کے لیے بنائے ہیں اور الزام کو ریاست پر منتقل کرنے کے لیے؟
کم سے کم پنشن قلیل ہے۔ میں نے ہیلتھ سیکٹر میں 25 سال کام کیا ہے، اور پھر مجھے اپنے بیٹے کو پڑھانے کے لیے چھوڑنا پڑا تھا۔ میں نجی کاروبار میں چلا گیا اور میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ پنشن ریٹائر ہونے والوں کی تذلیل ہے۔ 27000 ٹینگے– پہلے ایک وزیر کو اس پر گزارا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پھر یہ رقم مختص کرے۔ لوگ مرتے ہیں، وہ زندہ نہیں رہنا چاہتے، یہ ہولناک ہے!
ہماری حکومت کی طرف سے کیا بکواس ہے! اس کو ریاستی پنشن فنڈ ہونے دیں۔
11 کے بجائے ایک فنڈ ہونے دیں۔ لیکن یہ حقیقت کہ اس کا انتظام ایک غیرملکی کرے گا بے ہودگی ہے ۔۔۔ یہ فیصلہ حسب معمول لوگ نہیں کریں گے، لیکن کوئی ایک اس کا فیصلہ کرے گا﴿﴿﴿﴿
وہ تمام کو ایک میں ضم کریں گے اور جو وہ چاہتے ہیں کریں گے!! ان کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں ہو گا، اور پورا پنشن سسٹم اس طرح کام کرے گا جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔ کوئی ایک سے منافع حاصل کرتا ہے اس لیے انہوں نے پیش قدمی کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں ایک بڑی بدنامی ہو گی اس کے گرد کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ ہماری کٹوتیوں کا کیا ہوتا ہے۔ پس سوائے Khropunov-Abliyazov2 اوپیرا صابن کے انجام کے یا : کیسے میں نے قازقستان کے پنشن سسٹم کو دھوکہ دیا۔
یہ 17 ارب ڈالر کسی کے دماغ پر سوار ہیں۔ اپنی معیشت پڑھائیں بجائے کسی غیرملکی کے۔ سٹاک مارکیٹ کو پھیلائیں اور زیادہ سے زیادہ پیداوار کو یقینی بنائیں۔ لوگوں کو خوف زدہ نہ بنائیں۔ لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ کس فنڈ میں انہوں نے اپنی بچت رکھنی ہے۔ انہیں انتخاب کرنے دیں۔
میرے خیال میں کوئی اس سے منافع طلب کرنا چاہنا ہے!
معلومات کے لیے: ایک آقا کے بارے میں ہالی وڈ مووی دیکھیں جو اپنے ملازمین کو دھوکہ دیتا ہے اور ان کی ریٹائرمنٹ کی بچتیں لے لیتا ہے!
غیرملکی قازقستانیوں کے لیے منافع بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہوشیار اور مخلص لوگوں کو فنڈ چلانا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ مقامیوں کو ووٹ دیےجائیں۔ کیا 11 فنڈوں کے درمیان کوئی ایک بھی عام امیدوار نہیں ہے؟
رپورٹ نے مجھے پریشان کردیا۔ کیا ہمیں پھر لوٹ لیا جائے گا؟ کتنی بار مزید؟ بلاشبہ، انضمام کے بعد فنڈ کے سابق مالکان ہمارے خون پسینے کی کمائی میں سے 10 فیصد کٹوتی پر عیاشی کرینگے۔
جس نے بھی خطرناک حالات میں کام کے تجربے کو ختم کیا اسے بالآخر قانون کے سامنے اس کا جواب دینا ہوگا۔
نیشنل بینک آف قازقستان کو تمام پنشن فنڈ اپنے کنٹرول میں لینے چاہیے۔ معاشی زوال، افراط زر، قازقستان کے لوگ حکومت کو جوابدہ ٹھہرا سکتے ہیں ...
قازقستان میں اقتصادی طور پر چندے کا نظام کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ قازقستان کی معیشت میں صحیح شعبہ نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کام کرنے کی عمر کی 30 فیصد آبادی آزاد پیشہ (یا بے روزگار) ہے؛ وہ کوئی بھی چندہ نہیں دیتے۔ میرے خیال میں 2025 کے بعد ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والوں لوگ انقلاب برپا کردینگے کیونکہ ان کے پاس کوئی بچت اور نہ گزارے کے لیے کوئی رقم ہوگی۔ نام نہاد بنیادی پنشن بڑھاپے کا سہارا ہونا چاہیے جو ان کی باعزت زندگی گزارنے کے لیے کافی ہونا چاہیے، وگرنہ یہ بہت برا ہوگا۔
انضمام میں قوت ہے، لیکن میں قطعی طور پر انضمام انتظام میں غیرملکیوں کی شرکت کے مخالف ہوں۔ یہ بھی کہ انضمام سے ایک ریاستی فنڈ وجود میں آنا چاہیے۔
دو برائیوں میں سے کسی کا بھی انتخاب نہ کرنا اچھا ہے۔ یہ ملکی دولت کو بیرون ملک منتقل کرنے کا بہانہ ہے اور کچھ نہیں۔ چلی کا ماڈل کامیاب نہیں ہوگا؛ انہوں نے اسے ختم کردیا اور ہم اس کے بارے میں شيخیاں بگھار رہے ہیں۔ وہ حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں اور نہ ہی ہونگے۔ لوگوں کو اب حکومت پر اعتماد نہیں رہا۔
اس سے پہلے کہ آپ ہر ایک کے لیے فیصلہ کریں، آپ کو اس معاملے کو عوامی اظہار خیال کے لیے پیش کرنا چاہیے، صدارتی انتخاب کی طرح رائے شماری کرائیں کیونکہ یہ میرا اور دوسرے سرمایہ کاروں کا پیسہ ہے۔ لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیوں نہیں کیا جاتا؟ میں اپنی رقم اور اسے کہاں خرچ کیا جارہا ہے کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں؟ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں لوگوں اور ان کے پیسے کے بارے میں اس طرح کا رویہ نہیں اپنایا جاتا۔ مالیاتی اصلاحات کو یاد کریں؟ کئی سالوں کی بچت کی ہوئی رقم کہاں ہے؟ میرے خیال میں ان کھربوں ڈالر کے پیسوں کا بھی وہی حشر ہوگا۔ آپ کیا چاہتے ہیں۔ لوگ آپ کو اس مرتبہ معاوف نہیں کرینگے!
عام آدمی کی رائے: یہ بات حیرت انگیز ہے کہ یہ فنڈ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے پیسے کہاں لیکر جاتے ہیں اور اتنی زیادہ رقم ہونے کے باوجود نقصانات کیوں ظاہر کرتے ہیں؟ پھر، فنڈ کیوں بنائے جائیں؟ سرمایہ کاروں کو اپنی رقم بینکوں میں رکھنے دیں۔ غیرملکیوں کو فنڈز کا انتظام کرنے کا کہنا رقم جمع کرانے والوں کے مفادات کے خلاف غداری ہے؛ بعد میں آپ کو کوئی قربانی کا بکرا نہیں ملے گا۔
وہ ہمیں دوبارہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے کئی اقتصادی شعبے ہیں۔ فضول خرچی کی عادت سے کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ آزادی کے 20 سالوں تک، قازقستان کا پنشن نظام اچھے طریقے سے چلتا رہا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
بہرصورت، این پی ایف میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بیروکریٹ ہمیشہ پی ایف سسٹم کو تبدیل کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
پیسے کو کام کرنے دو۔ میں کچھ منافع بخش کمپنیوں کے حصص خریدنا چاہتا ہوں تاکہ یہ میری زندگی کے لیے کچھ بچت ہوسکے اور میرے بچوں کے لیے جائیداد۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اسے جہاں چاہیں منتقل کرتے ہیں، بغیر پوچھے۔ مثال کے طور پر، "ریپبلک" سے "آستانہ"، اور منیجروں کو معقول تنخواہ ملتی ہے۔
قازقستان کے لیے نئے ٹیلیوژن ڈیجیٹل سٹینڈرڈ ڈی وی بی ٹی 2 کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ٹی وی سیٹ کے تاجروں کی ایک سازش ہے - کیونکہ وہ جو چاہتے ہیں بیچتے ہیں۔
پنشن فنڈ کو پبلک ہونا چاہیے۔ اس سے کم از کم کچھ امید ہوگی کہ فنڈ منافع بخش کاروباروں میں لگائے جائیں گے، بجائے رشتہ داروں اور دوستوں پر۔ استحکام کے لیے ایک امید۔
میرے خیال میں یہ صحیح ہے۔ ہر فنڈ میں بھاری عملہ ہوتا اور منیجروں کو پیسے کی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ چندہ باقاعدگی سے آرہا ہوتا ہے۔ ان کو بونس ملتے ہیں اور ایک فنڈ سے دوسرے فنڈ کو رقم منتقل کی جاتی ہے۔ وہ ہمارے پیسے اپنے تیار کردہ قواعد کے مطابق نکالتے ہیں۔ بیمہ کمپنیاں بھی یہیں کچھ کررہی ہیں؛ وہ لین دین کرتی ہیں اور بیمہ کے پریمیم سے بونس ادا کرتی ہیں۔ لوگوں اب قوانین کا مطالع کرنے کا وقت ہے؛ کو مارکیٹ نہیں ہے، اپنا دفاع کرو، شفاف کھاتہ داری کا مطالبہ کرو۔ بونس اور رشوت تمام ختم ہوجاغے گا؛ خداحافظ بیمہ ادائیگیو۔ آپ کو یہ معاملہ عدالت کو لیکر جانا ہوگا کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنا چاہتے۔ ایمرجنسی کمشنر دھوکہ دے رہے ہیں، جیسا کہ یہ بہتر ہو۔ کیوں ایسا نہیں؟ میں نے عدالت میں اپنا کیس جیتا اور مجھے میں رقم واپس مل گئی، لیکن انہوں نے ہرجانے کی رقم کو کم کردیا اور تخمینہ کار اپنی آمدنی بیمہ کمپنیوں سے حاصل کرتے ہیں۔
تمام بڑے فنڈ کے انضمام سے عام آدمی کے لیے بڑے فوائد لائے گا۔ اس سے فراڈ کم ہوگا۔ سرمایہ کاروں کے لیے منافع ہمیشہ کم رہا ہے اور رہے گا۔ ریاست پنشن کے تحفظ کو یقینی بناسکتی ہے، لیکن یہ بجت ریٹائرڈ افراد کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہونگی۔
میں 61 کا ہوں اور یقینی طور پر میں اپنے پنشن فنڈ سے رقم لینا چاہتا ہوں۔ ہاں، اس سے میں پریشان ہوں۔ کیا ہوگا اگر میری جمع پونجی اچانک کہیں کھو جاتی ہے؟ ایمانداری سے کمائی ہوئی جمع پونجی!اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے دور کئی سال کام کرنے کے بعد، میں پنشن فنڈ کے انضمام کے خلاف ہوں اور مجھے یقین ہے کہ تمام بوڑھے افراد اس کی حمایت کرینگے۔
صرف ایک فنڈ میں اتنی زیادہ رقم کا اکٹھا کرنے، اگرچہ یہ ریاستی ہی کیوں نہ ہو، کی وجہ سے ہمارے پیسے میں خردبرد ہوگی۔ اس کے لیے کوشش کرنے والے وہ ہی لوگ ہیں جو راتوں رات امیر ہونے کے طریقوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
یہ اچھا ہے کہ "کونسے فنڈز کا انتخاب کیا جائے" جیسے مصیب نہیں ہوگی؟ میں امید کرتا ہوں کہ بیروکریٹس کی تعداد میں کمی ہوگی۔ غیرملکیوں کو اس کا انتظام کرنےکی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اگر وہ ہمارے افسران سے زیادہ ایماندار نہیں ہیں۔
تمام پنشن فنڈ بند کردیں؛ جتنا زیادہ سرمایہ کار ہونگے - اتنا ہی زيادہ عملہ اور طفیلی۔ انہیں بند کریں اور ہٹا دیں؛ انہیں پیداواری سیکٹر میں پیشہ کمانے کا کہیں۔ ایس این پی ایف صرف ایک ہونا چاہیے۔
ایک اکیلا پنشن فنڈ ٹھیک ہے، لیکن غیرملکیوں کے بغیر۔
وہ کس طرح قازقستان میں غیرملکیوں کو پنشن فنڈ کا انتظام کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ یہ بے ہودگی ہے!
پنشن فنڈ غیرملکیوں کے ہاتھوں میں نہیں دیے جاسکتے۔ کیا ہم آپ آمدنی کا خود انتظام نہیں کرسکتے ہیں اور ہمیں ایک چچا کی ضرورت ہے جو ہر چیز ہتھیا لے؟
پنشن فنڈ کا تصور ہی خراب ہے۔
پنشن فنڈ کا انضمام ایک معمول کا طریقہ ہے: کم کلرک - پنشن فنڈ سے کم اخراجات - زیادہ بچت۔ لیکن یہ رقوم غیرملکی سرمایے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی جانی چاہیے!