حقانی نیٹ ورک کے کرغزستان میں بھی منظر عام پر آنے کے خدشات

وزارت داخلہ کی نظامت برائے انسداد انتہا پسندی پاک افغان گروپوں کے سرحد عبور کرنے کی علامات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے

اسکر سلطانوف

2012-06-13

بشکیک – کرغیز حکام دہشت گرد گروپ حقانی نیٹ ورک کے کرغزستان میں داخلے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس طرح کی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان دہشت گردوں کے منشیات اور جرائم کے مقامی گروہوں سے روابط ہیں۔

وزارت داخلہ کی نظامت برائے انسداد انتہا پسندی کے سربراہ ایمل زہین بیکوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی کرغزستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے۔

انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ان کے پاس ابھی تک اس حوالے سے کوئی درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نے ہمیں بتایا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے استعمال کردہ طریقے ان مذہبی انتہا پسند تحریکوں کے ہتھکنڈوں سے کسی حد تک مختلف ہیں جو گزشتہ چند سالوں سے کرغزستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔

زہین بیکوف نے کہا کہ مثال کے طور پر یہ نیٹ ورک زیر زمین تنظیموں کے اراکین کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ مگر نظامت اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ریاستی تعزیراتی سروس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نیٹ ورک انتہائی خطرناک ہے۔ یہ نہ صرف جرائم پیشہ عناصر بلکہ منشیات کی تجارت کو بھی استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم اور مذہبی انتہا پسندی کا یہ امتزاج پر امن لوگوں میں سے انتہا پسندوں کو بھرتی کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

حقانی نیٹ ورک کی جانب سے حمایت حاصل کرنے کے طریقے

زہین بیکوف نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک اپنے حامیوں کو بھرتی کرنے کے لیے تکفیر کے تصور پر مبنی نفسیاتی استحصال پر انحصار کرتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے افغانستان اور پاکستان میں کوئی 15 ہزار کے قریب اراکین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے اراکین اپنی سرگرمیوں کی حمایت نہ کرنے والے مسلمانوں پر مرتد ہونے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ دوسری جانب نقد عطیات دینے والے جرائم پیشہ گروہوں کو مختلف جرائم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

زہین بیکوف نے کہا کہ حقانی نظریے کے پیروکار ان مبینہ مرتدین کے خلاف جرائم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آپ انہیں دھوکہ دے سکتے ہیں، لوٹ سکتے ہیں اور ہلاک کر سکتے ہیں کیونکہ وہ مرتدین ہیں۔ آپ منشیات تیار کر کے انہیں ان ملکوں میں بھیج سکتے ہیں جہاں کافر رہتے ہیں۔ زہین بیکوف کے مطابق اس طرح وہ منشیات کے اسمگلروں اور دیگر مجرموں کو جرائم کا ارتکاب کرنے کی کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔

ماسکو میں قائم مشرق وسطٰی انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر یوری شچیگلوفن نے بتایا کہ حقانی نیٹ ورک نے کرغزستان میں جرائم پیشہ گروہوں کے رہنماؤں کے ساتھ روابط قائم کر لیے ہیں۔ انہوں نے ممکنہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے بارے میں بھی خبردار کیا۔

کرغیز ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک نے کرغزستان میں زیر زمین رہنماؤں کی تلاش کے دوران انہیں پاکستان میں پناہ دے کر ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ دباؤ میں کمی آنے کے بعد یہ مجرمان کرغزستان لوٹ آئے اور انہوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں مگر اب ان کا محرک مذہبی انتہا پسندی ہے۔

یہ گروپ کیوں تشویش کا سبب ہے

انہوں نے کہا کہ تشویش کی ایک وجہ پشتون کمانڈر جلال الدین حقانی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے افغانستان میں خودکش حملوں کا تصور متعارف کرایا اور وہ وہاں تعینات اتحادی فورسز کے خلاف بہت سے حملوں کا منصوبہ ساز ہے۔

حقانی کو افغانستان میں کئی سالوں تک سوویت افواج کے خلاف لڑنے کے بعد 2001 میں طالبان کی مسلح افواج کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

شچیگلوفن نے کہا کہ حقانی کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے کرغزستان میں دہشت گردی کے اس طرح کے بڑے واقعات کی توقع رکھنا بالکل جائز ہے۔

زہاشاسن کرغزستان پارٹی کی رہنما توکتائم الت علیئیفا نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کچھ خدشات درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم منظم جرائم اور انتہا پسند اسلامی تنظیموں کے درمیان روابط سے انکار نہیں کر سکتے۔ میں اب انتہائی فکرمند ہوں کیونکہ اچانک ہی مجرمان سمیت عام لوگوں نے بڑی تعداد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں شرکت کرنا شروع کر دی ہے۔ دیکھیں لوگ آج کل کتنی بڑی تعداد میں مساجد میں آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیر زمین دنیا میں 18 سے 25 سال کی عمروں کے بہت سے نوجوان موجود ہیں جو لڑنے کے لیے موزوں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس عمر میں نوجوان آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ وہ اکثر اسلام اور انتہا پسندی کے درمیان فرق نہیں کر سکتے اور اسی وجہ سے انتہا پسندوں کے لیے انہیں اپنی صفوں میں بھرتی کرنا آسان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظم جرائم اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعلق 2010 سے کافی واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوش میں جون 2010 میں ہونے والے نسلی فسادات اس طرح کی کارروائیوں کی ایک واضح مثال ہیں۔

الت علیئیفا نے کہا کہ باتکن کے بعد تمام دہشت گردانہ کارروائیوں پر کسی نہ کسی طرح عالمی چھاپ موجود ہے۔ باتکن میں 1999 اور 2000 میں باقاعدہ فوج نے افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صورت حال کے لحاظ سے اس یا کسی اور گروپ میں غیر ملکیوں کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کا مقابلہ

ریاستی کمیشن برائے مذہبی امور کے عہدیدار کانی بیک مامت علیئیف نے ایک انٹرویو میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اگرچہ کچھ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کرغزستان میں داخل ہو گیا ہے مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ ملک میں اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا بڑے پیمانے پر آغاز ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے پاس ذاتی طور پر کرغزستان میں حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی قابل بھروسہ اطلاع نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئی ہوں جب حقانی نیٹ ورک کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ وسطی ایشیا میں بھی اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو کسی بھی چیز کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ جب مذہبی انتہا پسند جماعت حزب التحریر نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا تو ہم نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ اب ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ حزب التحریر اب کافی سرگرم ہو چکی ہے۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 13)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 10 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے