تاجکستان میں 'بہترین' خاتون تاجر کو منتخب کرنے کا مقابلہ

منتظمین معیشت میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے خواہاں ہیں

دل افروز نبیئیفا

2012-06-20

دوشنبہ – تاجکستان میں بہترین خاتون تاجر کو نامزد کرنے کا ایک مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ مقابلہ اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد خواتین کو اقتصادی لحاظ سے زیادہ متحرک بنانا اور ان کے سماجی مرتبے میں اضافہ کرنا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ تاجک کاروباری مالکان میں 15 فی صد سے بھی کم نمائندگی رکھنے والی خواتین کو ایک قابل تقلید نمونہ ہونا چاہیے۔ اس مقابلے کا اہتمام تاجکستان میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والے دو اداروں تاجکستان کی کاروباری خواتین کی قومی ایسوسی ایشن اور چھوٹے قرضے دینے والے ادارے ایمان انٹرنیشنل نے کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکیٹو افسر گل بخور مخاموفا نے کہا کہ ہماری خواتین کے پاس تخلیقی خیالات کی کمی نہیں ہے مگر ان میں سے ہر کوئی ان کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہے۔ بعض کے پاس تجربے کی کمی ہے تو بعض کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے اس مقابلے کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ تبدیلی کا ایک محرک ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ مضبوط قابل تقلید نمونے بنیں۔ اس مقابلے سے عوامی آگہی میں اضافہ ہو گا۔

یہ مقابلہ مارچ کے اوائل میں شروع کیا گیا تھا اور 15 جون کی حتمی تاریخ تک سینکڑوں خواتین نے اس کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ منتظمین تاجکستان کے یوم آزادی سے ایک روز قبل یعنی 9 ستمبر کو کامیاب تاجر کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ منصفین کامیاب خاتون تاجر کو نامزد کرنے کے لیے امیدواروں کے کاروبار اور ان کی تحریری درخواستوں کا جائزہ لیں گے۔ گل بخور مخاموفا نے فیصلہ کرنے کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کاروبار بڑا ہے یا چھوٹا۔ بنیادی چیز کاروبار کی ان کی حکمت عملی اور اسے چلانے اور ترقی دینے کی ان کی صلاحیت ہے۔

کامیاب خاتون تاجر کے لیے ایک لاکھ تاجک سومونی انعام

مقابلے میں حصہ لینے کی خواہش مند خواتین تاجروں نے اپنی کاروباری صلاحیتوں کا اظہار کرنے اور ایک لاکھ تاجک سومونی (20 ہزار ڈالر) کا انعام جیتنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس رقم سے اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ مقابلے میں چھ زمروں میں فاتحین کو منتخب کیا جائے گا۔ ان زمروں میں خدمات؛ صنعت کاری اور ریستوران؛ دستکاری؛ زراعت؛ کاروباری آغاز؛ زیبائش، فیشن اور ڈیزائن؛ اور صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم شامل ہیں۔ تاہم بڑا انعام ان چھ میں سے صرف ایک کامیاب خاتون کو ملے گا۔

انعام جیتنے کی امید رکھنے والوں میں 32 سالہ مدینہ یرگاشیفا بھی شامل ہیں جو دوشنبہ کے ایک مقبول بیوٹی سیلون کی مالک ہیں۔

انہوں نے اپنا سیلون اس وقت کھولا تھا جب ان کی عمر 27 سال تھی۔ یرگاشیفا نے کہا کہ میں نے اپنے کاروبار کا آغاز ایک چھوٹے سے کھوکھے میں حجام کی دو کرسیاں رکھ کر کیا تھا۔ میں نے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کبھی نہیں کیا تھا مگر میرے حالات نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا۔ میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا تھا اور مجھے اپنے دو بچوں کی کفالت کرنا تھی۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ کی حیثیت سے نوکری تلاش کرنا کافی دشوار تھا۔

جب وہ ملازمت کی تلاش میں سرگرداں تھیں تو ان کی ایک سہیلی نے انہیں ہیئر سیلون کھولنے کی تجویز دی۔

یرگاشیفا نے کہا کہ میں نے اپنے رشتہ داروں سے ابتدائی سرمایہ جمع کیا اور اچھے ہیئر ڈریسرز کو ملازمت پر رکھ لیا۔ انہیں اچھے حالات کار کی ضرورت تھی اور وہ اپنے ہمراہ اپنے باقاعدہ گاہک بھی لے آئے۔

خواتین مختلف وجوہات کی بناء پر کاروبار شروع کرتی ہیں

مقابلے کے منتظمین نے مختلف کاروباری مالکان سے درخواستیں وصول کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔

مخاموفا نے کہا کہ ہم نے تاجکستان کے تقریباً تمام مختلف خطوں کا سفر کیا اور وہاں اس حوالے سے بات چیت کی۔ ہم نے نہ صرف مقابلے کا اعلان کیا بلکہ اپنے تجربات کی بھی شراکت کی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلانے والی خواتین سے ان مسائل پر تبادلہ خیال کیا جو انہیں روزمرہ کی زندگی میں پیش آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے والی خواتین مختلف پس منظر کی حامل ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض کے پاس کوئی متبادل انتخاب نہیں تھا۔ وہ اس وقت کو یاد کرتی ہیں جب بہت سے کارخانے کھلے ہوئے تھے۔ وہ ماضی کے اچھے دور کی واپسی کا خواب دیکھتی ہیں۔

دوسری جانب ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو کاروبار سے ملنے والے مواقع کے بارے میں گفتگو کر کے انتہائی جوش اور سرشاری محسوس کرتی ہیں۔

مقابلے کی ایک فرانسیسی مشیر میری ڈین پرویس 11 سال تک تاجکستان کی دستکار خواتین کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کے ثمرات دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین گھر پر کپڑے سیتی ہیں اور بعض اوقات وہ ایسے منفرد ڈیزائن تخلیق کرتی ہیں جو اعلٰی فیشن شوز میں جگہ بناتے ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد ان ہنرمندوں کے تخلیقی جوہر کو آشکار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتظمین خواتین کاروباری مالکان کی حمایت کا بھی اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

پرویس نے کہا کہ خواتین تاجروں کو مردوں کی نسبت زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین پر کم اعتماد کیا جاتا ہے اور انہیں زیادہ اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر کاروبار کرنے والی خواتین کی جانب رویہ مردوں کی نسبت کہیں زیادہ خراب ہوتا ہے۔ ہمارا کام اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ خواتین میں کاروبار کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔

سرمایہ کاریوں اور ریاستی املاک کے انتظام و انصرام سے متعلق سرکاری کمیٹی کی نائب خاتون سربراہ منظورہ مخکموفا نے کہا کہ اس مقابلے سے خواتین کی عزت نفس میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آج تاجک خواتین معاشرے کے ایک کمزور طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں سے بہت سوں کی حالت قابل رشک نہیں ہے، خاص طور پر وہ خواتین جن کے شوہر ملازمت کی غرض سے بیرون ملک ہیں۔ میں آج یہ بات اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ کاروبار کرنے والی بیشتر خواتین اپنے دشوار مالی حالات سے مجبور ہو کر اس شعبے میں آئی ہیں۔ انہیں مدد کی ضرورت ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • بہت خوب! امید کی جاتی ہے کہ یہ مقابلہ مزید خواتین کو کاروبار کرنے کی جانب راغب کریگا، خاص طور پر خدمت کے شعبے میں۔ ہمارے ملک میں اس شعبے نے صحیح طرح ترقی نہیں کی۔

    June 21, 2012 @ 12:06:06AM Хусрав