اوش میں یوم اطفال پر بین الاقوامی دوستی کی باتیں

بالغوں کا کہنا ہے کہ اپنی قومیت سے قطع نظر تمام بچوں کو تحفظ اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

حامد ترسونوف

2013-06-05

اوش – چودہ سالہ نسلی ازبک بچی مفتونہ 2010 کے نسلی فسادات میں ملوث ہونے کے لحاظ سے ابھی بہت کم عمر ہے مگر وہ اتنی سمجھدار ضرور ہے کہ وہ ان کے اثرات کو محسوس کر سکے۔

وہ قومیت کی بناء پر کسی شخص سے محبت یا نفرت نہیں کرتی بلکہ اسے فاصلے مٹانا اور لوگوں کے ساتھ نئی دوستیاں کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانا پسند ہے۔

چنانچہ جب اوش میں یکم جون کو یوم اطفال کی تقریبات منائی گئیں تو مفتونہ کا کہنا تھا کہ اسے ان سرگرمیوں میں شرکت کا دعوت نامہ پا کر خوشی ہوئی۔ تقریبات کا مقصد مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اکٹھا کرنا تھا۔

مفتونہ نے کہا کہ ہمارے مرکز میں ہم نے دوستی کے درخت کی تصویر بنائی جس کے پتوں کی جگہ مختلف ملکوں کے پرچم موجود تھے۔ ہمارے لیے یہ مساوات اور دوستی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرنی چاہیے، تب ہی ہمارے ہاں امن ہو گا۔ امن بچوں اور بالغوں سمیت ہم سب کے لیے اہم چیز ہے۔

اس میلے کا اہتمام اولیبکا (مسکراہٹ) فاؤنڈیشن اور اوش کے محکمہ برائے تحفظ اطفال و خاندان نے مل جل کر کیا تھا۔ اس میں شریک بالغوں کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ہدف اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ تمام بچوں کو ایک خوشگوار بچپن ملے۔

بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں اور منتظمین نے تقریب میں موجود دو سو سے زائد بچوں میں تحائف تقسیم کیے جبکہ بچوں نے رقص اور خاکے پیش کیے۔ مفتونہ نے کہا کہ آج ہمیں یہ دیکھ کر انتہائی خوشی ہوئی کہ مختلف نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے ہم بچے مل جل کر گا سکتے تھے، رقص کر سکتے تھے اور اکھٹے کھاتے پیتے ہوئے لطف اٹھا سکتے تھے۔ یہ بہت پر لطف تجربہ تھا۔

تقریب کا ہدف غیر محفوظ بچے تھے

اولیبکا کے ڈائریکٹر طاہر صابروف نے کہا کہ یوم اطفال کی تقریب میں غیر محفوظ پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مل جل کر کام کرنے کے تصور سے روشناس کرایا گیا۔ ان میں معذور بچے؛ "خطرے سے دوچار" اور قانون شکنی کا ارتکاب کرنے والے بچے؛ اور ان تمام عمروں کے بچے شامل تھے جن کے والدین غریب تھے، ملک سے باہر محنت مزدوری کرتے تھے، جیل میں قید تھے یا وفات پا چکے تھے۔

صابروف نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ اس کا بنیادی مقصد بچوں کو مشکل حالات میں متحد کرنا تھا، انہیں خوشی، مسرت اور مسکراہٹیں دینا تھا تاکہ انہیں رکاوٹیں محسوس نہ ہوں اور وہ یہ سمجھ سکیں کہ سورج تمام بچوں کے لیے مساوی بنیادوں پر چمکتا ہے۔

پیوتر الیچ چائکوفسکی اسکول برائے فنون کی پرنسپل مکرم مادامینوفا نے جو کہ موسیقی کے کنسرٹ کی انچارج تھیں کہا کہ بچوں کا کوئی نسلی پس منظر نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں نے مختلف نسلی گروپوں کی لوک موسیقی میں مل جل کر گیت گائے، رقص کیا اور نظمیں پڑھیں۔

بچوں کو اکٹھا کرنا

اولیبکا فاؤنڈیشن کی شراکت دار بلاگودات فاؤنڈیشن کی الویرا چجن نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اس تقریب نے مختلف نسلی گروپوں کے بچوں کو متحد کیا جنہوں نے تخلیقی فن کے ذریعے رواداری اور دوستی کا مظاہرہ کیا۔ کرغیز بچے ازبک گیتوں پر رقص کرتے رہے اور اسی طرح ازبک بچوں نے کرغیز گیتوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ بچے بچے ہوتے ہیں، ان میں نفرت اور بین النسلی عداوت کا کوئی رجحان نہیں ہوتا اور وہ تخلیقی عمل کے دوران ایک دوسرے کے گہرے دوست بن جاتے ہیں۔

اوش کے محکمہ برائے تحفظ اطفال و خاندان کی ڈائریکٹر گلزینا رائیفا نے کہا کہ یہ بچے التائن یوا اور لوتوس نامی دار الاطفالوں، بورو کردک اقامتی اسکول اور مول بولاک، جاس کانات، اوئی بولو بالا اور بوچور کے دن کے اوقات میں چلنے والے بچوں کے ہنگامی مراکز سے آئے تھے۔ یہ سب مراکز اوش میں ہی واقع ہیں۔

رائیفا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم مختلف تنظیموں کی معاونت سے بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوئے جس میں انہیں مبارک باد دی گئی، تحائف پیش کیے گئے اور ان کے حوصلوں کو بڑھانے اور ان کے مزاج کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس طرح کی تقریبات ہمارے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ بچے ہمارا قیمتی ترین اثاثہ ہیں اور ہمارا مشترکہ مقصد غیر محفوظ بچوں کی معاونت کرنا، ان کی زندگیوں کو بہتر بنانا اور انہیں خوش و خرم رکھنا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہ تقریب انتہائی اہم ہے اور یہ جنوبی کرغزستان میں جون 2010 کے نسلی فسادات کی تیسری برسی کے موقع پر ہو رہی ہے۔ ان فسادات میں 4 سو سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

اوش سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ خاتون شوعرہ ترگونوفا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے بات چیت میں کہا کہ آج میری بیٹی اور اس کی سہیلیاں انتہائی خوش ہیں۔ موسیقی، رقص، تحائف اور کھانوں کا یہ شاندار میلہ انہی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری 7 سالہ بیٹی گزشتہ سال سے اولیبکا فاؤنڈیشن کے سماجی خدمات مرکز جا رہی ہے جہاں وہ غیر محفوظ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ساتھ تعلقات بناتی ہے اور ان کے ساتھ کھیلتی ہے۔ اسی دوران وہ مرکز کے عملے کو ان کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں جانے سے میری بیٹی میں خیراتی سرگرمیوں کا جذبہ بڑھا ہے اور اسے یہ احساس ہوا ہے کہ دشوار حالات کا شکار بچوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • حضرت محمدۖ نے کہا ہے کہ نازی ہم میں سے نہیں ہے (مطلب ہے کہ مسلمان نہیں ہے)۔

    July 20, 2013 @ 03:07:42AM 111
  • اللہ تعالی ہر کسی کو عقل عطا کرے کہ وہ ہمیشہ امن اور دوستوں کی طرح رہیں! وہ عناصر جو لوگوں کو قومیت کی بناء پر تقسیم کرتے ہیں بیوقوف ہیں۔ ہر قوم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ اس سب کا انحصار تعلیم پر ہے۔ کوئی بھی مثالی قوم نہیں ہے۔ اس وجہ سے دوست بنو! اور نفرت کے بیج بونے والوں کو اپنے کیے کی سزا ملے گی! اللہ تعالی ان کو معاف نہیں کرے گا!!

    July 3, 2013 @ 10:07:16AM САГЫЙ