ملا برادر کی گرفتاری سے پاکستان میں افغان طالبان کی موجودگی کی تصدیق

خیال ہے کہ افغانستان میں جاری آپریشن مشترک کے باعث بعض عسکریت پسند سرحد پار چلے گئے ہیں

غنی کاکڑ

2010-03-04

کوئٹہ، پاکستان – ساحلی شہر کراچی میں افغان طالبان کے نائب سربراہ ملا عبد الغنی برادر اور طالبان کے مقرر کردہ کم از کم چار متوازی گورنروں کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کے اراکین پاکستان میں روپوش ہیں۔

2001 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کی معزولی کے بعد یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کابل میں طالبان کی حکومت کے اکثر عہدیدار سرحد پار کر کے پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور چلے گئے ہیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ دیگر علاقوں میں بھی گھس رہے ہیں۔

سیکورٹی امور کے ایک تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں افغان طالبان کے بعض رہنماؤں اور جنگجوؤں کی موجودگی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ واضح طور پر کہنا مشکل ہے کہ طالبان شورٰی کوئٹہ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں طالبان کے پاس ایسا کوئی موزوں مواصلاتی نظام موجود نہیں جس کے ذریعے وہ پاکستان میں بیٹھ کر افغانستان میں کارروائیاں کر سکیں۔

عسکری رضوی نے کہا کہ افغان طالبان ہمدردی رکھنے والے عناصر کی موجودگی کے باعث ممکنہ طور پر پاکستان کو اپنے لئے محفوظ ترین جگہ تصور کرتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں سخت قوم پرستی کے جذبات کو عسکریت پسندی کے ساتھ ملانے اور اس بات پر زور دینے کے لئے مدد ملتی ہے کہ پاکستان کی مشکلات کا سبب غیر ملکی مخالفین ہیں۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے ایک پاکستانی انٹیلیجنس اہلکار نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ وزیرستان میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث بڑی تعداد میں طالبان جنگجو کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقوں اور افغان سرحدی علاقے شوراوک سے ملنے والے ضلع نوشکی سے متصل بلوچستان کے دیگر علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

جلال الدین حقانی اور ملا عمر کی زیر قیادت طالبان کے مرکزی دھڑوں کو سرحد کی پاکستانی جانب سے حمایت حاصل ہے۔

بعض سفارتی ذرائع نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ طالبان مزاحمتی تحریک نے دوبارہ اپنی عملداری قائم کرنے کے لئے بظاہر زابل، اسپن بولدک، قندھار اور ہلمند کے علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ یہ علاقے پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے والی ڈیورنڈ لائن کو عبور کرنے کے لئے انتہائی موزوں ہیں کیونکہ یہاں کے غیر محفوظ راستوں پر سیکورٹی فورسز کا گشت ناممکن ہے۔

سینئر عسکری اور دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ ماضی میں بعض افغان طالبان کی پاکستان میں موجودگی کا تجربہ ہوا لیکن اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے کیونکہ پاکستان کا کردار اس معاملے میں سامنے آ چکا ہے اور اب وہ مزید دہرا کھیل نہیں کھیل سکتا۔

مسعود نے مزید کہا کہ اگرچہ افغان طالبان کے خلاف حملوں کا مقصد عسکریت پسندوں پر دوبارہ امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالنا تھا لیکن یہ عمل محدود ہو کر رہ گیا اور اب پاکستان افغان طالبان کو افغانستان میں مصالحت پر رضامندی کے لئے قائل کرنے کی خاطر ایک حد سے آگے نہیں جا سکتا۔

صوبہ ہلمند میں طالبان کے خلاف تازہ ترین کارروائی کے باعث بہت سے افغان شہری وہاں سے نقل مکانی کر گئے۔ پاکستان میں ان کی موجودگی دکھائی دے رہی ہے۔

انٹیلیجنس ذرائع نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ کراچی اور فیصل آباد میں افغان طالبان کے رہنماؤں کی حالیہ گرفتاری کے بعد پاکستان نے ملک کے غیر قبائلی علاقوں میں افغان طالبان کے رہنماؤں کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جن میں کوئٹہ، کچلاک، پشین، چمن، جنگل پیر علی زئی، سرخاب، نوشکی اور خاص طور پر کراچی شامل ہیں۔

پاکستانی سیکورٹی ایجنسیاں افغان طالبان کی اعلٰی قیادت کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ ملک میں روپوش ہیں۔ دریں اثناء، سرکاری اداروں نے طالبان کے بہت سے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان رہنماؤں میں ملا عبید اللہ اخونزادہ، ملا عبد النبی، مولوی عبد النسیم نعیمی، نور محمد ثاقب، سخی داد مجاہد، ملا عبد الغنی برادر، امیر معاویہ، اخونزادہ پوپلزئی، ملا حمزہ اخوند، ملا عبد السلام، ملا محمد اور مولوی کریم داد شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے قبائلی علاقوں میں اطلاعاتی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عسکریت پسندوں نے ان مخبروں کا کھوج لگانے کے بعد ان میں سے بہت سوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پاکستانی فوج اس وقت باجوڑ، سوات، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں میں کافی مصروف ہے۔ یہ تمام علاقے افغانستان کے کنڑ اور نورستان صوبوں میں مصروف کار افغان طالبان کے لئے رسد کی ترسیل کے اہم راستے ہیں۔

تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ایک رہنما اور طالبان کے حامی مولوی نور محمد کا کہنا ہے کہ اس دعوے نے پاکستانی حکومت کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی سر زمین سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کافی سال پہلے اکتوبر 2001 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کی معزولی کے باوجود افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں نے زور پکڑ لیا ہے اور اپنی مزاحمتی تحریک کی تنظیم و ترتیب نو کے بعد ان کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے 300 سے زائد افغان طالبان کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے کئی افراد کو اسپتالوں سے گرفتار کیا گیا۔

کئی اسپتالوں کے ذرائع کے مطابق، افغانستان کے طالبان جنگجو لڑائی میں زخمی ہونے والے اپنے ساتھیوں کو علاج کی غرض سے سرحد پار پاکستان لے آتے ہیں۔ یہ زخمی جنگجو مقامی افراد کے بھیس میں طبی سہولیات حاصل کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے افغان حکومت کے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی عسکری انٹیلیجنس طالبان کو امداد اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے سربراہ اور پاکستان کے ایک رکن قومی اسمبلی مولانا عصمت اللہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی شورٰی یا حکمران کونسل کی کوئٹہ میں منتقلی کی افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ یہ پاکستان کے خلاف جاری مغربی پراپیگنڈے کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی حقیقی شورٰی صرف وہ ہے جو طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی زیر قیادت ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق، اس کے اراکین کی تعداد 28 ہے جو افغانستان بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعض اراکین تو اہم سرکاری مناصب پر فائز ہیں۔ ان کی شناخت کا علم صرف شورٰی کے دیگر اراکین کو ہے۔

ذرائع ابلاغ کی بعض اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کا پاکستان میں غیر قانونی داخلہ روکنے کے لئے حکومت نے پاک افغان طویل سرحد کے ساتھ 80,000 فوجی تعینات کر رکھے ہیں اور 1,000 سے زائد چوکیاں قائم کی ہیں۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • مجھے یہ اچھا لگا ہے۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل سے حالات بہتر ہوں گے اور میرا اندازہ ہے کہ اگر آئندہ انتخابات میں طالبان کو حصہ لینے کا موقع دیا جائے تو وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے۔ بصورت دیگر کسی قسم کے اہداف کا حصول بلاشبہ ناممکن ہے۔

    March 12, 2010 @ 08:03:00AM Idrees Kamal
  • میرا خیال ہے کہ طالبان اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے جیسا کہ آپ نے درست مشاہدہ کیا ہے۔

    March 11, 2010 @ 05:03:00AM sameer Hussain
  • طالبان امن کے دشمن ہیں، لہٰذا انہیں اس خوبصورت ملک پاکستان سے باہر نکال دینا چاہیے۔

    March 10, 2010 @ 12:03:00PM Tamana sani
  • بہت خوب غنی کاکڑ صاحب، اچھا مضمون ہے۔ اب بھی مجھے یہ خدشہ ہے کہ پاکستان کے عوام محفوظ نہیں ہیں۔ میرے نقطہ نظر سے، طالبان صلح جو کی بجائے سلسلہ وار قاتل ہیں۔ میرے دوست، آپ نے ایک بار پھر بہت اچھا لکھا ہے۔ افریقہ کے ملک کیمرون سے آپ کا ایک صحافی دوست

    March 10, 2010 @ 09:03:00AM Samya
  • دنیا کے سامنے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ طالبان کا مقصد اسلام کا فروغ نہیں۔ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ طالبان نے پاکستان میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور وہاں سے وہ اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ عمدہ رپورٹ اور تجزیہ جو مجھے پسند آیا۔

    March 9, 2010 @ 04:03:00PM loura simpson
  • میرا خیال ہے کہ یہ بہترین رپورٹ ہے۔ مصنف نے انتہائی مہارت سے اس صورت حال کا ایک جامع خاکہ پیش کیا۔ اسے برقرار رکھیں۔

    March 9, 2010 @ 02:03:00PM Sami
  • غنی کاکڑ صاحب، یہ بہت اچھا مضمون ہے۔ مجھے یہ پسند آیا۔

    March 8, 2010 @ 01:03:00PM bari khan
  • میرا اندازہ ہے کہ پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مجھے یہ رپورٹ پسند آئی کیونکہ یہ مضبوط تجزیے پر مبنی ہے۔

    March 8, 2010 @ 09:03:00AM Martin perry
  • یہ اچھی رپورٹ ہے اور مجھے پسند آئی ہے۔

    March 8, 2010 @ 08:03:00AM Neha Agarwal
  • طالبان امن کے قاتل ہیں اور انہیں اسلام کا پیغام پھیلانے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اسلام امن و ہم آہنگی کا درس دیتا ہے، معصوم لوگوں کو قتل کرنے کا نہیں۔ ہم اس بات پر کیسے یقین کر لیں کہ طالبان حق بجانب ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ غلط ہیں اور امن کے قاتل ہیں۔ میں آپ کے تجزیے سے مطمئن ہوں کیونکہ یہ متوازن اور درست معلومات پر مبنی ہے۔

    March 8, 2010 @ 07:03:00AM Zafer Iqbal
  • یہ رپورٹ کاکڑ صاحب کی ایک اچھی کاوش ہے۔ درحقیقت طالبان افغان مہاجرین کو پناہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اسی لئے پاکستان میں آسانی سے روپوش ہو جاتے ہیں۔ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

    March 8, 2010 @ 07:03:00AM Muneer Mohtasim
  • مجھے یہ رپورٹ پسند آئی ہے کیونکہ میرے خیال میں طالبان امن کے قاتل ہیں اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔

    March 6, 2010 @ 03:03:00PM Cate Jhone
  • میرا خیال ہے کہ افغانستان کو تباہی سے دوچار کرنے کے بعد اب طالبان کا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا ہے اور یہی کچھ اب وہ کر رہے ہیں۔ آپ کا تجزیہ بہت درست ہے اور میں اس بات سے متفق ہوں کہ سرد جنگ کے بعد سے پاکستان میں افغان طالبان موجود ہیں اور یہاں رہ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ مہاجرین تھے اور اب وہ طالبان کہلاتے ہیں۔ اگر تمام افغان باشندے طالبان ہیں تو پھر اقوام متحدہ کا ہائی کمشنر برائے مہاجرین اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں ان کی مدد کیوں کر رہی ہیں؟ میرا سوال یہ ہے کہ ابھی تک یہ تصور واضح کیوں نہیں ہے کہ ہر افغان باشندہ طالبان نہیں ہوتا۔ مہربانی فرما کر اس موضوع پر بھی اپنا قلم اٹھائیے اور دنیا کے سامنے یہ واضح کیجیے کہ طالبان کون ہیں اور افغان کون ہیں۔ ہم آپ کی کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    March 6, 2010 @ 03:03:00PM Mirwais Afghan
  • اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب براہ راست پاکستان کی طرف رخ موڑ رہی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان اس جنگ سے ان ملکوں کے مقابلے میں کیوں زیادہ متاثر ہو رہا ہے جو اس جنگ میں شامل ہیں۔

    March 6, 2010 @ 02:03:00PM Masood Akhter
  • میرے نقطہ نظر سے یہ ایک بہترین رپورٹ ہے۔ میرے خیال میں پاکستان بھی تعریف کا مستحق ہے جو اپنے ملک اور بیرونی دنیا میں امن کو یقینی بنانے کی خاطر اپنی سر زمین پر طالبان کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    March 5, 2010 @ 07:03:00AM Fareed Malik
  • محفوظ ٹھکانوں کا پراپیگنڈا محض مغربی ذرائع ابلاغ اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا پھیلایا ہوا ہے اور یہ ایشیا میں ان کے مفادات کے اہداف کے حصول کی ایک کڑی ہے۔ بدقسمتی سے ہم پشتون دنیائے مغرب کی مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس پراپیگنڈے سے آگاہ رہنا چاہیے۔

    March 5, 2010 @ 07:03:00AM Faiz kakar
  • اچھا تجزیہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ افغان طالبان کی گرفتاریوں کا مقصد ان میں موجود اعتدال پسندوں کا خاتمہ کرنا ہے کیونکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ ممکنہ مصالحتی مذاکرات میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

    March 5, 2010 @ 07:03:00AM Izhar shah Kazmi
  • محفوظ ٹھکانوں کا پراپیگنڈا محض مغربی ذرائع ابلاغ اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا پھیلایا ہوا ہے اور یہ ایشیا میں ان کے مفادات کے اہداف کے حصول کی ایک کڑی ہے۔ بدقسمتی سے ہم پشتون دنیائے مغرب کی مسلط کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس پراپیگنڈے سے آگاہ رہنا چاہیے۔

    March 5, 2010 @ 06:03:00AM faiz kakar
  • اچھا مضمون ہے۔ پاکستان کو ایسے سنجیدہ مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    March 5, 2010 @ 06:03:00AM Sohail Pasha
  • یہ اچھی رپورٹ ہے۔ افغانستان میں امن و سکون تباہ کرنے کے بعد افغان طالبان کی نظریں اب پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے ٹھکانے بنا رہے ہیں تاکہ یہاں کا امن بھی تباہ کیا جائے۔ اس رپورٹ میں اچھا تجزیہ کیا گیا ہے۔

    March 5, 2010 @ 12:03:00AM Zahid Abbas