بلوچستان میں آگ کی آزمائش کا وجود ایک حقیقت ہے

مجرموں کو گناہ گار یا بے گناہ ثابت کرنے کے لئے دہکتے انگاروں پر سے گزارا جاتا ہے

غنی کاکڑ

2010-04-05

کوئٹہ، پاکستان – ملک کے سب سے کم خواندہ صوبے بلوچستان کے بعض علاقوں میں مبینہ مجرموں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے دہکتے ہوئے انگاروں کے اوپر سے زبردستی ننگے پاؤں گزارنے کی ظالمانہ رسم اب بھی قبائلی انصاف کے نظام کا حصہ ہے۔

مقامی طور پر چربیلی کہلانے والی قبائلی انصاف کی اس پرانی رسم کو بعض اوقات آگ کی آزمائش بھی کہا جاتا ہے۔ ریاست کی عملداری کا منہ چڑانے والے اس رواج میں تماشا دیکھنے کے لئے سینکڑوں قبائلی جمع ہوتے ہیں۔

قبائلی انصاف کے اس نظام کو ماننے والوں کا کہنا ہے کہ اپنے عقیدے کے باعث وہ زخمی نہیں ہوتے اور وہ پاکیزگی حاصل کرنے، منت پوری کرنے یا بے گناہی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے اس آزمائش سے گزر جاتے ہیں۔

جلد ہی مختلف جرائم کے شبے میں 40 افراد کو آگ کی اس آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس آزمائش کا اہم عنصر آگ پر چلنے والے شخص کا یہ اعتقاد ہے کہ وہ اپنے پاؤں جلائے بغیر دہکتے ہوئے انگاروں پر سے گزر سکتا ہے۔

ایک مقامی جرگے کے سردار وڈیرا خدا بخش مری نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ آگ پر چلنا فوری انصاف کا ایک خالص نظام ہے۔ اس میں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں اور ایک ہی لمحے میں مبینہ مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دہکتے انگاروں پر چلنے کی رسم آج بھی موجود ہے کیونکہ یہ کافی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔

وڈیرا خدا بخش نے کہا کہ آپ کو عدالتوں کی صورت حال اور وہاں ملنے والے انصاف کا تو پتا ہی ہے۔ وہاں جا کر کوئی شخص اپنا وقت اور پیسہ کیوں برباد کرے جب اس کے بدلے کچھ ملتا ہی نہیں؟

بلوچستان میں آگ کی آزمائش زیادہ تر بندوبستی علاقوں میں کی جاتی ہے جن میں جعفر آباد، جھل مگسی، سبی، بولان ڈیرہ بگٹی، کوہلو کہان، ڈیرہ مراد جمالی اور متعلقہ علاقے شامل ہیں۔

کوئٹہ میں رہائش پذیر ضلع ڈیرہ بگٹی کے ایک قبائلی سردار دودا خان مندرانی نے چند روز قبل اپنے علاقے میں آگ پر چلنے کا مظاہرہ دیکھا تھا۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہم اس طرح کی آزمائش پر مطمئن ہیں کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق وہاں موجود لوگوں سے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔

دودا خان نے کہا کہ یہاں زمین کے جس حصے پر آگ کی آزمائش کی جاتی ہے وہ دس سے بارہ فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا ہوتا ہے۔ آزمائش سے قبل، ایک دو فٹ گہرا گڑھا کھودا جاتا ہے اور اسے 450 کلوگرام خشک لکڑیوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ یہ لکڑیاں دو سے تین گھنٹے تک جلتی ہیں جس کے بعد مجرموں کو انگاروں پر سے گزارا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب آزمائش کے وقت کا اعلان کیا جاتا ہے تو مبینہ مجرم انگاروں پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ جب وہ چلنا ختم کرتا ہے تو فوراً ہی اس کے اہل خانہ یا رشتہ دار اسے ایک دیوان پر بٹھا دیتے ہیں جہاں اس کے پیروں کو ایک تازہ ذبح کیے گئے بکرے یا بھیڑ کے خون سے بھری ایک بالٹی میں رکھا جاتا ہے۔

دودا خان نے کہا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آگ کی اس آزمائش کو دیکھنے کے لئے موجود ہوتی ہے اور اگر آگ پر چلنے والا شخص بے گناہ ہے تو دہکتے انگارے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر انگاروں سے اس کے پاؤں جل جاتے ہیں تو پھر وہ قصور وار ہے اور پھر جرگہ اس کے خلاف مزید لائحہ عمل طے کرتا ہے۔

خبروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ضلع ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبیلے کے نو منتخب سردار میر علی بگٹی نے 40 افراد کے لئے آگ کی آزمائش کا اعلان کیا ہے جن پر مختلف جرائم کے الزامات ہیں۔

ایک سینئر قانون ساز کامران خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جرم ثابت کرنے کے لئے انگاروں پر چلانا ایک غیر انسانی اور ظالمانہ روایت اور رسم ہے۔ اس پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے۔

کامران نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان کے قانون اور انصاف کمیشن نے دہکتے انگاروں پر چلنے کے واقعات کی اطلاعات کا نوٹس لیا اور اسے غیر قانونی قرار دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قانون کمشین نے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ترمیم کی سفارش پیش کی جس کے تحت کسی ملزم کو دہکتے انگاروں پر زبردستی چلانے والے شخص پر جرمانہ اور تین سال تک قید کی سزا عائد کی جائے۔

کامران نے کہا کہ اگر ریاست اپنے شہریوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بناتی تو پھر مجھے ڈر ہے کہ جلد ہی بلوچستان کے مزید قبائل میں بھی اس رسم کو قبولیت حاصل ہو سکتی ہے۔

کامران نے کہا کہ دہکتے انگاروں پر چلنے کی رسم صرف پاکستان میں ہی موجود نہیں بلکہ یہ بھارت، جاپان، ملائیشیا، فجی، ٹونگا، ساموآ اور تاہیتی میں بھی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ملکوں میں یہ اعتقاد ہے کہ دہکتے انگاروں پر چلنا مذہب کا حقیقی رواج ہے اور اس کے باعث نقصان سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ کامران نے کہا کہ ان کے خیال میں اس کی وجہ لوگوں میں شعور کا فقدان ہے۔

ایک مذہبی عالم مولانا محمد ہمایوں نے کہا کہ آگ پر چلنا ایک ناجائز قانونی نظام اور غیر اسلامی روایت ہے۔ کسی بھی قانون میں اسے منصفانہ قرار نہیں دیا گیا اور یہ انسانوں کی بنائی ہوئی رسم ہے۔

ہمایوں نے کہا کہ آگ کی آزمائش نسبتاً جدید دور میں روحانیت کا ایک مظہر ہے۔ مجھے اس بات پر سب سے زیادہ تشویش ہے کہ یہ رسم شہروں میں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے اور اس کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسے ترک کر دیں اور اس طرح کے کاموں پر اعتقاد نہ رکھیں۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 11)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 0 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • یہ ٹھیک نہیں ہے، مجھے امید ہے کہ یہ دوبارہ نہیں ہو گا۔ مکران کو آزاد کرو!

    June 12, 2010 @ 02:06:00PM عبدالمالك بلوج
  • یہ اچھا مضمون ہے، کاکڑ صاحب۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM sameer
  • اچھا اور دلچسپ مضمون ہے۔ آج کل افریقہ کے بہت سے ملکوں میں بھی یہی رواج چل رہا ہے۔ لیکن میں اس کی مخالف ہوں۔ مجھے اس بات کا کافی یقین ہے کہ دہکتے انگاروں سے جن لوگوں کے پاؤں نہیں جلتے انہیں اس پر چلنے کا خصوصی طریقہ معلوم ہے یا پھر انہوں نے اپنے پیروں پر کچھ لگا رکھا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اس چیز کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

    April 8, 2010 @ 03:04:00PM samya lionelle
  • یہ موزوں نہیں۔ اس طرح کی چیزوں سے احتراز کریں۔

    April 7, 2010 @ 04:04:00AM saeed khan
  • یہ دل کو چھو لینے والا مضمون ہے۔ میں اس بات پر فکرمند ہوں کہ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے۔ ہم ایک آزاد عدلیہ کا ڈھول پیٹ رہے ہیں اور ریاست کے اندر ایک اور ریاست میں آگ کے ذریعے انصاف کیا جا رہا ہے۔

    April 7, 2010 @ 02:04:00AM Kavi shankar
  • میں اس قسم کے مسائل کو اجاگر کرنے میں مصنف کے تصور کو سراہتا ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ جب اسے ایک غیر قانونی قدم قرار دیا جا چکا ہے تو پھر اس پر کارروائی کرے۔

    April 7, 2010 @ 01:04:00AM Sami
  • بہت اچھا مضمون ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انتہائی تکلیف دہ بھی کہ یہاں اس قسم کی آزمائشیں ابھی تک موجود ہیں۔

    April 7, 2010 @ 01:04:00AM hameed Haroon
  • یہ درحقیقت ایک بہت اچھا مضمون ہے۔

    April 6, 2010 @ 11:04:00AM khan
  • یہ بہت اچھا اور متوازن مضمون ہے۔ بہترین۔ مجھے آپ کی جانب سے اس حساس موضوع کا انتخاب اور اس پر سخت محنت بہت پسند آئی ہے۔

    April 6, 2010 @ 05:04:00AM Asad Jan