خیبر پختونخواہ میں طالبان کے حامی ملا کی غیر قانونی نشریات

پیمرا نے فوری کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے

حسن خان

2010-08-30

صوابی -- پشاور اور اسلام آباد کے درمیان چھ رویہ موٹروے پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہر مسافر ایک مقامی ملا کے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کی نشریات سن سکتا ہے۔ یہ ملا سوات، باجوڑ اور مہمند کی قبائلی ایجنسیوں کے عسکریت پسندوں کے ساتھ قریبی روابط رکھنے کے لئے مشہور ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک صحافی موٹر وے کے ایم ون حصے پر اسلام آباد سے صوابی کا سفر کرنے کے دوران قومی نشریاتی سروس کی فریکیونسی ایف ایم 93 پر نشریات سن رہے تھے کہ کچھ دیر بعد ایک پیشہ ور خاتون نشر کار کی آواز مدہم ہو گئی اور اسی فریکیونسی پر ان کی جگہ ایک مولوی کی کرخت آواز نے لے لی جو خواتین کو لعنت ملامت کر رہے تھے۔

پنجاب کو صوبہ خیبر پختونخواہ سے جدا کرنے والے دریائے سندھ کے مرکزی پل کو عبور کرنے والے موٹر سواروں کے لئے قومی نشریاتی سروس کی جگہ ایک غیر قانونی ریڈیو اسٹیشن کی ناگوار تبدیلی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔

صحافی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کے ہم پیشہ شہاب اللہ نے بتایا کہ یہ پنج پیر مولوی صاحب (مولوی طیب) کی آواز ہے۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے سوات کے تجربے کی جانب رویے کے حوالے سے بتایا کہ غیر قانونی ریڈیو نشریات کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سوات میں مولوی فضل اللہ لوگوں کو عسکریت پسندی پر مائل کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لئے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کا سہارا لیتے تھے۔

سردار حسین بابک نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہم مولوی طیب کے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کے خلاف یقیناً کارروائی کریں گے۔

غیر قانونی ایف ایم اسٹیشنوں کی یلغار

ضلع صوابی کے ایک اعلٰی حکومتی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ضلع میں سات غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشن کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مذہبی خطبات ایک حساس معاملہ ہیں اور مولوی طیب کا علاقے میں بہت اثر و رسوخ ہے۔ ہم ان کے ساتھ نمٹنے کے سلسلے میں انتہائی محتاط ہیں۔

تاہم، نام ظاہر نہ کرنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ صوابی کی ضلعی حکومت کے پاس ضابطہ تعزیرات پاکستان کے تحت غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے خلاف کاررائی کرنے کا قانون موجود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایک مسودہ قانون پارلیمان میں زیر غور ہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز عبد الجبار غیر قانونی ریڈیو اسٹیشنوں کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے۔

سینٹرل ایشیا آن لائن کے ساتھ فون پر ہونے والی اپنی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اب جب آپ نے اس کی نشاندہی کر دی ہے تو میں متعلقہ حکام کو اسے فوری طور پر بند کرنے کا حکام دے رہا ہوں۔ پیمرا ملک میں نجی شعبے کے تمام ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے غیر قانونی ریڈیو پر قرآنی تراجم سے متعلق سردار حسین بابک کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کسی بھی قسم کی غیر قانونی ایف ایم نشریات کو برداشت نہیں کرتا۔

مولوی طیب کا وسیع حلقہ اثر ہے

مولوی طیب مدرسہ تعلیم القرآن پنج پیر سے اپنی نشریات چلاتے ہیں جس کی بنیاد ان کے مرحوم والد مولوی طاہر نے رکھی تھی۔ وہ ایک کم معروف تاہم مضبوط دینی جماعت، جماعت الاشاعت و التوحید و السنت، کے سربراہ ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سوات طالبان کے مفرور رہنما ملا فضل اللہ نے اس مدرسے میں مولوی طیب سے تعلیم حاصل کی تھی۔

مولوی پنج پیر کے نام سے معروف مولوی طیب کا سوات اور مالاکنڈ میں ایک وسیع حلقہ اثر ہے۔ ان کے پیروکار پنج پیریاں یا پنج پیری کہلاتے ہیں۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ مولوی طیب کے اثر و رسوخ میں زیادہ ہاتھ ان کے بھائی میجر عامر کا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر عامر پر 1989 میں بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک ناکام کوشش کا الزام لگایا جاتا ہے۔

صحافی نے بتایا کہ سوات اور باجوڑ میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد بہت سے طالبان رہنماؤں کے فرار ہو کر وہاں جانے کی اطلاعات کے بعد فوج نے مدرسے کی تلاشی لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔

نشریات میں سخت گیر باتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ 26 اگست کو ایک خطبے میں مولوی طیب نے بائیبل کے انبیاء کی بیٹیوں کی جانب سے خواتین کی کھال کھینچنے کا قرآنی قصہ بیان کیا جو کہ پشتون روایات کے خلاف ہے۔

مولوی طیب کے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کی نشریات مردان، صوابی اور بونیر کے بعض علاقوں میں سنی جا سکتی ہیں۔ ریڈیو اسٹیشن ان کے مدرسے کے خطبات سامعین کی ایک بڑی تعداد کو نشر کرتا ہے۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 4)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 2 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • اس سے پہلے کہ معیشت صفر ہو جائے ان دہشت گردوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

    September 18, 2010 @ 03:09:00AM meer mujahid
  • حکومت یا اس کے بعض عناصر، ضروری نہیں کہ وہ غیر فوجی ہوں، اس گڑبڑ کو فروغ دینے میں مدد دے رہے ہیں۔ اس بات پر کون یقین کر سکتا ہے کہ حکومت سوات میں ملا فضل اللہ کے غیر قانونی ریڈیو کی نشریات بند نہیں کر سکتی تھی۔ اور اب یہ ملا سرکاری فریکیونسی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ درحقیقت ملاؤں نے کبھی بھی سچے دل سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ ابتدا ہی سے اس ملک کے مخالف تھے تاہم انہیں اس معاملے میں منہ کی کھانی پڑی۔ آزادی کے فوراً بعد فوج نے ملک سے روشن خیال قوتوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ملاؤں سے تعلقات استوار کر لیے۔ انہوں نے قائد اعظم کی روشن خیال سوچ کو پیچھے دھکیل دیا اور انتہاپسند علامہ اقبال کے تصورات کو آگے لائے۔ انہوں نے ملک میں انتہاپسندی کو پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔ اب اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور شیطانی قوتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان شیطانی قوتوں کی انفرادی طور پر نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے تاہم کوئی اس کی ہمت نہیں کرتا۔ حسن صاحب نے اس مضمون کے ذریعے واقعتاً قوم کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔

    September 6, 2010 @ 05:09:00AM khalid aziz
  • یہ مضمون ملا فضل اللہ کے تاریک دور کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے سوات کے عوام میں دہشت پھیلا رکھی تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف بروقت کارروائی کرے ورنہ ان مولویوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ فوج کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ملاؤں اور فوج کے اتحاد کا تصور راسخ ہو جائے گا۔

    September 6, 2010 @ 05:09:00AM naeem stanakzai
  • بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کی پشت پناہی کرنے میں فوج کا ملوث ہونا ایک قابل مذمت اقدام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر فوج ان ملاؤں کے سر پر سے دست شفقت اٹھا لے تو ان کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔

    September 1, 2010 @ 05:09:00AM ayaz
  • خیبر پختونخواہ میں ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کا غیر قانونی استعمال عام ہے۔ طالبان کے حامی ملا اکثر مساجد کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو شدت پسندی پر اکساتے ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضاء پیدا کرتے ہیں۔

    August 31, 2010 @ 05:08:00AM qazi