سیلاب زدگان امداد کی تقسیم پر بدگمانی کا شکار

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امداد کے بین الاقوامی وعدے درخواست کردہ رقم سے دگنا ہو گئے ہیں

حسن خان

2010-08-31

اسلام آباد – پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں سے لے کر جنوب کے میدانی علاقوں تک لاکھوں سیلاب زدگان طویل عرصے سے امداد کا انتظار کرتے ہوئے بیماریوں اور بھوک سے نبرد آزما ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (شیر پاؤ) کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ مسئلہ امدادی سامان کی کمی کا نہیں بلکہ ایک موزوں حکمت عملی کے فقدان کا ہے جس کے باعث لوگوں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی۔

اگرچہ پاکستان کے پاس سیلاب کے چیلنج سے نمٹنے کی استعداد نہیں ہے تاہم پاکستانی حکام کی اپیلوں کے جواب میں بین الاقوامی برادری کا ابتدائی ردعمل سست رہا۔

امدادی سرگرمیوں نے اس وقت زور پکڑا جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر کے وہاں ہونے والی تباہی اور انسانی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کے بعد وسیع پیمانے پر امداد کی اپیل کی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ بان کی مون کی اپیل نے بین الاقوامی برادری کا ضمیر جھنجھوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس کے باوجود صدر آصف علی زرداری کو 24 اگست کو اس بات کا علم ہوا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان میں شاہراہوں اور ریلوے لائنوں پر پناہ لینے والے 10 لاکھ سے زائد متاثرین خوراک، پانی اور پناہ کے منتظر ہیں۔

افغانستان، جرمنی، سعودی عرب، امریکا، متحدہ عرب امارات، افغانستان، برازیل، ترکی، آسٹریلیا، برطانیہ ایران ،چین، اور کئی دیگر ملکوں نے پاکستان کو امداد فراہم کی ہے۔ پاکستان میں امدادی سامان سے لدے ہوئے ہوائی جہازوں کی آمد روز کا معمول بن چکی ہے۔

تاہم، جنوبی علاقوں میں مزید سیلاب کی خبریں آ رہی ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کے بعد بتایا کہ گزشتہ ہفتے تک بین الاقوامی برادری کی امداد 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور امداد کے مزید وعدوں کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ رقم اقوام متحدہ کی طلب کردہ 46 کروڑ ڈالر کی امداد سے تقریباً دگنی ہے۔

نوشہرہ میں ایک اعلٰی حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ ابھی بہت سے افراد تک امداد نہیں پہنچ سکی تاہم اگر غیر ملکی ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیمیں نہ ہوتیں تو خیبر پختونخواہ میں کہیں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا۔ انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ انہیں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ایک امدادی کارکن طفیل جان نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہیلی کاپٹروں اور امدادی کارکنوں کی جانب سے بچائی جانے والی جانوں کا تخمینہ سینکڑوں میں لگایا گیا ہے۔

اگرچہ حاصل ہونے والی امداد بہت زیادہ دکھائی دیتی ہے تاہم شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ردعمل اتنا حوصلہ افزا نہیں جتنا کہ دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمان نور عالم خان نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امداد کی سطح سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ہم پلہ نہیں۔

نور عالم نے کہا کہ امریکا کے علاوہ باقی دنیا، بالخصوص مسلمان ملکوں، سے آنے والی امداد انتہائی سست روی کا شکار تھی۔ نور عالم کا انتخابی حلقہ سیلاب سے انتہائی متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت تو صرف وعدوں اور بلند بانگ دعووں پر زور ہے اور عملی طور پر کچھ نہیں دیا گیا۔ مسلم دنیا میں سعودی عرب نے اب تک 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا سب سے زیادہ عطیہ دیا ہے۔

ایران نے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر، ترکی نے 1 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، متحدہ عرب امارات نے 15 لاکھ ڈالر اور افغانستان نے 10 لاکھ ڈالر دیے ہیں۔

زاہد نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے عطیات دینے کی بجائے نقد رقم فراہم کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس یہ کام کرنے کے لئے موزوں ادارے اور مہارت موجود ہے۔

انجنئیر آصف علی خان نے کہا کہ بین الاقوامی امداد کی سست روی کا تاثر بے بنیاد ہے۔

پشاور میں سماجی و سیاسی تنظیموں کے ایک اتحاد پختونخواہ جمہوری تارن کے بانی رکن اور ترجمان آصف خان نے کہا کہ وہ امریکا، افغانستان، چین اور برطانیہ کی جانب سے دی جانے والی بروقت امداد سے متاثر ہوئے ہیں۔

آصف خان نے کہا کہ ہم ہیلی کاپٹر، ڈاکٹر، ادویات اور لاکھوں ڈالر کا عطیہ دینے پر صدر حامد کرزئی اور افغانستان کے عوام کے مشکور ہیں۔

آصف خان نے کہا کہ عطیات کو استعمال کرنے کی حکمت عملی کے فقدان سے بین الاقوامی امداد کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

آصف خان نے کہا کہ ہمارے موجودہ حکمرانوں کا بدعنوانی سے داغدار تشخص انفرادی عطیہ دہندگان کو نقد رقم دینے کی راہ میں آڑے آ رہا ہے۔

چارسدہ کے ایک صحافی زاہد علی نے بتایا کہ امداد کی فراہمی میں سست روی سے متاثرین میں اشتعال بڑھ رہا ہے اور ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عوام کو شک ہے کہ حکام اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے متاثرین تک امداد پہنچنے سے پہلے ہی اس میں غبن کر رہے ہیں۔ بعض اوقات باہر سے آنے والی امداد کی بجائے ہمسایہ شہری کسی بھی چیلنج میں زیادہ مدد کرتے ہیں۔

زاہد نے بتایا کہ قریبی علاقوں کی مقامی آبادی متاثرین کو خوراک اور رہائش فراہم کر رہی ہے۔

سینٹرل ایشیا آن لائن کے عملے نے اس رپورٹ کی تیاری میں حصہ لیا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button