پاکستان میں پرامن مستقبل کی امیدیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت فوجی کارروائیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی

اقبال خٹک

2011-01-04

پشاور – پاکستان میں 2011 میں بھی بعض کام زیر تکمیل ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ 2011 میں درپیش چیلنج ریاستی عملداری کی بحالی کے لئے شمالی وزیرستان میں کارروائی کرنا ہے۔

سال 2010 کے اختتام پر فوج نے سوات اور جنوبی وزیرستان میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی جس سے ریاستی حاکمیت کی بحالی میں مدد ملی۔ ختم ہونے والے سال کے دوران 2009 کی نسبت کم دہشت گردانہ حملے ہوئے۔

شمالی وزیرستان پاکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا آخری مضبوط قلعہ ہے اور ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت نے اس پر وار کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کارروائی کب شروع کی جائے گی۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے حال ہی میں سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر کہا تھا کہ ہم مناسب وقت پر کارروائی کریں گے۔

ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور پشاور میں انسٹیٹیوٹ برائے پالیسی تحقیق و تربیت کے موجودہ سربراہ خالد عزیز نے بتایا کہ اگر فوج کی پیشقدمی جاری رہی اور خیبر پختونخواہ کی شہری حکومت نے عمدہ نظم و نسق کے ذریعے فوج کے کام کی تکمیل کی تو حالات بہتر ہونے لگیں گے۔

دسمبر کے اواخر میں پشاور میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے قومی کھیل عسکریت پسندوں کے خلاف سوات میں آپریشن راہ راست اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات نامی فوجی کارروائیوں کی کامیابی کا مظہر تھے۔

فوج نے سوات اور محسود علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا

سوات اور جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود میں طالبان نے حربی تربیت اور بھرتی کے مراکز قائم کر رکھے تھے جس سے عسکریت پسندی فروغ پا رہی تھی۔ فوجی کارروائی میں ان مراکز کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

ایک تحقیقی مطالعے سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 2010 میں طالبان نے 54 خودکش حملے کیے جبکہ 2009 میں ان حملوں کی تعداد 74 تھی۔

بریگیڈیر محمود شاہ نے خودکش حملوں میں نمایاں کمی کے حوالے سے بتایا کہ سوات اور جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کی خودکش دھماکے کرنے کی صلاحیت کو شدید زک پہنچی ہے۔

سلامتی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر ہم عسکریت پسندوں کی خودکش بم حملے کرنے کی صلاحیت کو غیر مؤثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے سیکورٹی فورسز کو بقایا طالبان کا صفایا کرنے میں مزید فائدہ ہوگا۔ خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں عسکریت پسندی کا کھوج لگانے والے سلامتی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اگر ہم عسکریت پسندوں کی خودکش بم حملے کرنے کی صلاحیت کو غیر مؤثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے سیکورٹی فورسز کو بقایا طالبان کا صفایا کرنے میں مزید فائدہ ہو گا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین کو 80 فی صد یقین ہے کہ گزشتہ سال شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے نزدیک ایک فضائی حملے میں طالبان کو خودکش بم حملوں کی تربیت دینے والے قاری حسین کی ہلاکت اور سوات میں ملا فضل اللہ کے اقتدار کے خاتمے نے خودکش بم حملوں کی تعداد میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم، بعض قبائلی عمائدین کو اس سے اختلاف ہے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان کی خودکش بم دھماکے کرنے کی صلاحیت کی صرف اس وقت آزمائش ہو سکتی ہے جب ہم شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع کریں گے۔ عمائدین نے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

مبصرین نے 2010 کی کامیابی کا معیار محسود قبائلیوں کی واپسی کو قرار دیا ہے جو تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں بے گھر ہو گئے تھے۔

اسلام آباد میں قائم مرکز برائے تحقیق و مطالعہ سلامتی کے سربراہ امتیاز عالم نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ 2010 نسبتاً پرامن سال رہا کیونکہ عسکریت پسندوں کے مقابلے میں کئی سالوں سے پسپائی اختیار کرنے والی پاکستانی ریاست نے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کر لیے اور ضرورت کے مطابق اپنی عملداری قائم کی۔

تحریک طالبان پاکستان کے سینکڑوں اراکین گرفتار

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے سینکڑوں عسکریت پسندوں کی گرفتاری، خیبر پختونخواہ میں پولیس کے بہتر نظام، شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں اور اورکزئی اور جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خفیہ ٹھکانوں پر دباؤ میں اضافے سے عسکریت پسندوں کی طاقت کو کمزور کرنے میں مدد ملی۔

سلامتی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اگر ہم عسکریت پسندوں کی خودکش بم حملے کرنے کی صلاحیت کو غیر مؤثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے سیکورٹی فورسز کو بقایا طالبان کا صفایا کرنے میں مزید فائدہ ہوگا۔

میاں افتخار حسین نے 2010 میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت تک لڑائی جاری رکھنی ہو گی جب تک تمام عسکریت پسند ہلاک یا گرفتار نہیں ہو جاتے۔

دو جنوری کو خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلٰی امیر حیدر ہوتی نے اپنے آبائی شہر مردان میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی عسکریت پسندی کو شکست دینے کے لئے کسی چٹان کی مانند مضبوطی سے کھڑی ہے۔

فوجی کارروائیوں کی سیاسی حمایت نے عسکریت پسندی کے خلاف حکومت کی کامیابی کو بہتر بنایا۔

ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور پشاور میں انسٹیٹیوٹ برائے پالیسی تحقیق و تربیت کے موجودہ سربراہ خالد عزیز نے بتایا کہ اگر فوج کی پیشقدمی جاری رہی اور خیبر پختونخواہ کی شہری حکومت نے عمدہ نظم و نسق کے ذریعے فوج کے کام کی تکمیل کی تو حالات بہتر ہونے لگیں گے۔ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور پشاور میں انسٹیٹیوٹ برائے پالیسی تحقیق و تربیت کے موجودہ سربراہ خالد عزیز نے بتایا کہ اگر فوج کی پیشقدمی جاری رہی اور خیبر پختونخواہ کی شہری حکومت نے عمدہ نظم و نسق کے ذریعے فوج کے کام کی تکمیل کی تو حالات بہتر ہونے لگیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2011 میں نسبتاً بہتر مستقبل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم متعدد تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکمرانی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ورنہ شمالی وزیرستان میں بہتر مستقبل ایک ادھورا خواب ہی رہے گا۔

عزیز نے کہا کہ 2011 کو ایسے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب عسکریت پسندوں کا غلبہ ٹوٹ گیا اور انہیں مار بھگایا گیا۔ تاہم ہمیں نرمی اختیار نہیں کرنی چاہیے اور ان غریبوں کو زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئیں جو عوامی بھلائی کی پالیسیوں کے فقدان سے پسماندہ رہ گئے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button