چینی وزیر اعظم کے دورے سے پاکستان کو کافی توقعات ہیں

قرضوں اور سرمایہ کاری کی امید

سہیل احمد

2010-12-17

اسلام آباد – سترہ دسمبر کو چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے جہاں وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو توسیع دینے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے تجارتی اور دو طرفہ تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہیں توقع ہے کہ چین پاکستان کے مختلف شعبوں میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کرے گا۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سرکاری اور عوامی سطح پر بہترین تعلقات پائے جاتے ہیں۔ یہ تعلق وسیع البنیاد ہے اور اس کی حکمت عملیانہ، فوجی، سیاسی اور اقتصادی جہتیں ہیں۔

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ جب چکلالہ کے فوجی ہوائی اڈے پر پہنچے تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پوری کابینہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دوران انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

وزیر اعظم گیلانی نے اپنے چینی ہم منصب وین جیا باؤ کا استقبال کرنے کے بعد کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں اور پوری قوم اس حقیقت سے آگاہ ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے مزید کہا کہ امید ہے کہ آج شام مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

چین نے حالیہ چند سالوں میں پاکستان میں 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملک 2012 تک دو طرفہ سالانہ تجارت کو 15 ارب ڈالر تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔

مبصرین کو توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ثقافت، مواصلات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 13 یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق، 18 دسمبر کو مفاہمت کی مزید 23 یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان تنہا ملاقات میں علاقائی امن و استحکام کے علاوہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ چین سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے 20 کروڑ ڈالر اور پاکستان میں زراعت کے شعبے کے لئے خاطر خواہ رقم دے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ چین کی جانب سے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لئے ایک بڑے قرض کا اعلان متوقع ہے۔

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کے ہمراہ آنے والے وفد میں چین کے 250 کاروباری رہنما بھی ہیں جو مختلف مشترکہ منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیال اور تجاویز کی غرض سے اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کریں گے۔

چین نے حالیہ چند سالوں میں پاکستان میں 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملک 2012 تک دو طرفہ سالانہ تجارت کو 15 ارب ڈالر تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں چین کے سفیر لیو جیان نے کہا کہ چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ کا پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ چینی حکومت کی اس خصوصی توجہ کا مظہر ہے جو وہ پاک چین تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے دے رہی ہے۔

چین پاکستان کو ہتھیاروں کا ایک اہم ترسیل کار ہے اور اس نے ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعے پاکستان کی دفاعی صنعتوں کو ترقی دینے میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • تمام ہمسائے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ لیکن ہم انہیں تبدیل نہیں کر سکتے۔

    January 15, 2012 @ 10:01:35AM saadat
  • سلام۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ برادر ملک ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ سب کو علم ہے کہ بھارت پاکستانی چاولوں پر اپنے لیبل چسپاں کر کے بین الاقوامی منڈی میں بھاری قیمتوں پر فروخت کر رہا ہے۔ چین 65 فی صد کم قیمت پر فروخت کر رہا ہے لہٰذا ہمیں چین سے براہ راست چاول درآمد کر کے خود ہی بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنے چاہئیں۔ چین ایشیائی منڈیوں میں غالب ہونے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ اب دو ہفتے بعد ہماری حکومت بحرانوں سے نکل آئی ہے تو آپ کراچی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھ سکتے ہیں جو دو ماہ میں انشاء اللہ 14 ہزار کا انڈکس عبور کر لے گی۔ جی ہاں، ہمیں اسٹاک مارکیٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ بہت شکریہ، محمود۔

    January 9, 2011 @ 01:01:00PM mehmoode
  • یہ پاکستان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوگا بلکہ صرف سیاست دانوں کے لئے اچھا ہے کیونکہ وہ اپنی زندگیوں کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے ٹیکس عائد کریں گے اور غریبوں کا کوئی بھلا نہیں ہو گا۔

    January 3, 2011 @ 04:01:00AM Haseeb
  • jab chini prime minister ne electricity ke offer ki thi to kio nhi accept ki gai kya govt. corruption ke zerye awal ko lotna chaty he aur hum lotty rahe ge akhir kab tk logo jago aur in ko bhagao

    January 2, 2011 @ 09:01:00AM faheemraza
  • چین جیسے ملک سے دوستی اچھی ہے کیونکہ دوست وہ ہوتا ہے جو مصیبت میں کام آئے۔ میری خواہش ہے کہ یہ دوستی سدا قائم رہے۔

    December 31, 2010 @ 12:12:00PM uzair