کچھ لوگ کرنل امام کے قتل کی وڈیو کو مشکوک قرار دیتے ہیں

وڈیو کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ حکیم اللہ زندہ ہیں

جاوید عزیز خان

2011-02-24

پشاور - تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کہنا ہے کہ کرنل امام کو قتل کردیا گیا ہے، لیکن بہت سارے تجزیہ کار ٹی ٹی پی کی جانب سےانیس فروری کو جاری کی جانے والی ویڈیو کی صداقت کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں.

برگیڈئرریٹائرڈ سلطان امیر تارڑ، جو کرنل امام کے نام سے مشہور تھے کے اغوا کے تقریبا 11،ماہ کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دعوی کیا گیا ہے آئی ایس آئی کے سابقہ افسر کو ٹی ٹی پی کے امیر حکیم اللہ محسود کی موجودگی میں ذبح کردیا گیا ہے۔

اس کے بعد 21 فروری کو خبریں آئیں کہ کرنل امام کی لاش میر علی کے قریب ایک گلی سے ملی ہے۔ لیکن ان کے خاندان کو چوبیس فروری تک ان کی لاش اور سامان موصول نہیں ہوا۔

ٹی ٹی پی نے کرنل امام کے قتل کی ذمہ داری کا دعوی کیا ہے۔ وڈیو جو کسی نامعلوم پہاڑی علاقے میں بنائی گئی ہے میں دکھایا گیا کہ ایک شدت پسند ان کو پانچ گولیاں مارتا ہے، جبکہ حکیم اللہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ میڈیا نے رپوٹ کیا تھا کہ حکیم اللہ 2010 میں قتل کر دیے گئے تھے۔

انیس فروری کو وڈیو جاری کرنے سے قبل، ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کرنل امام کے قتل کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے صحافیوں کو فون کیا۔

“صالح نے کہا کہ عورتوں کو کوڑے مارنے، غیر ملکیوں کو ذبح کرنے اور اب کرنل امام کو قتل کرنے کی وڈیو جو کہ شدت پسندوں کے بانی تصور کیے جاتے تھے عوام میں شدت پسندوں کے ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف نفرت پیدا کررہے ہیں"۔.

"وڈیو جاری کرنے کا بڑا مقصد حکیم اللہ محسود کو عوام کے سامنے لانا تھا اور اس کے قتل کے بارے میں تنازعہ کو ختم کرنا تھا" مشہل ریڈیو کےڈپٹی بیورو چیف خالد خان سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔

خالد، جو قبائلی علاقوں میں رپوٹنگ کرتے ہیں نے وڈیو کے صحیح ہونے کے بارے میں شک کا اظہار کیا ہے، کیونکہ کسی کو بھی کرنل امام کی لاش نہیں ملی اور نہ ہی وڈیو کے بعد ان کے بارے میں کوئی بات سنی گئی ہے۔ اگر وڈیو صحیح ہوئی تو اس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے خلاف عوامی غصے میں اضافہ ہو گا، انہوں نے پیشن گوئی کی۔

کرنل امام کی لاش ابھی تک نہیں ملی

شمالی وزیرستان میں حکام نے اس جگہ کی تلاشی لی ہے جہاں کرنل امام کی لاش کو مبینہ طور پر پھینکا گیا تھا، لیکن ان کو کچھ ہاتھ نہیں لگا، ایک انتظامی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا۔

"جو چیز شک پیدا کررہی ہے وہ یہ ہے کہ کرنل امام کے خاندان کو لاش موصول نہیں ہوئی جو ثابت کرسکے کہ ان کو واقعی قتل کردیا گیا ہے اور وڈیو اصلی ہے،" پشاور کے رہائشی صالح محمد نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ کرنل امام کی موت کی خبریں جنوری کے آخر میں ظاہر ہوئي تھیں، لیکن شدت پسندوں نے وڈیو ایک مہینے کے بعد جاری کی اور وڈیو میں شوٹنگ کے بعد دکھائی جانے والی لاش کرنل امام کے جسم سے بھاری نظر آتی ہے۔

“صالح نے کہا کہ عورتوں کو کوڑے مارنے، غیر ملکیوں کو ذبح کرنے اور اب کرنل امام کو قتل کرنے کی وڈیو جو کہ شدت پسندوں کے بانی تصور کیے جاتے تھے عوام میں شدت پسندوں کے ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف نفرت پیدا کررہے ہیں"۔.“صالح نے کہا کہ عورتوں کو کوڑے مارنے، غیر ملکیوں کو ذبح کرنے اور اب کرنل امام کو قتل کرنے کی وڈیو جو کہ شدت پسندوں کے بانی تصور کیے جاتے تھے عوام میں شدت پسندوں کے ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف نفرت پیدا کررہے ہیں"

کرنل امام نے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے شدت پسندوں کے گرہوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کا پورا خاندان ان کی لاش کے موصول ہونے تک غمزدہ ہے، کرنل امام کے بھائی کرنل ریٹائرڈ محمد سفیر تارڑ نے کہا۔ " جب تک ہمیں لاش موصول نہیں ہوتی، ہم ان کی آخری رسومات ادا نہیں کر سکتے۔ اس سےزیادہ دکھی لمحات نہیں ہوسکتے،" کرنل سفیر نے دی نیوز کو دیے جانے والے میں بیان میں کہا۔

میرے خیال میں ٹی وی چینلوں کو ایسے سفاک وڈیو نہیں دکھانے چاہیے،" بچوں کی صحت کے ماہر ڈاکٹر گوہر امین نے کہا۔ “میرے خیال میں ٹی وی چینلوں کو ایسے سفاک وڈیو نہیں دکھانے چاہیے،" بچوں کی صحت کے ماہر ڈاکٹر گوہر امین نے کہا۔ لاکھوں لوگ بشمول خواتین اور بچے روزانہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ایسے ویڈیو کی وجہ سے ان پر اس کا منفی اثر پڑتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ٹی وی سٹیشنوں کو زیادہ سے زیادہ مثبت تصاویر دکھانی چاہیے سماجی تناؤ کو کم کرنے کے لیے۔

حکومت وڈیو کے بارے میں تبصرہ نہیں کررہی

حکومت میں کسی نے بھی وڈیو کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا۔

ٹی ٹی پی دوسرے ممالک سے ہدایات لے رہی ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، فاٹا کے سابقہ سیکورٹی سیکٹری برگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں۔ کرنل امام کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہ جیسا کہ کرنل امام افغان طالبان کے دوست تھے، ٹی ٹی پی کے ہاتھوں ان کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں شدت پسند بیرونی قوتوں کے لیے کام کررہے ہیں۔

میرے خیال میں ٹی وی چینلوں کو ایسے سفاک وڈیو نہیں دکھانے چاہیے،" بچوں کی صحت کے ماہر ڈاکٹر گوہر امین نے کہا۔

کچھ مقامی اخبارات نے بھی کرنل امام کی موت کی وڈیو پر شک ظاہر کیا ہے۔ ایک اخبار نے آئی ایس آئی کے سابقہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا، یہ ایک ڈرامہ نظر آتا ہے۔" اخبار کے مطابق، حمید گل نے کہا کہ انہوں نے کرنل امام کے بیٹے میجر نعمان سے بات کی اور اس سے کہا کہ وہ اپنے والد کے لیے فاتحہ نہ پڑھے جب تک کہ آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہو کہ ان کو قتل کردیا ہے۔

کرنل امام مارچ 2009 میں لاپتہ ہوئے۔ وہ ایک دوسرے سابقہ آئی ایس آئی کے افسر، سکواڈرن لیڈر ریٹائرڈ خالد خواجا؛ پاکستانی نژاد برطانوی صحافی اسد قریشی؛ اور ڈرائیور رستم خان سے ہمراہ بذریعہ کوہاٹ شمالی وزیرستان جارہے تھے۔ ان کی ٹیم مبینہ طور پر پاکستانی طالبان کےبارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم بنانا چاہتی تھی۔

اس کے ایک ماہ بعد خالد خواجہ کو قتل کردیا گیا۔ ان کی لاش کرم کوٹ سے اپریل 2010 کو ملی ایک نوٹ کے ہمراہ جس میں الزام لگایا گیا کہ ان کا تعلق خفیہ ایجنسیوں سے ہے۔

اغواکاروں نے اسد قریشی اور رستم کو ستمبر 2010 میں چھوڑ دیا، مبینہ طور پر بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد۔

کرنل امام مبینہ طور پر مخصوص جنگی اپریشن کے ماہر تھے جنہوں نے فوج کے سپشل سروس گروپ میں اور بعد میں آئی ایس آئی میں بطور انٹیلیجنس افسر خدمات انجام دیں ۔ بعد میں وہ ہرات میں پاکستان کے کونسل جنرل رہے۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 12)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 1 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • اگر یہ سچ ہے تو پشتون کلچر کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے۔ کرنل امام ایک سچا مجاہد اور مسلمان تھا اور پشتونوں کی طرح ہی اپنے نظریات میں پکا تھا۔

    December 20, 2011 @ 01:12:29PM Salamat khan
  • ہم سماء ٹی وی کے مشکور ہیں۔

    March 4, 2011 @ 02:03:00PM zahir
  • اگر یہ وڈیو درست ہے تو انتہائی لرزہ خیز ہے۔ کم از کم لاش تو لواحقین کے حوالے کر دینی چاہیے۔ یہ بہت اچھا اور مختلف تجزیہ ہے۔

    February 25, 2011 @ 02:02:00AM khalid kamal