کراچی کے عسکریت پسند گروپوں پر حالیہ ہلاکتوں کا الزام
حکام کو بیشتر حملوں میں لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے
ضیاء الرحمٰن
2012-02-07
کراچی – کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کی کارروائیوں کی لہر اب بھی جاری ہے اور جنوری میں کئی افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں خاص طور پر ڈاکٹر اور وکلاء شامل ہیں۔
پولیس اور سلامتی کے تجزیہ کاروں کو حالیہ ہلاکتوں میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں خاص طور پر سنی لشکر جھنگوی اور شیعہ سپاہ محمد پاکستان کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
یکم فروری کو ڈیلی ٹائمز کی خبر میں بتایا گیا کہ جنوری میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے 49 واقعات پیش آئے جن میں سے بعض فرقہ وارانہ بنیادوں پر کیے گئے تھے۔
وکلاء اور ڈاکٹروں کی ہلاکتیں
جرائم کی حالیہ لہر میں قاتلوں نے وکلاء کو نشانہ بنایا ہے۔ 24 جنوری کو حملہ آوروں نے اہل سنت و الجماعت کے دو قانونی مشیروں کو ہلاک کر دیا۔ مرنے والوں کے نام محمد علی عرف ماما اور نعمان بتائے گئے ہیں۔
پچیس جنوری کو پاکستان چوک کے نزدیک تین شیعہ وکلاء بدر منیر جعفری، کفیل جعفری اور شکیل جعفری کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
گیارہ جنوری کو ایم اے جناح روڈ پر اہل سنت و الجماعت کے ایک قانونی مشیر اور سینئر وکیل مقبول الرحمٰن کو قتل کر دیا گیا۔ مقبول الرحمٰن کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے سرگرم کارکنوں کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔
اکتیس دسمبر کو گلشن اقبال کے علاقے میں ایک شیعہ تنظیم کے قانونی مشیر عسکری رضا پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن نے وکلاء کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس قتل و غارت گری کو روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سندھ میں 20 وکلاء قتل ہوئے تھے جن میں سے 15 کا تعلق کراچی سے تھا۔
اردو یونیورسٹی کراچی میں قانون کی تدریس سے منسلک ایڈووکیٹ اقبال شاہ نے کہا کہ حملہ آور زیادہ تر ان وکلاء کو ہدف بنا رہے ہیں جو ان کے فرقہ وارانہ حریفوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر وکلاء کے قتل نے قانونی برادری میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔
قاتلوں نے ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ 28 جنوری کو کراچی کے فیڈرل بی ایریا میں 60 سالہ ڈاکٹر سید جعفر محسن رضوی کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ رضوی ایک شیعہ عبادت گاہ کے ٹرسٹ کے رکن تھے۔
تیس جنوری کو ایک اور ڈاکٹر اشفاق احمد قاضی کو اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں ملیر سٹی میں واقع اپنے کلینک جا رہے تھے۔ قاضی کا تعلق دیو بندی مسلک سے تھا۔
طبی برادری نے ڈاکٹروں کے قتل کا تعلق فرقہ وارانہ بدامنی سے جوڑا ہے۔ ایک سال قبل سینٹرل ایشیا آن لائن کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹروں کے قتل میں عسکریت پسندوں کا ہاتھ تھا۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی سندھ شاخ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے یکم فروری کو روزنامہ ڈان سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں لوگوں کو ان کے پیشے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے فرقوں کی وجہ سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔
کراچی میں فرقہ وارانہ قتل
سلامتی کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ کراچی میں گزشتہ سال اور جنوری میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کی کارروائیوں میں انتہائی اضافہ ہوا۔ مرکز برائے تحقیق و مطالعہ سلامتی سے وابستہ اور کراچی میں مقیم سلامتی کے ایک تجزیہ کار محمد نفیس نے کہا کہ کالعدم فرقہ وارانہ تنظیمیں دیگر نسلی اور سیاسی تشدد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کے کارکنوں اور ہمدردوں کو قتل کر رہی ہیں۔
اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے پاک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ امن کی تیار کردہ پاکستان سلامتی رپورٹ 2011 کے مطابق 2011 میں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی تاہم کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں بڑی تعداد میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد میں سرگرمی سے ملوث گروپوں میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ پاکستان، سنی تحریک اور شیعہ گروپ مثلاً سپاہ محمد پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شامل تھے۔
پاک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ امن کی رپورٹ کے مطابق 2011 میں پاکستان میں فرقہ واریت سے تعلق رکھنے والے 1 سو 11 دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں سے پانچ خودکش حملے تھے۔ ان حملوں میں 3 سو 14 افراد جاں بحق اور 4 سو 59 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کراچی سب سے زیادہ متاثرہ شہر رہا جس میں گزشتہ سال 36 حملے ہوئے۔ یہ حملے پاکستان میں ہونے والے تمام فرقہ وارانہ حملوں کا تقریباً 32 فی صد تھے جن میں 58 افراد کی جانیں گئیں اور 58 افراد ہی زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں 2009 کی آخری سہ ماہی میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا تھا اور اس نے 2010 اور 2011 میں بھی شہر کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ تشدد کے یہ واقعات شیعہ سنی اور بریلوی دیو بندی کے خطوط پر ہوتے رہے۔
نفیس نے کہا کہ عسکریت پسند تنظیمیں حکومتی پابندیوں کو جل دینے کے لئے نئے ناموں سے کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر سپاہ صحابہ پاکستان نے اہل سنت و الجماعت کا نام اپنا لیا ہے جبکہ سپاہ محمد پاکستان نے بھی مختلف ناموں سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
حکومت کی کارروائیاں
پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ مفرور عسکریت پسند کمانڈر فضل اللہ دہشت گردوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی کارروائیوں کے لئے گلگت سے کراچی بھجوا رہا ہے۔
اٹھائیس جنوری کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ "ڈیتھ اسکواڈ" نامی ایک گروپ نے کراچی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مخالفین کو قتل کیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
کراچی کے جرائم کی تفتیش کے محکمے (سی آئی ڈی) کے انسداد انتہاپسندی سیل نے بتایا کہ اس نے کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان دہشت گردوں پر 10 افراد کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے جن میں پانچ وکلاء بھی شامل ہیں۔
سی آئی ڈی کراچی کے ایک سینئر عہدیدار چوہدری اسلم نے کہا کہ ہم نے ان افراد سے ہتھیاروں اور گولیوں کے ذخیرے کے علاوہ ایک فہرست بھی قبضے میں لی ہے جن میں ان افراد کے نام لکھے ہوئے تھے جنہیں وہ نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ان افراد کی شناخت محمد توفیق انصاری، صلاح الدین اسرائیل اور مولانا محمد ارشد کے ناموں سے کی ہے اور انہیں ماڑی پور کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔
چوہدری اسلم نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے 25 جنوری کو تین شیعہ وکلاء کی ہلاکت اور مزید دو افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وہ اپنی فہرست میں موجود دیگر شیعہ وکلاء کو بھی قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
اسلم نے مزید کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے 25 جنوری کو تینوں وکلاء کے قاتلوں کی گرفتاری پر منتج ہونے والی معلومات کی فراہمی پر 10 لاکھ روپے (11 ہزار ڈالر) انعام کا اعلان کیا تھا۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایم کیو ایم ان قتلوں کے بارے میں نہ جانتی ہو۔ رحمان ملک کا تو نام بھی نہیں لینا چاہیے کہ اس نے کراچی کے ساتھ کیا کیا۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایس ایس پی اسلم اب ایم کیو ایم کے پے رول پر کام کر رہا ہے اور وہ بھی شیعوں پر بہت سختی کرتا ہے۔
حکومت کو کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور ان کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے۔