پاکستان اور افغانستان کی پولیو کے خلاف مشترکہ جنگ

دسمبر کے بعد عالمی ادارہ صحت کی مالی امداد کے خاتمے کا امکان

اشفاق یوسف زئی

2012-02-08

پشاور – افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں نے پولیو وائرس کے بھیانک اثرات سے بچنے کے لئے اس اپاہج کر دینے والے مرض کے خاتمے کی مشترکہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ تاہم دسمبر 2012 کے بعد عالمی ادارہ صحت کی مالی امداد بند ہو جانے سے ان کی یہ کوششیں خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے ڈاکٹر کاشف محمود نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لئے گزشتہ سال کافی بھاری ثابت ہوا کیونکہ ان دونوں ملکوں میں پولیو کے بالترتیب 1 سو 98 اور 80 واقعات پیش آئے اور وہ دنیا میں اس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے اور دوسرے نمبر کے ملک بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بچوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کی کوششوں میں انتہائی متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں پر 8 ارب ڈالر (7 سو 25 ارب روپے) خرچ کیے ہیں جو 1994 کے بعد دنیا میں صحت عامہ کی سب سے بڑی مہم ہے۔

عالمی امداد کی بندش کا امکان

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر خلیف بائل محمود نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے تکنیکی مشاورتی گروپ نے رواں سال دسمبر تک فنڈز روکنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے متعلق اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ 2012 کے اختتام کے بعد پولیو مہم مزید مالی امداد فراہم نہیں کرے گی۔

بائل نے کہا کہ ہمیں مشترکہ حکمت عملی کے کامیاب ہونے کی امید ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے اعلٰی ترین سطح پر اس مرض کے خاتمے سے سیاسی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2011 میں دنیا بھر میں پولیو کے 6 سو 43 واقعات میں سے 2 سو 78 پاکستان اور افغانستان میں پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے اور دنیا میں اب تک پولیو کے جتنے واقعات ہوئے ہیں ان میں سے سات پاکستان میں اور ایک افغانستان میں ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان سے پولیو کا وائرس ایسے ملکوں کو بھی منتقل ہو رہا ہے جنہوں نے طویل عرصہ پہلے پولیو سے چھٹکارا پا لیا تھا۔

چین کے مغربی صوبہ سنکیانگ میں 2011 میں پولیو کے سات واقعات کی اطلاع ملی تھی۔ وہاں پایا جانے والا وائرس جینیاتی طور پر پاکستان میں زیر گردش وائرس کی قسم سے ملتا جلتا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس سے قبل چین میں پولیو کے کسی مریض کی آخری بار تصدیق 1999 میں ہوئی تھی۔

محمود نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کی مشترکہ کوششوں کا فیصلہ ان سائنسی مطالعوں کے بعد کیا گیا جن سے پتا چلا تھا کہ افغان تارکین وطن بچوں سے یہ وائرس پاکستانی بچوں میں پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2011 میں خیبر پختونخواہ میں پولیو وائرس میں مبتلا ہونے والے کل 23 بچوں میں سے چھ افغان مہاجرین تھے جبکہ چھ مقامی بچوں میں جس وائرس کا سراغ لگایا گیا وہ افغانستان میں زیر گردش وائرس سے ملتا جلتا تھا۔

اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لئے قائم کردہ سیل کے ڈاکٹر انور اقبال نے کہا کہ مہم کو اپنی موجودہ رفتار پر چلانا دشوار ہو گا کیونکہ اس کے لئے ہر سال 3 ارب روپے کی رقم درکار ہے جو اقوام متحدہ اور دیگر عطیہ دہندگان فراہم کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر عطیہ دہندگان کی دستبرداری سے کافی عرصے سے جاری کوششوں کو زبردست دھچکا لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارت صحت کا وجود نہیں رہا اور صحت کے مسائل کی ذمہ داری اب صوبوں کی ہے۔ تاہم ہم نے وزیر اعظم کے تحت ایک سیل قائم کیا ہے جو تمام صوبوں میں پولیو پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیل صوبوں کے ساتھ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہموں کے بارے میں رابطہ کاری جاری رکھے گا۔ انور نے سینٹرل ایشیا آن لائن کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی امداد کنندگان ہمیں ایسے وقت میں نہیں چھوڑیں گے جب ہم اس مسئلے کے خاتمے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔

محمود نے کہا کہ اقوام متحدہ کو دو سال کے عرصے یعنی 2010 تا 2012 کے دوران 1 ارب 30 کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں اور اقوام متحدہ نے نجی عطیہ دہندگان مثلاً بل اینڈ میلنڈا گیٹس کو 64 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا خلاء پر کرنے پر قائل کیا ہے۔

مشترکہ کوشش کا قیام

نئے منصوبے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دونوں ملکوں میں پانچ سال کی عمر سے کم تمام بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں۔ محمود کے مطابق دونوں ملک حفاظتی قطرے پلانے کی اپنی قومی مہموں کو ہم آہنگ بنائیں گے تا کہ کامیابی کے امکانات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے بچوں کی سرحد کے آر پار آمد روکی جائے جنہوں نے حفاظتی قطرے نہیں پی رکھے۔

خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پولیو پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر جان باز آفریدی نے کہا کہ ہر سال پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی کل 13 مہمیں منعقد ہوتی ہیں جن کے دوران 3 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے۔

اسی طرح حکام نے 2 ہزار 4 سو کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد کے نزدیک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے مراکز کی تعداد نو سے بڑھا کر 15 کر دی ہے۔ آفریدی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ منہ کے راستے پولیو ویکسین پولیو وائرس کے خاتمے کا واحد طریقہ ہے۔

پسماندہ خیالات کے خلاف جنگ

دونوں ملکوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر پولیو کے قطرے پلانے والے عملے کو اکثر ان نظریات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی مہم ایک مغربی سازش ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو بانجھ بنا کر ان کی آبادی کم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ بعض مذہبی گروپ پولیو کے قطروں کو غیر اسلامی تصور کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب تک یہ بیماری نہ ہو اس کا علاج کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

آفریدی نے کہا کہ گزشتہ سال 15 بچے اس وجہ سے پولیو کے قطرے نہ پی سکے کیونکہ ان کے والدین کی یہ دلیل تھی جب تک پولیو کا مرض نہ ہو اس کا علاج کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بہت سے والدین نے دیگر وجوہات کی بناء پر قطرے پلانے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکام کے مطابق 2011 میں خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں 33 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا جبکہ 2010 میں ایسے والدین کی تعداد 23 ہزار تھی۔

افغانستان میں پولیو کے سربراہ افسر ڈاکٹر غفور لغمانی نے بھی ایسے ہی مسائل کا ذکر کیا جو آفریدی نے خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں بتائے تھے۔

لغمانی نے کہا کہ گزشتہ سال ہم 2 لاکھ کے قریب بچوں کو اس وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلا سکے کہ ان کے والدین اس پر آمادہ نہیں تھے۔ وہ ان قطروں کو اسلام کے خلاف تصور کرتے تھے۔

سلامتی کی وجوہات کی بناء پر گزشتہ سال طبی عملہ افغانستان کے 30 فی صد علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکا مگر پاکستان میں خاصی بہتری دیکھی گئی۔ فاٹا میں 2011 کے دوران طبی عملے نے 90 فی صد علاقوں تک رسائی حاصل کی اور تقریباً دس لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔ اس کے برعکس 2010 میں دہشت گردی کے باعث فاٹا کے 40 فی صد حصے تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

لغمانی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ہم تشدد سے متاثرہ علاقوں میں بچوں تک پہنچنے کے لئے پاکستانی حکمت عملی کی تقلید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرح ہم بھی دینی علماء کی خدمات حاصل کریں گے تا کہ وہ والدین کو قائل کریں کہ پولیو کے قطرے اسلام کے خلاف نہیں ہیں اور یہ والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین کے ذریعے روکی جا سکنے والی بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کریں۔

تیرہ جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک دو روزہ اجلاس میں دونوں ملکوں کے حکام نے سرحدی اضلاع میں پولیو وائرس کی ترسیل کو روکنے کا عزم ظاہر کیا۔

پولیو کے خلاف جنگ میں 'آخری سرحد'

عالمی ادارہ صحت کے محمود نے کہا کہ ان کے تصور کے مطابق جامع حکمت عملی پر سالانہ 50 کروڑ ڈالر (45 ارب 30 کروڑ روپے) کے اخراجات آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں نے اس معاملے میں تعاون کے لئے ایک فوکس گروپ تشکیل دیا ہے۔

افغانستان کے صحت عامہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر توفیق مشعل نے کہا کہ ہر سال 20 لاکھ سے زائد بچے پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں۔ انہوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ صحت کے حکام دونوں ملکوں کو پولیو کے خلاف عالمگیر جنگ میں وبائی امراض کا ایک واحد بلاک اور آخری سرحد تصور کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ پولیو سے متعلق سرحد پار رابطہ کاری کو مستحکم اور کامیاب بنانے پر وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سرحدی اضلاع میں مقامی سطح پر ایک مشترکہ سماجی نقشہ سازی کی مشق کا آغاز کیا گیا ہے تا کہ بیماری کی منتقلی کے ذرائع کی نشاندہی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سرحدی علاقوں میں قبائلی لویہ جرگے بھی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ قبائلی عمائدین کی حمایت حاصل کی جا سکے اور اس مہم میں عوامی شرکت بڑھائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے گھروں تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے خواتین طبی عملے میں اضافہ کرنے اور مذہبی گروپوں کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں کمی لانے کے لئے مقامی علماء سے کافی زیادہ استفادہ کیا گیا ہے اور افغانستان بھی اب یہ ماڈل اختیار کر رہا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button