-
کرغیزستان بشکیک-اوش شاہراہ تعمیر کریگا
-
کراچی پولیس نے لیاری میں امن بحال کر دیا
-
مردان خودکش دھماکے میں رکن صوبائی اسمبلی جاں بحق
-
جنوبی کرغیزستان میں نوجوانوں کا میلہ یکجہتی کو مضبوط بنائے گا
پاکستان میں القاعدہ کا کمانڈر بدر منصور مبینہ طور پر ہلاک
حکام کا کہنا ہے کہ بدر منصور ان پانچ کمانڈروں میں شامل تھا جو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں مارے گئے
ظاہر شاہ
2012-02-09
میران شاہ – پاکستان میں القاعدہ کا اعلٰی ترین رہنما بدر منصور 9 فروری کو شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ میں مارا گیا۔
القاعدہ سے منسلک پنجابی طالبان کے بدر منصور گروپ کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں چار دیگر اعلٰی کمانڈر بھی ہلاک ہو گئے۔ یہ ہیڈکوارٹر ظفر کالونی کے نزدیک میران شاہ بازار میں قائم تھا۔
بدر منصور کا اصلی نام قاری عمران تھا اور وہ ملتان کا رہنے والا تھا۔ اس نے ایک سال قبل بدر منصور گروپ کے بانی کے اعزاز میں یہ نام اختیار کیا تھا۔ حقیقی بدر منصور 2010 میں ہلاک ہو گیا تھا۔
ڈان نیوز نے انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے نام قاری فیاض، مولوی فیصل خراسانی، قاری مشتاق اور یاسر خراسانی ہیں۔ یہ افراد بدر منصور گروپ کے بعض اعلٰی کمانڈروں میں سے تھے اور ان پر افغانستان میں اتحادی فورسز پر حملوں کا الزام ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے ایک ذریعے نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو اس بات کی تصدیق کی کہ بدر ہلاک ہونے والے پانچ افراد میں شامل تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ہم نے ان افراد کی لاشوں کو گھر سے ہٹا دیا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بدر منصور بھی شامل تھا جبکہ حملے میں ایک خاتون اور بچی زخمی ہوئی ہیں۔
بدر منصور گروپ کے القاعدہ کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ گروپ کا دعوٰی ہے کہ اس کے اراکین کی تعداد 2 ہزار 2 سو ہے جن میں سے 3 سو 50 کٹر جنگجو ہیں جبکہ 1 سو 50 خودکش بمبار ہیں۔
یہ گروپ حرکتہ الجہاد الاسلامی کے ساتھ مل کر حملے کرتا رہا ہے اور اسے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کا ایک مرکزی گروپ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ گروپ زیادہ تر میران شاہ میں اور اس کے اردگرد بویا، دتہ خیل، میر علی، تپی اور دیگر علاقوں میں موجود ہے۔ بدر منصور گروپ کے افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک سے بھی قریبی روابط ہیں۔
سینٹرل ایشیا آن لائن نے جب سلامتی کے حکام اور سیاسی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے حملے میں بدر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔
اس ہلاکت سے القاعدہ کی کارروائیوں پر اثر پڑے گا۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سیکرٹری ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ شاید وہ بہت زیادہ اہم نہ ہو مگر وہ القاعدہ کے اعلٰی ترین عسکریت پسندوں میں سے ایک ضرور تھا اور اس کی ہلاکت سے خطے میں پہلے سے ہی منتشر القاعدہ کی کارروائیاں مزید کمزور ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی حالت پہلے ہی پتلی ہو چکی ہے اور خطے میں اس کے قدموں کی چھاپ کمزور ہو گئی ہے۔
شاہ نے کہا کہ بدر کی جگہ جلد ہی کوئی اور لے لے گا کیونکہ ان گروپوں کے پاس بہت سے متبادل رہنما موجود ہوتے ہیں تاہم ایک چیز واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ القاعدہ کے پاکستانی عسکریت پسندوں اور مرکزی تنظیم کے درمیان رابطے کو یقیناً نقصان پہنچے گا۔
بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ میرے خیال میں کامیاب زمینی کارروائیوں اور میزائل حملوں کے بعد القاعدہ کی صف اول کی قیادت بے اثر ہو چکی ہے اور انہوں نے اب یمن اور صومالیہ کو راہ فرار اختیار کر لی ہے۔ چنانچہ اپنے جنگجوؤں کے حوصلے بلند رکھنے کے لئے کم اہم لوگ اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتے ہیں مگر میرے خیال میں اعلٰی کمانڈروں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری رہنے سے تنظیم کے لئے حالات سازگار نظر نہیں آتے۔
اسلام آباد میں قائم سلامتی پر تحقیق کے ایک ادارے پاک انسٹیٹیوٹ برائے مطالعہ امن کے ڈائریکٹر عامر رانا نے اس بات سے اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدر منصور کی ہلاکت سے یقیناً پاکستان میں القاعدہ کی کارروائیاں متاثر ہوں گی کیونکہ گزشتہ چند ماہ سے انہوں نے پاکستان میں حملوں کا سلسلہ تیز کر رکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری آئے گی کیونکہ یہ شخص القاعدہ کے اعلٰی رہنماؤں میں سے ایک تھا اور اس کی ہلاکت سے تنظیم کا مرکزی کمان و کنٹرول کا نظام یقیناً متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سلامتی کے ماحول کے لئے یہ ایک اچھی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حرکتہ المجاہدین کے ساتھ اور جہاد اسلامی کے ذریعے القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے عسکریت پسندوں الیاس کشمیری، بدر منصور گروپ کے بانی اور قاری ظفر کی ہلاکتوں کے بعد القاعدہ کے لئے یہاں حالات پہلے سے ہی خراب چلے آ رہے تھے۔ اور اب قاری عمران کی ہلاکت سے خطے میں ان کی کارروائیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے اور یہ خطے میں امن کے لئے خوش آئند چیز ہے۔







![پشاور میں 14 جون کو کاریگر چائے پکانے کے برتن کی مرمت کر رہے ہیں۔ [اشفاق یوسفزئی]](/shared/images/2013/06/18/pakteapot-230_184.jpg?1371554704)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اللہ پاکستان اور دیگر تمام اسلامی ممالک پر رحم کرے اور انہیں دشمنوں پر غالب کرے۔ آمین
نیوز الرٹ
جیو پاکستان
کسی کے لیے بھی اچھا ہے