-
ازبک تھیٹر گروپ کی جانب سے عصر حاضر کے ڈرامہ کی تعلیم
-
مصر میں القاعدہ سے روابط رکھنے والے دہشت گرد گروپ کے اراکین کی گرفتاریوں کا اعلان
-
افغانستان میں قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد
-
نماز جمعہ کے دوران حملوں میں 20 افراد جاں بحق، تقریبا 50 زخمی
فاٹا میں سیاسی سرگرمیاں عسکریت پسندی کی شکست کی علامت، مبصرین
فاٹا میں رائے دہندگان کے اندراج اور انتخابی مہم میں اضافہ ہو رہا ہے
ضیاء الرحمٰن
2012-03-08
پشاور – وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں حالیہ اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں عسکریت پسندی کی شکست اب بس کچھ ہی عرصے کی بات ہے۔ یہ بات سیاسی اور سلامتی کے تجزیہ کاروں نے کہی ہے۔
آئندہ 12 ماہ کے اندر متوقع عام انتخابات سے قبل پہلی بار سیاسی جماعتیں فاٹا میں بلا خوف و خطر اپنی سیاسی مہم چلا رہی ہیں۔
باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان نے کہا کہ قبائلی عوام صدر آصف علی زرداری کے انتہائی شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اگست میں فاٹا کی ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں سیاسی سرگرمیوں پر 64 سال سے عائد پابندی اٹھا لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اصلاحات سے قبائلی خطے میں عسکریت پسندی کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔
اگست میں صدر زرداری نے سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کو فاٹا تک توسیع دے دی تھی اور آئین کی شق 2 سو 47 کے تحت نوآبادیاتی دور سے چلے آنے والے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترمیم کا ایک قانون متعارف کرایا تھا جس کے نتیجے میں فاٹا پاکستان کے دیگر خطوں کے برابر حیثیت پر آ گیا۔
اس توسیع سے قبل فاٹا کے بارہ اراکین اسمبلی اور آٹھ سینیٹر آزاد امیدواروں کی حیثیت سے منتخب ہو کر آتے تھے اور کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتے تھے۔ اب آئندہ عام انتخابات میں قبائلی امیدواروں کو ان کی متعلقہ سیاسی جماعتوں کے انتخابات نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔
باجوڑ ایجنسی کی اہم سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام فضل، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔ باجوڑ میں مقیم ایک مقامی صحافی اور سرگرم کارکن غفار طوفان نے بتایا کہ انہوں نے اوائل جنوری سے لے کر اب تک قبائلی ایجنسی میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کر کے سیاسی مہم شروع کر دی ہے۔
طالبان عسکریت پسند متعدد سیاسی کارکنوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن میں خاص طور پر اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام فضل کے اراکین شامل ہیں۔ سیاسی رہنما اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن خودکش حملوں میں بال بال بچے ہیں۔ پی پی پی شیر پاؤ کے سربراہ آفتاب احمد شیر پاؤ اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے صوبائی صدر امیر مقام بھی حملوں کا نشانہ بنے مگر وہ ان میں محفوظ رہے۔
سابق سینیٹر اور جمعیت علمائے اسلام فضل کے مرکزی رہنما مولانا راحت حسین نے بتایا کہ جے یو آئی ایف نے عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود گزشتہ ماہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دو عوامی جلسے منعقد کیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان نے پمفلٹ تقسیم کیے تھے جن میں مقامی قبائلیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ جے یو آئی ایف کے جلسوں میں شرکت نہ کریں۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ دھمکیوں کے باوجود تقریباً 15 ہزار مقامی افراد نے ہمارے جلسوں میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اب عسکریت پسندی سے تنگ آ چکے ہیں اور انہیں جمہوری نظام حکومت پر اعتماد ہے۔
طوفان نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ باجوڑ اور مہمند قبائلی ایجنسیوں میں سیاسی سرگرمیوں میں حالیہ اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبائلیوں کی اکثریت اے این پی اور پی پی پی سمیت آزاد خیال سیاسی جماعتوں میں شامل ہو رہی ہے اور انہوں نے مذہبی اور قدامات پسند سیاسی گروپوں کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی مذہبی جماعتوں کے بارے میں محتاط ہیں۔
رائے دہندگان کے اندراج میں اضافہ
سرکاری ذرائع اور ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق قبائلی علاقوں میں رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 28 نومبر کو روزنامہ ڈان کی خبر میں بتایا گیا کہ ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں 10 لاکھ سے زائد رہائشیوں نے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2011 میں نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی نے 2011 کی انتخابی فہرستوں میں 7 لاکھ 59 ہزار 7 سو 75 ووٹروں کا اضافہ کیا جبکہ فاٹا کے مقامی حکام نے فاٹا میں 13 لاکھ نئے رائے دہندگان کا اندراج کیا۔ یہ بات ڈان کی خبر میں بتائی گئی۔
2011 کی انتخابی فہرستوں کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور وہاں 2011 میں 2 لاکھ 95 ہزار 2 سو 78 افراد کا اندراج ہوا۔ اسی سال دیگر ایجنسیوں کے اعداد و شمار کچھ یوں ہیں: خیبر، 2 لاکھ 59 ہزار 5 سو 75 افراد؛ کرم، 2 لاکھ 14 ہزار 92 افراد؛ مہمند، 1 لاکھ 54 ہزار 1 سو 89 افراد؛ شمالی وزیرستان، 1 لاکھ 37 ہزار 9 افراد اور اورکزئی، تقریباً 84 ہزار افراد۔
ان فہرستوں کے مطابق جنوبی وزیرستان میں اندراج شدہ رائے دہندگان کی تعداد کم ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باعث مقامی رہائشی اپنے آبائی علاقوں سے بے گھر ہو گئے تھے۔ یہ بات رپورٹ میں اسسٹنٹ الیکشن کمشنر برائے جنوبی وزیرستان شمشاد خان کے حوالے سے بتائی گئی۔
اخونزادہ چٹان نے کہا کہ فاٹا میں رائے دہندگان کے اندراج میں اضافے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قبائلی عوام مکمل طور پر عسکریت پسند کو رد کرتے ہیں اور جمہوری اور سیاسی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں۔
خواتین کی سیاسی شرکت
فاٹا پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کی کوئی نمائندہ خاتون پارلیمان میں نہیں ہے تاہم سرگرم سیاسی کارکنوں کی پیش گوئی ہے کہ خواتین رائے دہندگان کے اندراج میں اضافے اور قبائلی علاقوں میں سیاسی شرکت کے باعث آئندہ انتخابات میں یہ صورت حال تبدیل ہونے کی توقع ہے۔
پشاور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل صباء رحمٰن مہمند کو حال ہی میں مہمند ایجنسی میں اے این پی کا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔
صباء مہمند نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ میں فاٹا کی پہلی خاتون ہوں جو شعبہ خواتین کی بجائے عام نشست پر نائب صدر منتخب ہوئی ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل کر کے انتہائی خوشی ہے۔
مہمند کی کابینہ میں بھی ایک خاتون موجود ہیں۔
صباء مہمند نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ مرکزی دھارے کی سیاست میں خواتین کی آزادی کے لحاظ سے فاٹا میں اچھی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ خواتین آگے بڑھیں اور مرکزی دھارے کی سیاست میں شامل ہو جائیں۔
طوفان نے کہا کہ خواتین رائے دہندگان کی حمایت کے بغیر قبائلی امیدوار یا سیاسی جماعتیں انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گی۔ انہوں نے نادرا حکام کے حوالے سے کہا کہ باجوڑ کی نئی کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں 2 لاکھ 90 ہزار رائے دہندگان میں سے 91 ہزار کے قریب خواتین ہیں۔
پشاور میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن نغمہ شاہ نے کہا کہ ماضی میں فاٹا کے انتخابات میں خواتین کو، چاہے وہ رائے دہی کے حقوق کی اہمیت سے آگاہ بھی ہوں ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا تھا یا پھر ان کے مرد رشتہ داروں نے ان کے ووٹ ڈالنے کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ اب وقت تبدیل ہو رہا ہے۔
شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ مرکزی دھارے کی سیاست میں خواتین کی آزادی طالبان عسکریت پسندوں کے لئے ایک واضح دھچکا ہو گا کیونکہ وہ فاٹا میں خواتین کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے لڑکیوں کے اسکول کو تباہ کیا، خواتین کو سماجی و اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیا اور یہاں تک کہ خواتین کو سر عام کوڑے بھی لگائے۔







![خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلی کی عمارت میں نومنتخب اسمبلی کے پہلے اجلاس سے قبل 15 مئی کو بحالی کا کام جاری ہے۔ افتتاحی اجلاس کے لئے ابھی تاریخ متعین نہیں کی گئی۔ [سید انصار عباس]](/shared/images/2013/05/17/pakassemblyphoto-230_184.jpg?1368834606)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
ہم فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے فاٹا کے مسئلے کو جمہوری طریقے سے حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔