-
کرغزستان میں فضائی نقل و حمل کی سہولیات کو ترقی دینے کے اقدامات
-
خیبر پختونخواہ میں موبائل فون کے شعبے کی نمو کو فروغ دینے کا فیصلہ
-
ازبک تھیٹر گروپ کی جانب سے عصر حاضر کے ڈرامہ کی تعلیم
-
مصر میں القاعدہ سے روابط رکھنے والے دہشت گرد گروپ کے اراکین کی گرفتاریوں کا اعلان
کراچی پولیس کی کارروائیوں سے طالبان کو اسلحے کی ترسیل متاثر
پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال کراچی میں تحریک طالبان پاکستان کے تئیس عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے
جاوید محمود
2012-06-05
کراچی – کراچی پولیس کے جرائم کی تحقیقات کے محکمے یا سی آئی ڈی پولیس کی کارروائیوں کے نتیجے میں شہر میں تحریک طالبان پاکستان کو ہتھیاروں کی ترسیل متاثر ہو چکی ہے۔ یہ بات ایک سینئر پولیس عہدیدار نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتائی۔
سی آئی ڈی کے سربراہ فیاض خان نے کہا کہ ہم نے 2012 میں تحریک طالبان پاکستان کے 23 سرگرم کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جو کراچی میں اپنے نیٹ ورک کو ہتھیاروں کی فراہمی میں ملوث تھے۔ دو گرفتار ملزمان پر وزیرستان اور دیگر مقامات سے اسلحہ لانے کا الزام ہے جبکہ باقی 21 کو مبینہ طور پر طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
رحمان اللہ نامی ایک شخص پر شبہ ہے کہ وہ کم از کم دو سالوں سے اسلحے کا ایک اہم اسمگلر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تحریک طالبان پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والے افراد کے قبضے سے راکٹ لانچر، دستی بم، خود کش جیکٹیں، مشین گنیں، پستول اور گولیاں برآمد کی ہیں۔
فیاض خان نے کہا کہ ہم نے سی آئی ڈی پولیس کے اہلکاروں کی مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو طالبان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہیں اور شہر میں دہشت گردی پھیلانے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں اور ہتھیاروں کو ضبط کرنے کے نتیجے میں کراچی میں تحریک طالبان پاکستان کا نیٹ ورک کمزور ہو گیا ہے اور عسکریت پسندوں کی شہر میں مزید حملے کرنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے چھوٹے گروپوں کے پاس ہتھیاروں کی ترسیل کا نظام
خان نے بتایا کہ طالبان نے پانچ سے چھ سرگرم اراکین پر مشتمل چھوٹے چھوٹے گروپ بنا رکھے ہیں جو کراچی میں ہتھیاروں کی ترسیل کا بندوبست کرتے ہیں۔
مگر ان کے بقول جب سی آئی ڈی کسی ایک گروپ کے اراکین کو گرفتار کرتی ہے تو ہتھیاروں کی تقسیم کا نظام کوئی اور گروپ سنبھال لیتا ہے۔
تاہم فیاض خان کا کہنا تھا کہ پولیس نے رواں سال اتنی زیادہ گرفتاریاں کی ہیں کہ شہر میں تحریک طالبان پاکستان کا ہتھیاروں کی ترسیل کا نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اسلحہ ڈیلر بسوں اور ٹرکوں کے خفیہ خانوں میں چھپا کر ہتھیار شہر میں اسمگل کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہتھیار اتنے اچھے طریقے سے چھپائے ہوتے تھے کہ مخبری کے بغیر پولیس کے لیے انہیں ڈھونڈ نکالنا دشوار ہوتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی آئی ڈی پولیس نے چھپائے گئے ہتھیاروں کا سراغ لگانے کے لیے حکومت سے حساس آلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے مگر ابھی تک اس سلسلے میں کچھ نہیں ہوا۔
پولیس کا انسداد انتہا پسندی سیل
چھ ماہ قبل سی آئی ڈی کراچی نے ایک انسداد انتہا پسندی سیل قائم کیا تھا جس کا مقصد سی آئی ڈی کو طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے میں مدد دینا تھا۔
اس سیل کے سربراہ سینئر پولیس افسر چوہدری اسلم ہیں جنہیں طالبان نے اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا ہے۔ طالبان نے 19 ستمبر 2011 کو چوہدری اسلم کی رہائش گاہ پر حملہ کیا تھا جس میں آٹھ افراد جاں بحق اور بہت سے زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں چوہدری اسلم اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے تھے۔
خان نے بتایا کہ انسداد انتہا پسندی سیل نے طالبان کے نیٹ ورک تک خفیہ رسائی حاصل کر لی ہے اور وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے پولیس کی کوششوں میں مدد دے رہا ہے۔
چوہدری اسلم نے بتایا کہ انسداد انتہا پسندی سیل نے 11 مئی کو مواچ گوٹھ کے علاقے میں رحمان اللہ نامی شخص کو گرفتار کر لیا جو طالبان کو ہتھیار فراہم کرنے والا اہم شخص تھا۔
پولیس نے رحمان اللہ کی گرفتاری کے دوران ہتھیاروں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد برآمد کی جو کراچی میں تحریک طالبان پاکستان کے لیے مختص تھی۔
چوہدری اسلم نے بتایا کہ رحمان اللہ نے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ روابط کا اعتراف کر لیا ہے اور اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ انہیں دو سالوں سے ہتھیار فراہم کر رہا تھا۔
فیاض خان نے بتایا کہ رحمان اللہ کے علاوہ جنوری 2012 سے ہتھیاروں کی ترسیل میں ملوث طالبان گروپوں کے 12 رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان میں محمد حنیف، امتیاز بڈھا، فیصل بھٹی، اختر زمان، تصدق، فیصل پہلوان، شہناز شانی، اسد اللہ، عطا اللہ، وہاب افغانی، دلدار دلاور اور مفتی شاہد شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان 12 افراد سے کی جانے والی تفتیش کی روشنی میں پولیس نے ان کے مزید 10 ساتھیوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔







![پاکستان میں خربوزوں کا ایک کسان 20 مئی کو پشاور کی پھل منڈی میں فروخت کرنے کے لئے یہ پھل لفافوں میں ڈال رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]](/shared/images/2013/05/20/pakmelon-230_184.jpg?1369057204)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )