-
ترکمانستان میں صحت بخش خوراک کا پروگرام منظور
-
افغانستان میں ترکی کا کردار برقرار
-
فاٹا میں دو ہزار تیرہ کے اختتام تک پولیو کے خاتمے کا امکان، حکام
-
کرغیزستان میں اسلحہ قوانین سخت کرنے پر غور
غزالہ جاوید اور ان کے والد سپرد خاک
معروف گلوکارہ اور ان کے والد کو 18 جون کو پشاور میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا
اشفاق یوسف زئی
2012-06-19
پشاور – پشتو کی مقبول گلوکارہ 29 سالہ غزالہ جاوید کو 19 جون کو ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کے اہل خانہ اور مداحوں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
غزالہ کو 18 جون کو پشاور کے قدیم علاقے ڈبگری میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے غزالہ کے قتل کا الزام ان کے سابق شوہر پر عائد کیا ہے۔ غزالہ جاوید ایک بیوٹی پارلر سے نکل رہی تھیں کہ موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے ان پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے والد محمد جاوید جاں بحق ہو گئے۔ تاہم ان کی بہن فرحت جاوید محفوظ رہیں۔
ان کی نماز جنازہ میں سینکڑوں سوگواروں نے شرکت کی اور مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ڈاکٹر محمد احسان نے بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی چل بسیں۔ انہیں چھ گولیاں لگی تھیں۔
سابق شوہر بنیادی ملزم
غزالہ جاوید نے 2010 میں جہانگیر نامی شخص سے شادی کی تھی جو جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا تھا۔ مگر یہ شادی چھ ماہ ہی چل سکی۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آصف اقبال نے کہا کہ جہانگیر اس قتل میں بنیادی ملزم ہے اور اس وقت مفرور ہے۔
سٹی پولیس افسر آصف اقبال نے کہا کہ اس کے باوجود ہم اس قتل میں طالبان عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں موسیقاروں اور گلوکاروں کو قتل کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
غزالہ جاوید نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز 2003 میں رقاصہ کی حیثیت سے کیا تھا اور 2008 میں گلوکاری شروع کرنے کے بعد انہوں نے کافی شہرت حاصل کی۔ ان کے گلیمر کی وجہ سے ان کی محافل موسیقی میں لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا۔ اپنی مختصر فنی زندگی کے دوران انہیں رحیم شاہ اور گلزار عالم جیسے کہنہ مشق گلوکاروں کے ہمراہ گانے کا بھی موقع ملا۔ غزالہ جاوید نے افغانستان، متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں کے دورے کیے اور پشتونوں کو اپنی آواز سے محظوظ کیا۔
تاہم 2010 میں ان کی شادی نے ان کی فنی زندگی میں رکاوٹ ڈال دی۔
ان کی بہن نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزالہ کے شوہر نے انہیں گلوکاری سے روک دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ کافی اداس تھیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ موسیقی سے انہیں جنون کی حد تک لگاؤ ہے اور اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتیں۔
جہانگیر سے غزالہ کی شادی تباہی ثابت ہوئی۔ اگرچہ انہوں نے شوہر کی بات مانتے ہوئے گلوکاری چھوڑ دی تھی مگر بعد میں انہوں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ ان کی بہن فرحت نے بتایا کہ یہ شادی پہلے دن سے ہی مسائل کا شکار رہی تھی۔ چھ ماہ پہلے انہوں نے دوبارہ گلوکاری کا آغاز کر دیا تھا۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخواہ میاں افتخار حسین نے ان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے 19 جون کو کہا کہ ان کے قاتل زیادہ عرصے تک روپوش نہیں رہ سکتے اور پولیس جلد ہی انہیں گرفتار کر لے گی۔
فرحت نے تین افراد کے خلاف ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کرائی ہے جن میں جہانگیر، ناصر خان اور سلام خان آفریدی شامل ہیں۔ فرحت نے کہا کہ ہم نشتر آباد کے علاقے کی جانب آ رہے تھے جہاں غزالہ ایک نئی پشتو فلم کے لیے گیت ریکارڈ کرا رہی تھیں۔ بیوٹی پارلر جانے سے پہلے وہ انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے نشتر آباد گئی تھیں۔
شاہ قبول تھانے میں انسپکٹر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے تحقیقاتی افسر اسلم خان نے بتایا کہ مرحومہ گلوکارہ کی بہن مدعیہ فرحت جاوید نے ایف آئی آر میں بعض افراد کو نامزد کیا ہے اور اب پولیس کو اس مقدمے میں کسی اور کے ملوث ہونے کا کوئی شبہ نہیں ہے۔
فنی زندگی میں کامیابیاں
غزالہ جاوید کے مقبول گیتوں میں "مینا دروغ دہ جاناں خو لگ راشہ کنا"، "نرے نرے باران دے" اور "جدا رانا جاناں دے" شامل ہیں۔ ان کا تازہ ترین گیت "مینا با کاؤ جاناں" حال ہی میں سی ڈی اسٹالوں پر آیا ہے۔ وہ ایک نئی البم شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔
موسیقی سے نفرت کرنے والے طالبان اور ان کے ہاتھوں مصیبتیں جھیلنے سے بچنے کی خاطر ملک چھوڑ جانے والے بہت سے گلوکاروں کے برعکس غزالہ جاوید بظاہر ناکام شادی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی خبر کے مطابق 2009 میں جب فوج نے سوات میں طالبان کے خلاف اپنی کارروائی شروع کی تھی تو غزالہ وہاں سے پشاور منتقل ہو گئی تھیں۔
پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن پشاور مرکز کے سابق ڈائریکٹر نثار محمد خان نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ کو موسیقی سے بے انتہا پیار تھا۔ وہ صرف سات سال کی عمر سے ہی اپنے محلے میں ہونے والی شادی کی تقریبات میں گایا کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ 2009 تک سوات میں قیام پر کافی تعریف کی مستحق ہیں حالانکہ اس وقت طالبان فنکاروں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہے تھے۔ ان کے دل شکستہ مداحوں نے ان کے قتل کی مذمت کی ہے اور مجرمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے یونیورسٹی ماڈل اسکول میں زیر تعلیم آٹھویں جماعت کی طالبہ گل غتی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ میں باقاعدگی سے ان کے سریلے گیت سنتی ہوں۔ وہ اپنی دل کی گہرائیوں سے گایا کرتی تھیں اور سامعین کے دل و دماغ پر چھا جاتی تھیں۔ غزالہ جاوید انتہائی خوبصورت ہونے کے باوجود بہت منکسر مزاج تھیں۔
آرٹسٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن زوم کے صدر جاوید بابر نے کہا کہ فنکاروں کو اس طرح کے واقعات سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے طالبان کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر ہم لوگوں کو تفریح فراہم کرنے پر کاربند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزالہ ایک بہت بڑی گلوکارہ تھیں اور وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ نہ صرف ان کی گوری رنگت بلکہ ان کے گانے کے انداز کے بھی ہزاروں مداح ہیں۔ سال 2009 میں پشاور میں ایمن اداس نامی ایک اور گلوکارہ کو مبینہ طور پر ان کے بھائیوں نے قتل کر دیا تھا کیونکہ انہیں ایمن کے گلوکاری کے پیشے پر اعتراض تھا۔







![پشاور میں ایک کمہار 22 مئی کو ایک بھٹی میں پکانے سے پہلے پھولوں کے گملے کی نوک پلک سنوار رہا ہے۔ [ظاہر شاہ]](/shared/images/2013/05/24/pakpot-230_184.jpg?1369394104)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میں ایک ایرانی ہوں اور مجھے اس کے گانے پسند ہیں اور میں اپنے بہت سارے دوستوں کو اس کے گانے سننے کا مشورہ دیتا ہوں۔
ہیلو۔ مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ پیاری غزالہ ہمارے درمیان میں نہیں رہی۔ ہائے اللہ، کیوں؟ جب میں اسے یاد کرتا ہوں تو میرا دل چلانے کو کرتا ہے۔ وہ بہت جلدی چل بسی ہے۔ میں نے اسکی تصویر اپنے موبائل میں رکھی ہوئی ہے۔ جب کبھی میں اس کی تصویر دیکھتا ہوں، میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور میں بے اختیار رونا شروع کردیتا ہو۔ اللہ اسکی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اس کو جنت عطا کرے! اللہ کی ان پر لعنت ہو جو ایسے نوجوان لوگوں کو قتل کرتے ہیں! میں بہت افسردہ ہوں۔
میں بھی بہت افسردہ ہوں۔ میں اس کا نمبر ایک پرستار تھا اور میں اس سے بہت محبت کرتا تھا! شکریہ۔
رپورٹ اچھی تھی۔
غزالہ جاوید کو میں بہت زيادہ پیار کرتا تھا اور میں اسے کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔ وہ ہمیشہ میرے دل میں رہے گی۔ اللہ اس کی روح کو جوار رحمت میں جگہ عطاء کرے۔
اللہ تعالی کی نافرمانی کا انجام برا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ مرگئی ہے۔ اسے آخرت میں پردہ نہ کرنے کی وجہ سے سزا دی جائے گی۔ اس پر اللہ کی لعنت ہو! فتنہ غیور
غزالہ پیاری تھی اور مجھے اس سے پیار تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ یادولے
مجھے پیاری غزالہ کے لئے انتہائی دکھ ہوا ہے! بیشک، اس کی دردناک اور متاثرکن آواز تھی۔ کاش کہ غزالہ کی جادوائی نوجوانی اور خوبصورتی۔
ہیلو! ہاں، ہاں! مجھے بھی افسوس ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں!
ہاں، ہاں! وہ ایک اچھی مصورہ ہے! لیکن اتنی بھی اچھی نہیں! ہاہا!
میں ایک ایرانی ہوں اور یہ خبر سن کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں ایک بہت خوبصورت نغمہ سنا کرتا تھا اور ہمیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ نغمہ جس نے گایا تھا وہ بلاشبہ غزالہ تھی۔ اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔ وہ واقعی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔
غزالہ جاوید صرف پاکستانی گلوکارہ نہیں تھی۔ در حقیقت، وہ تمام افغانی لوگوں کے دلوں میں تھی۔ وہ قتل ہونے کی حقدار نہیں تھی، کیونکہ وہ قابل عزت تھی۔ اللہ اس پر رحم کرے۔
میں پریشان ہوں کہ غزالہ جاوید مر گئی ہے، کیونکہ اس نے اپنے پرستاروں کے دل جیت لیے تھے، اگرچہ وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں تھی۔ یہ کام جرائم پیشہ افراد اور وحشیوں نے کیا ہے۔
میں غیرضروری اور بے مقصد ہلاکتوں کے خلاف ہوں۔ یہ اس کے مطابق ہے جو اللہ نے اپنی مقدس کتاب، قرآن کریم، میں کہا ہے کہ کسی ایک آدمی کو ناانصافی سے قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ میں اس طرح کی کاموں کی اعلانیہ مذمت کرتا ہوں۔ دوسرے طرف، میں تمام خاندانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی بہترین اور بدترین بیٹیوں کے قتل کرنے کے لیے پس منظر نہ تیار کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب آپ اپنی خوبصورت بیٹی کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں، وہ ہر کسی کو اپنا گرویدہ بناتی ہے اور آخرکار یہ آپ کی بیٹی کے لیے کم قسمتی اور مصیبت لائے گا۔ بحثیت مسلمان، میں تمام اسلامی حکومتوں کو یہ کہنا پسند کروں گا کہ وہ اپنے اثرورسوخ کی حدود میں اسلامی شریعت کا قانون نافذ کریں۔ شریعت کا قانون حقیقت میں خدا کا قانون ہے۔ اس طرح، کسی موقع پرست کو کسی کو قتل کرنے کا موقع نہیں ملے گا، جائز طور پر یا اس کے علاوہ، جب تک اس نے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو۔
میں غزالہ جاوید کی موت کے بارے میں بہت افسردہ ہوں۔ اللہ اس کی روح کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔
شہید غزالہ جاوید کے لئے مبارک باد۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی پوری زندگی خوش رہیں گے۔
میں غزالہ جان جاوید کے بارے میں اتنا دکھی ہوں کیونکہ وہ اپنی زندگی کی بہار میں تھی اور اس عمر میں غزالہ جان جاوید کے لئے موت ٹھیک نہیں تھی۔
اہو، تم لامحدودیت کی علامت ہو! مجنون ان تعصبات کی وجہ سے پاگل ہوا! آپ کب تک اس شاخ سے پھول توڑتے رہوگے؟ یہ لبادہ ختم نہیں ہوگا!
وہ ایک عظیم گلوکارہ تھی، میں خود اس کا ایک دوست اور پرستار ہوں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ محتاط رہے اور اسلام آباد یا کابل یا دبئی شفٹ ہو جائے، اس نے کبھی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی توجہ دی۔ یہ حقیقت کہ سوات چیپٹر ٹی ٹی پی نے اسے کام کرنے سے منع کرنے کا خط بھیجا تھا اس کی قسمت پر مہر ثبت کرنے کا معقول ثبوت ہے، خاوند ملوث ہے یا نہیں اور پشتون موسیقی کے عظیم نقصان کی وجوہات کی تفتیش کرنا پولیس کا کام ہے۔
میں بہت غمزدہ ہوں کہ اسے اس کی نئی جوانی میں قتل کیا گیا، یہ کہا جاتا تھا، کہ اچھا شخص اس دنیا میں کبھی زندہ نہیں رہے گا۔
اللہ نے یہ دنیا اور اس کی تمام خوبصورتیاں تمام انسانوں کے لئے بنائی ہیں، نہ صرف مردوں کے لئے۔ یہ انسان ہی ہیں جو قدرت کی ترقی کے طریقہ کار میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انسانوں کی آزادی کی حدود کا تعین کرنے کے لئے اور سماجی قواعد کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے، سائنسی نظریے اور وسیع سوچ درکار ہوتی ہے۔ کسی کو کسی کی آواز یا زندگی خاموش (ختم نہیں) کرنی چاہیے، فقط ایک منحرف روایتی رواج کو پورا کرنے کے لئے۔ اب وقت ہے کہ اس طرح کی قابل مذمت تاریک رواج کو استعمال کرنے والے فرد، جماعت یا ریاست کو سزا دی جائے۔ عوامی طور پر قابل قبول عالمی نظام انصاف ہر جگہ قائم کیا جانا چاہیے۔ اب کافی ہوچکا ہے۔
تاخار سے عظیم ڈیریئس؛ غزالہ جاوید بہترین گلوکارہ تھی۔ اللہ اس کی بخشش کرے۔
عملہ اور ان کا شکریہ، جو آپ کے عظیم پروگراموں کے بنانے میں ذمہ دار ہیں۔
سب سے پہلے مجھے غزالہ جاوید کے بارے میں معلومات دینے کے لئے عظیم مصنف کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس کم عرصے میں اپنے شائقین کو بہترین نغمے پیش کیے اور اس کے گانے اور رقص قابل تعریف ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ میں غزالہ جاوید کے قتل کے دن سے متعلق ایک تلخ یاد کو آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر یقین کریں کہ پہلے تو مجھے یہ سن کر اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا! تاہم، کئی ذرائع سے خبر سننے کے بعد مجھے اس پر یقین آیا۔ اس دن میں اپنے دوست کی دوکان پر تھا اور ہم اس کا شاہانہ نغمہ "باران دے باران دے" سن رہے تھے۔ اسی وقت افغان ٹی چینلوں میں سے ایک نے اس کی موت کی خبر دی۔ مجھے وہ بہت یاد آتی ہیں اور میں بہت غمگین ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ اسے اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور اس کے قاتل پر لعنت ہو....
ہمیں اس طرح کی بربریت پر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجرموں کو جتنا جلدی ہو انصاف کے کٹہرے میں لایا، تاکہ انہیں اپنے جرائم کی سزا مل سکے۔
ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، آپ ہمارے دلوں میں ہیں قازقستان سے۔
درحقیقت، اس کی عمر 24 تھی 29 نہیں۔ وہ بہت کم عمر میں مری۔
میں نے پاکستانی اخبارات میں اس کی موت کے بارے میں کوئی خبر نہیں دیکھی، لیکن صرف ٹائمز آف انڈیا میں دیکھا تھا۔ یہ حقیقتا پختون لوگوں کے لیے پریشان کن تھا، وہ بہت ہی خوبصورت اور سریلی تھی، سب سے بڑھ کر وہ 29 سال کی سادہ لڑکی تھی۔ اللہ اس کی روح کو آرام دے۔
اچھی شخصیت
مجھے پاکستان کی معروف گلوکارہ غزالہ جاوید کی موت پر گہرا صدمہ ہوا تھا۔ میں اس وحشیانہ حرکت کی مزمت کرتا ہوں۔
مجھے غزالہ جاوید کی موت کا سن کر انتہائی دکھ ہوا ہے۔ اللہ اسے جنت میں جگہ دے!
میں 18 جون کو ہونے والے غزالہ جاوید کے قتل کے لیے بہت افسردہ ہوں، وہ ڈبگری میں قتل ہوئی اور اس کا خاوند بہت ظالم مرد تھا اور اسی طرح قوم کے تمام لوگ افسردہ ہیں۔