سر بریدہ پاکستانی فوجیوں کے اہل خانہ غم و اندوہ سے دوچار

تاہم رشتہ داروں کو اپنے پیاروں کی قربانیوں پر فخر ہے

اشفاق یوسف زئی

2012-07-23

دیر بالا – افغانستان میں سر بریدہ پاکستانی فوجیوں کے غم زدہ رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی قربانیوں پر انتہائی فخر کا اظہار کیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائے۔

بعض مقتول فوجیوں کے قریبی رشتہ داروں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو انٹرویوز میں بتایا کہ اس طرح کے وحشیانہ اقدامات حکومت کے شورش پسندوں کا تعاقب کرنے کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں گے۔

افغانستان میں 15 فوجیوں اور دو شہریوں کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔ ان میں سے نیک قابل شاہ نامی ایک فوجی کے چھوٹے بھائی انور شاہ نے کہا کہ بے گناہ فوجیوں کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنا بربریت کی بدترین مثال ہے جو میں نے اس سے پہلے کبھی بھی دیکھی یا سنی نہیں۔ عسکریت پسندوں نے 24 جون کو ان افراد کو ضلع دیر بالا میں پاک افغان سرحد پر قائم ایک چوکی سے اغوا کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کسی اور کے کرایے کے قاتل ہیں اور انہوں نے اپنی ملازمت جاری رکھنے کے لیے فوجیوں کو قتل کیا ہے۔

انتیس سالہ قابل کا تعلق عسکریت پسندی کا شکار خیبر ایجنسی کی تین تحصیلوں میں سے ایک یعنی باڑہ کے قمبر خیل قبیلے سے تھا۔ انہوں نے نو سال قبل فرنٹیئر کور میں شمولیت اختیار کی تھی اور ایک سال پہلے دیر بالا میں تعیناتی سے قبل مختلف قبائلی ایجنسیوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف برسر پیکار رہ چکے تھے۔

مبینہ طور پر مفرور پاکستانی عسکریت پسند رہنما ملا فضل اللہ کی زیر قیادت عسکریت پسندوں نے ان افراد کو اغوا کر کے قتل کیا ہے۔ سوات میں 2009 میں ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ملا فضل اللہ افغانستان فرار ہو گیا تھا۔

دیر بالا میں فوج کے حمایت یافتہ عمائدین کے ایک جرگہ نے ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبہ کنڑ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے درجنوں دور منعقد کیے تھے جس کے بعد 12 جولائی کو ان افراد کی لاشیں واپس کر دی گئیں۔ اگلے روز فوج نے پاکستانی پرچموں میں لپٹے ہوئے تابوتوں کو تدفین کے لیے فوجیوں کے آبائی شہروں کو بھجوا دیا۔

طالبان نے 27 جون کو ان افراد کے قتل کی لرزہ خیز وڈیو جاری کی تھی۔

طالبان کی جانب سے اندھا دھند قتل

انور نے کہا کہ طالبان کی جانب سے مقامی سطح پر اپنی ساکھ کھونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ فوجیوں، خواتین اور بچوں کو اندھا دھند قتل کرتے ہیں۔

انور نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بھائی نے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اس قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی اس بے رحمی پر دیہی باشندے سخت صدمے سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستانی فوج سے درخواست ہے کہ وہ ایک بھرپور فوجی کارروائی کرے اور عسکریت پسندوں کا خاتمہ کر کے اس سر زمین پر امن قائم کرے۔

انور اور قابل کے بزرگ والد جمال شاہ نے کہا کہ میں اپنے دو اور بیٹوں کو بھی فوج میں بھرتی کرانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لیں۔

قتل ہونے والے ایف سی کے کانسٹیبل غفور آفریدی کا تعلق بھی باڑہ ہی سے تھا۔ انہیں 13 جولائی کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اپنے آبائی شہر کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

ان کے والد عبد الحمید آفریدی نے روتے ہوئے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اگرچہ وہ اپنے بیٹے سے محروم ہو گئے ہیں مگر انہیں اس بات پر فخر ہے کہ ان کے بیٹے نے ملک کی خاطر جان دی۔

حمید نے کہا کہ میرے بیٹے کی قربانی سے میرے خاندان کو بے انتہا عزت ملی ہے اور پورا گاؤں اس کی مغفرت کے لیے دعائیں مانگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بہت سے بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ بنا دیا ہے جس پر خدا انہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔

باڑہ ہی سے تعلق رکھنے والے کوکی خیل قبیلے کے ایک فوجی ممتاز خان کے اہل خانہ نے ان کی میت کی حالت پر برہمی کا اظہار کیا۔

ممتاز کے بھائی عمر دراز خان نے کہا کہ ان کے اغوا اور سر قلم کیے جانے کے دوران عرصہ ایک جہنم کی مانند تھا۔ ان کے جسم پر تشدد کے بھی نشانات تھے۔ بعض غیر تربیت یافتہ افراد نے ٹانکے لگا کر ان کے سر کو جسم سے جوڑا تھا۔ یہ چیز میت کے احترام کے منافی ہے۔

لند خوار مردان سے تعلق رکھنے والے ایک اور مقتول فوجی ارشد خان کے والد رحیم گل نے طالبان کی مذمت کی۔ 24 سالہ ارشد خان کی چند ماہ بعد ہی شادی ہونے والی تھی۔

گل نے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالبان عسکریت پسندوں کی شکست ہے کہ اب انہوں نے بے گناہ افراد کو قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فوج ان کے خلاف کارروائی میں تیزی لائے۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخواہ میاں افتخار حسین نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ عسکریت پسند عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوششوں کے ذریعے "مایوسی کی علامات" ظاہر کر رہے ہیں۔

افتخار نے کہا کہ انہوں نے راہ فرار اختیار کر رکھی ہے مگر وہ فوجی کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے۔

جب حسین سے ان اطلاعات کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ حکومت نے فوجیوں کی میتوں کے عوض 20 قید شورش پسندوں کو رہا کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی بھی قید طالبان کو رہا نہیں کیا ہے۔

فرنٹیئر ریجن کوہاٹ میں دیہی باشندوں نے عبد الجمیل کی میت کو انتہائی عزت و احترام سے وصول کیا۔ ان کے والد نے بتایا کہ 23 سالہ جمیل اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا اور دو ماہ قبل اس نے اپنی بہن کی شادی کے اخراجات اٹھائے تھے۔

طالبان کے دشمنوں میں اضافہ

ایک چھوٹے دکاندار عبد الوکیل نے کہا کہ اپنے بیٹے کے قتل سے بھی ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور ان کی خواہش ہے کہ حکومت طالبان شرپسندوں کے خلاف بلاتعطل کارروائی جاری رکھے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان ایف سی کے فوجیوں کو قتل کرنے کے ذریعے اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ ان فوجیوں کو ان کے قبائل کی بنیاد پر بھرتی کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی قبیلے یا برادری کے کسی ایک فرد کو قتل کرنے سے ہزاروں لوگ آپ کے دشمن بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حوصلہ افزاء پیشرفت یہ ہے کہ اب کوئی بھی طالبان سے خوفزدہ نہیں ہے اور طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان فورسز میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعزیت کے لیے آنے والے تمام افراد جمیل کے لیے اللہ کی رحمت و مغفرت اور طالبان عسکریت پسندوں کی تباہی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 34)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 4 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • مجھے پاک فوج سے محبت ہے

    August 7, 2012 @ 01:08:19AM m.hamza
  • وحشیانہ

    July 25, 2012 @ 11:07:45AM Muhammad Azeem
  • فوج کو بھی طالبان کے سرقلم کرنے چاہیے یہ ہی ہمارا مذہب ہمیں تعلیم دیتا ہے

    July 24, 2012 @ 11:07:04AM tariq