-
اژبکستان میں بچوں کے لئے صحت مند طرز زندگی کے بارے آگاہی مہم
-
خیبر پختونخواہ میں متاثرین سیلاب کی مدد
-
کرغیزستان بشکیک-اوش شاہراہ تعمیر کریگا
-
کراچی پولیس نے لیاری میں امن بحال کر دیا
لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد نفسیاتی امراض میں مبتلا
بے گھر افراد میں سے پانچ فیصد کو مختلف طرح کے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے
اشفاق یوسف زئی
2012-07-27
پشاور – نفسیاتی امراض کا علاج کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے ہزاروں پاکستانی باشندوں کے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ملک میں علاج کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
جلوزئی کیمپ کے نزدیک قائم چار مراکز صحت میں سے ایک میں تعینات ڈاکٹر شاہنواز کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد میں سے پانچ فی صد نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں اور اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نفسیاتی دباؤ کی بڑی وجہ اپنے پیاروں سے محرومی اور خونریزی کے واقعات ہیں تاہم بے گھر افراد اپنے روحانی و مالیاتی اثاثوں، تشخص اور شخصیت سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر تحصیل باڑہ کے علاقے اکاخیل میں اپنے گھر پر عسکریت پسندوں کی گولہ باری کے نتیجے میں 39 سالہ زر کیشا اپنے شوہر سے محروم ہو گئیں۔
انہوں نے ڈاکٹر عدنان خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رات کو خواب میں بار بار اپنے شوہر کی جھلسی ہوئی لاش دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر خان نے کہا کہ زر کیشا کو اس بات کی بھی فکر لاحق ہے کہ اب وہ اپنے تین بیٹوں کو کیسے پالیں پوسیں گی۔
ڈاکٹر خان کے بقول انہیں شدید صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا عارضہ لاحق ہے۔ جنوری میں نامعلوم افراد نے ان کے شوہر کو قتل کر دیا تھا۔ کیمپ میں آمد سے قبل ہی ان کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ طویل عرصے سے جاری خونریزی کے باعث بہت سی زندگیاں تبدیل ہو چکی ہیں۔ بے گھر افراد نے تباہی، گولہ باری اور خونریز مناظر دیکھے ہیں۔ انہیں اب ناگزیر نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔
مسئلے کی وسعت
انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والے اداروں اور حکومت کی توجہ جسمانی بیماریوں پر مرکوز ہے مگر ذہنی چیلنجز بے گھر افراد کے اپنے آبائی دیہاتوں میں لوٹ کر نئے سرے سے زندگیاں شروع کرنے کے بعد بھی صحت کا ایک سنگین مسئلہ بن سکتے ہیں۔
ضلع مالاکنڈ میں تشدد کا دور دورہ رہا ہے اور اس کے بیشتر رہائشی 2009 میں بے گھر ہو گئے تھے۔ مالاکنڈ کے بے گھر ہونے والے اکثر افراد نے چھ ماہ سے ایک سال تک کا عرصہ مہاجر کیمپوں میں گزارا ہے۔ شاہ نے کہا کہ اگرچہ انہیں اپنے گھروں کو لوٹے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے مگر مالاکنڈ کے 23 فی صد کے قریب رہائشی تشدد کے واقعات کے باعث ابھی تک نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔
مالاکنڈ کے بے گھر افراد کے ساتھ کام کرنے والے شاہ کے بقول ان میں سے بعض کو شدید صدمے کے بعد ذہنی دباؤ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جن کے لیے طویل عرصے تک علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
مثال کے طور پر سرحد اسپتال برائے نفسیاتی امراض میں کام کرنے والے ڈاکٹر محمد سلیم نے بتایا کہ طالبان نے ایک خاتون کے شوہر اور تین بیٹوں کو قتل کر دیا جس کے بعد وہ گزشتہ تین ماہ سے بولنے سے قاصر ہیں۔ انہیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے مگر انہیں ابھی تک نگہداشت کی ضرورت ہے۔
شاہ نے کہا کہ مارچ میں عسکریت پسندی کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت آنے کے بعد نقل مکانی کرنے والے خیبر ایجنسی اور خاص طور پر تحصیل باڑہ کے بے گھر افراد کو بھی اسی طرح کے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہولیات کی کمی کی وجہ سے یہ مسئلہ گھمبیر ہو چکا ہے۔
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے تقریباً 6 لاکھ 98 ہزار 3 سو افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 80 فی صد کے قریب اپنے رشتہ داروں کے ساتھ یا کرایے کے گھروں میں رہتے ہیں جبکہ 20 فی صد بے گھر افراد کے لیے قائم جلوزئی جیسے کیمپوں میں مقیم ہیں۔
شاہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر مریضوں کو بار بار اس کیفیت کا سامنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد سے متاثرہ افراد کو باقاعدگی سے نفسیاتی خدمات، مشاورت اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انہیں اپنے صدمے پر قابو پانے میں مدد ملے۔
مسئلے کی شدت
سلیم کا تخمینہ ہے کہ ہر چھ میں سے ایک شخص میں کسی نہ کسی قسم کی نفسیاتی بیماری کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 میں ان کے اسپتال میں 90 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں سے تقریباً 50 ہزار عسکریت پسندوں کی پر تشدد کارروائیوں یا فوج کے ردعمل کا شکار ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جاری تشدد کا سامنا کرنے والے افراد اور خاص طور پر بچوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور گڑبڑ زدہ علاقوں سے دور جانے کے بعد بھی کافی عرصے تک ان کے ذہنوں میں ناخوشگوار یادیں باقی رہ سکتی ہیں۔
سلیم نے کہا کہ انہوں نے درجنوں ایسے مریض دیکھے ہیں جو تشدد کے اثرات سے بحالی کے لیے دافع ڈپریشن یا مسکن ادویات استعمال کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر جمال اکبر کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی کا سامنا کرنے والے افراد کا علاج کرتے وقت ڈاکٹروں کو نفسیاتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
جمال نے کہا کہ کیمپ میں معائنے کے عمل سے گزرنے والی چالیس فی صد خواتین میں ڈپریشن اور دباؤ کی علامات پائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ میں موجود 3 سو 21 حاملہ خواتین پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ انہیں سنگین نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔
دیکھ بھال میں توسیع
عالمی ادارہ صحت نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ بنیادی صحت کی سطح پر نفسیاتی عوارض کے انتظام و انصرام کی سہولیات فراہم کرے جہاں شدید ذہنی صدمات سے دوچار افراد کے علاج کے لیے انہیں موزوں ماہرین کے پاس بھیجنے کا انتظام ہو۔
جمال نے کہا کہ ہم نے موزوں سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومت کی حمایت کی ہے تا کہ تشدد زدہ علاقوں کے رہائشیوں کی مدد کی جا سکے۔
فاٹا کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فواد خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ نفسیاتی علاج کے مفت طبی کیمپ منعقد کر رہا ہے جہاں ماہر ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور انہیں مفت ادویات تشخیص کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے نفسیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے تا کہ مریضوں کو مشاورتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔







![بشکیک میں 12 جون کو ایک کرغیز لڑکا شہتوت توڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ وسطی ایشیاء میں شہتوت جون میں پکتے ہیں۔ [ماکسات عثمونالیف]](/shared/images/2013/06/19/kgtree-230_184.jpg?1371637504)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اچھا کام
تمام مسلمانوں کو عید مبارک
wo aik sijda gisay too samajhta hai giran . hazar sijdon say insan ko dilata hai nijat. We only have to sincerely hold tight the rope of Allah and seek his pardon all the times.All our leaders are anti Pakistan and they have been imposed upon us by our own doings.O God have mercy on us and show us the right path Ameen
یہ پاگل پن کب ختم ہو گا؟ اللہ ہماری مدد فرما۔
بہت اچھا
جناب، مجھے واقعی یہ پسند ہے۔ میں بھی نفسیات کا طالب علم ہوں اور بی ایس (ہانرز) کررہا ہوں۔ نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں نفسیاتی خرابیوں کی جنگ ہورہی ہے۔ میرے خیال میں ہماری حکومت کو ان معاملات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں کم از کم رہنمائی مراکز قائم کرنے چاہیے، ہر شہر میں کم از کم 1 رہنمائی مرکز۔ جناب، براہ کرم مجھے لازمی نفسیاتی معاملات کے بارے میں رپوٹیں بھیجا کریں کیونکہ میں ان معاملات سے آگاہ رہنا چاہتا ہوں۔
بہت خوب
میرے خیال میں پاکستانی مسلمان یورپ اور امریکہ کے مسلمانوں کے مقابلے میں اچھے ہونے چاہیے، لیکن سزا نایافتہ ظلم ان اسلامی ممالک میں چھایا ہوا ہے، لوگ اسلام کا انکار کرتے ہیں۔ نفرت کہاں سے آتی ہے؟ مجھے ان لوگوں پر دکھ ہوتا ہے۔
akar hoska pakistan in tahmam neto sa duer raheh per kambnjee ham logoo na allhko bol kar ensnoo sa maded lanaka ka faselah qeay akar ham serf allh per baros kaeree two allah be gosee oree hmara qame bee purah ho jaaey hm ak atemee takat h aelava hm moselman hae hme serf apney allha per barosh kaerna or kesebe molk k kakme ma tehank ahan