اکتیسویں قومی کھیل کامیابی سے جاری
حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں کھیلوں کا احیاء ہو رہا ہے
اقبال خٹک
2010-12-28
پشاور– سلامتی کی وجوہات کی بناء پر دو بار ملتوی ہونے والے 31ویں قومی کھیلوں کا بالآخر 25 دسمبر کو پشاور میں آغاز ہوا جو طالبان کی دھمکیوں اور لاکھوں پولیس اہلکاروں، باقاعدہ فوجی دستوں اور نیم فوجی اہلکاروں سمیت سخت حفاظتی انتظامات کے سائے تلے منعقد ہو رہے ہیں۔
گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی تمام کھیلوں میں پاکستانی فوج کا پلہ بھاری رہا اور اس کے کھلاڑیوں نے سب سے زیادہ تمغے جیتے۔ کھیل کے چوتھے روز یعنی 28 دسمبر تک فوج سونے کے 32، چاندی کے 16 اور کانسی کے پانچ تمغوں کے ساتھ سرفہرست تھی۔ اس کا قریب ترین حریف پانی اور بجلی کا ترقیاتی ادارہ ہے جو سونے کے 18، چاندی کے پانچ اور کانسی کے 18 تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے تیراکی کے مقابلوں میں فوج کی کرن خان کو 15 طلائی تمغے جیتنے پر "گولڈن گرل" کا خطاب دیا گیا۔
کھیلوں پر لاگت کا تخمینہ لگ بھگ 7 کروڑ 5 لاکھ روپے لگایا گیا ہے اور ان کا آغاز اصل میں 2008 میں ہونا تھا۔ سلامتی کے سنگین خطرات کے پیش نظر کھیلوں کو پہلے 2009 تک ملتوی کیا گیا اور اس کے بعد 2010 تک ایک اور بار ملتوی کر دیا گیا۔
سخت حفاظتی اقدامات
پشاور میں گزشتہ دو سالوں کی نسبت رواں سال کم دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں اور طالبان کے سابق مضبوط گڑھ سوات اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں سے سلامتی کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔
اگرچہ بعض ناقدین پشاور میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے کے فیصلے پر بھونچکے رہ گئے تاہم کھیلوں کے سرپرست سید عاقل شاہ نے تنقید کی بالکل پروا نہیں کی۔
پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں کراٹے کے مقابلے دیکھنے کے دوران سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطرات کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ زندگی کا مطلب ہی خطرہ ہے اور میں نے یہ مول لیا ہے۔ ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ یہ کھیل کسی ناخوشگوار واقعے کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچیں۔
سید عاقل شاہ کے بقول، 3 ہزار 5 سو مرد و خواتین کھلاڑیوں اور 1 ہزار 5 سو تکنیکی حکام کی حفاظت کے لیے خیبر پختونخواہ کی پولیس پہلی دفاعی لائن اور فوج دوسری دفاعی لائن کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ فرنٹیئر کور کے نیم عسکری جوان نقائص سے پاک سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں۔
کھیلوں کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور تمام مقامات پر عام لوگوں کا داخلہ بند ہے۔ مہمانوں کو متعدد جگہوں پر جسمانی تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ پولیس اہلکار نزاکت خان آنے والے تمام کھلاڑیوں، رضاکاروں، سیکورٹی اہلکاروں اور صحافیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے اور تمام افراد کی جامہ تلاشی لے رہے تھے۔
سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد کھیلوں کو پرامن طریقے سے جاری رکھنے میں مدد دینا ہے۔ سوات طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے اپنی ایک نئی وڈیو میں 25 دسمبر کو باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں ایک برقعہ پوش بمبار خاتون کے حملے میں 47 قبائلی اراکین کی ہلاکت کے بعد مزید خودکش حملوں کی دھمکی دی ہے۔
پاکستان میں عسکریت پسندی سے کھیلوں کی سرگرمیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ لاہور میں 3 مارچ 2009 کو سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر ہونے والے کمانڈو طرز کے حملے نے ملک سے بین الاقوامی کھیلوں کو دور کر دیا اور اب پاکستانی ٹیم دوسرے ملکوں میں غیر ملکی ٹیموں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہے۔
سلامتی کے خدشات کے باوجود کھیلوں کو منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سید عاقل شاہ نے کہا کہ پشاور میں کھیلوں کے انعقاد سے خیبر پختونخواہ کی جانب سے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا گیا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کھیل مسائل کا شکار رہیں۔
سابق اتھلیٹ اور موجودہ تکنیکی عہدیدار بحر کرم نے پاکستان میں کھیلوں کو عسکریت پسندی سے پہنچنے والے نقصان کا اعتراف کیا۔ تاہم وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ دو سال کی تاخیر کے بعد بالآخر یہ کھیل منعقد ہو رہے ہیں۔
دباؤ کا احساس
کرم نے کہا کہ مجموعی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم اس طرح کے تناؤ کی صورت حال میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا کافی دشوار ہوتا ہے۔
پاکستان کی تیز رفتار ترین خاتون نسیم حمید بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہی ہیں۔
سو میٹر مختصر دوڑ میں فوج کو سونے کا ایک اور تمغہ دلانے کے بعد سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بم دھماکے کا خوف ہر وقت کھلاڑیوں کے ذہنوں پر چھایا رہتا ہے۔ نسیم نے کہا کہ یہ اچھا محسوس نہیں ہوتا کہ ہم اپنے ہی ملک میں سلامتی کے خدشات تلے کھیل رہے ہیں۔ نسیم نے رواں سال کے اوائل میں بھارت میں ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی پاکستان کے مخلتف صوبوں اور علاقوں کے علاوہ فوج اور دیگر سرکاری اداروں کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔ مقابلوں میں ٹیم کھیل مثلاً فٹ بال، بیس بال، اتھلیٹکس، مارشل آرٹ، کورٹ کھیل، اور دیگر شامل ہیں۔ بیشتر مقابلے پشاور میں منعقد ہو رہے ہیں جبکہ تائی کوانڈو، خواتین کی تیراکی، فٹ بال اور نشانہ بازی کے مقابلے اسلام آباد، کشتی رانی کے مقابلے خان پور جھیل، ہاکی کے مقابلے ایبٹ آباد اور بیس بال کے مقابلے مردان میں ہو رہے ہیں۔
28 دسمبر تک صوبوں میں سندھ نے 24 تمغے جیتے تھے جبکہ اس کے بعد پنجاب نے 11، بلوچستان نے پانچ اور خیبر پختونخواہ نے چھ تمغے حاصل کیے تھے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میرا تبصرہ بہت سادہ ہے، پولیس۔