قازقستان یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت کو افغانستان کے مسائل کے حل کے لئے استعمال کرے گا

بعض افراد کا کہنا ہے کہ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے جس کا قازقستان اہل نہیں

کاپیزہ نور تازینہ

2010-01-09

آستانہ، قازقستان – یکم جنوری کو یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کی صدارت سنبھالنے کے بعد سے قازقستان علاقائی سلامتی کی اس تنظیم میں اپنی ایک سالہ قیادت کے اہداف اور ترجیحات کو تشکیل دینے میں مصروف ہے۔

توقع ہے کہ 14جنوری کو قازقستان کے سیکرٹری آف اسٹیٹ اور وزیر خارجہ اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے موجودہ صدر جنیوا میں تنظیم سے خطاب کے دوران آئندہ سال کے لئے قازقستان کے اہداف کا خاکہ پیش کریں گے۔

قازقستان کی وزارت خارجہ کی بین الاقوامی اطلاعات کی کمیٹی کے سربراہ رومن ویسی لینکو نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ قازقستان اپنی صدارت کے دوران افغانستان کو ایک اہم مرکزی مسئلے کے طور پر حل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

"افغانستان کے مسئلے میں ہماری دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے 56 میں سے 43 ملک پہلے ہی کسی نہ کسی انداز میں افغانستان کے مسئلے کے حل میں شریک ہیں۔ ہمارے خیال میں اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ افغان عوام کو ایک پر امن زندگی کا آغاز کرنے میں مدد دینے کے لئے ان تمام ملکوں کی کاوشوں کو یکجا کیا جائے"، انہوں نے کہا۔

ویسی لینکو نے یہ بھی کہا کہ "قازقستان ملک میں جمہوریت اور جمہوری اصلاحات کو مستحکم کرنے پر کاربند ہے اور اس کی صدارت نہ صرف قازقستان بلکہ وسطی ایشیا کے تمام خطے میں جمہوریت کے عمل کو تقویت دے سکتی ہے"۔

اسلامی ملکوں سے یورپ کو ترک وطنیت کے رجحان میں اضافے کے نتیجے میں ایک اور اہم پہلو رواداری اور عدم امتیاز ہے۔

ایک اور ہدف یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے سربراہی اجلاس کا انعقاد ہے۔

"ایتھنز میں ہونے والے گزشتہ اجلاس (دسمبر 2009) کے دوران، یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس تصور میں دلچسپی کا اظہار کیا اور ویانا میں مستقل کونسل اس کی تفصیلات کے بارے میں فیصلہ کرے گی"، ویسی لینکو نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ قازقستان نے رواں سال جون میں یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی ایک اعلٰی سطحی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔

ویسی لینکو نے قازقستان کی جانب سے یورپی سلامتی کے مستقبل کے ڈھانچے پر مذاکرات جاری رکھنے کی عمومی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قازقستان یورپی سلامتی کے نظام سے متعلق ایک نئے معاہدے کی روسی تجویز کی حمایت کرتا ہے۔

قازقستان آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کا پہلا ملک ہے جس نے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت سنبھالی ہے اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے وسطی ایشیا سے متعلق تحقیق کار مد خاتووچ ینیکیف کے بقول یہ اس کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی ہے۔

"صدر نور سلطان نذر بائیف آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے اندر قازقستان کے مؤقف کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لئے تنظیم کی صدارت کو استعمال کرسکتے ہیں"، انہوں نے کہا۔ "مثال کے طور پر، قازقستان روس کے یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں بتدریج بہتری لانے میں معاونت کرسکتا ہے اور اس کے علاوہ وہ جارجیا کے ساتھ بھی روس کے تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک مثبت کردار ادا کرسکتا ہے جو اگست 2008 میں روس اور جارجیا کے درمیان جنگ کے باعث کشیدہ ہوگئے تھے۔ قازقستان وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاوہ افغانستان میں بھی زیادہ استحکام کو فروغ دینے کے لئے تنظیم کی صدارت کو استعمال کرسکتا ہے"۔

یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت کے لئے قازقستان کے انتخاب کو بعض حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن کا کہنا ہے کہ ملک انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے اور اس میں اظہار خیال کی آزادی کی ضمانت دینے کے لئے ناکافی اقدامات کیے گئے ہیں۔

لیکن ("برائے آزاد انٹرنیٹ!") گروپ کے الن شمشید نے کہا کہ وہ ان افراد کی تنقید کو مسترد کرتے ہیں جو "۔۔۔ شکایت کر رہے ہیں کہ ہمارے ہاں جمہوریت نہیں ہے اور ہم نے یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت کو اپنے تیل کی طاقت سے خریدا ہے"۔

"ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی ایسی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے کہ کسے صدارت دینی ہے۔ قازقستان صدارت کے لئے آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کا موزوں ترین ملک ہے۔ ہمیں، کم از کم، اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے اور ذرائع ابلاغ پر ریاست کا کنٹرول نہیں ہے"، شمشید نے کہا۔

لیکن دیگر افراد نے اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قازقستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کے پیش نظر ملک کو یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی صدارت سے نااہل قرار دینا چاہیے۔

"میرے خیال میں، قازقستان کی طاقتوں، اور کسی حد تک خود صدر نذر بائیف نے بھی گزشتہ سال دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا کہ ہمارا ملک یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کی سربراہی کے قابل نہیں ہے"، آزاد اخبار ("آزادی بیان") سے وابستہ ایک صحافی ثانت ارنالیئیف نے کہا۔

"سال 2009 کے دوران سماجی احتجاج کرنے والے گروپوں (مالیاتی بحران کا شکار ہونے والے افراد کی جانب سے) کے قیام کے بعد ان پر بہت سے جرمانے اور انتظامی سزائیں عائد کی گئیں، حالانکہ انہوں نے پرامن ریلیاں اور اجلاس منعقد کیے تھے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک قانون منظور کیا گیا۔ ملک میں صحافیوں پر 13 حملے ہوچکے ہیں اور "تاس زہرگن" اور "ریپبلک" نامی نجی اخبارات بند کر دیے گئے، زہانا اوزن میں تیل کی صنعت میں کام کرنے والے کارکنوں کی جانب سے نکالی گئی بڑی بڑی ریلیاں، رمضان ایسر گیپوف کو مضحکہ خیز قانونی کارروائی کا نشانہ بنانا اور ماحولیاتی کارکنوں کے خلاف فوجداری مقدمات کا قیام مزید چند اقدامات میں سے ہیں"۔

ارنالیئیف نے بتایا کہ صدارت سے قبل اپنے "حالات کو سدھارنے" کی بجائے حکومت معاشرے پر "اپنی گرفت" مسلسل سخت کر رہی ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button