دہشت گردی کے روایتی کاروبار پر برے اثرات

پشاوری قہوے کے چاہنے والے ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں

امیر محمد خان

2011-02-12

پشاور ۔ تین سال پہلے 32 سالہ شاہ سوار کی پشاور کے نمک منڈی بازار میں سبز قہوے کی دکان تھی جہاں آٹھ ملازم کام کرتے تھے۔

قہوہ بنانے کے لئے الائچی کو پیس کر کیتلی میں ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بم دھماکوں اور عدم تحفظ کی فضاء کے ساتھ ساتھ مہنگائی نے بھی کاروبار کو بری طرح متاثر کیا۔ میں نے اپنا قہوہ خانہ بند کر دیا کیونکہ میرے لئے سہولیات زندگی کے بل اور دیہاڑی دار مزدوروں کی تنخواہ ادا کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔

شاہ سوار اب قصہ خوانی بازار میں دوسری منزل پر واقع ایک قہوے کی دکان پر 2 سو 50 روپے (3 امریکی ڈالر سے بھی کم) دیہاڑی پر کام کر رہے ہیں۔

چولہے سے کیتلی کو اٹھا کر پاس کھڑے ملازم کے حوالے کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں سبز قہوے، چینی اور الائچی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ گاہکوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایک چپاتی کی قیمت بڑھ کر 10 روپے ہو گئی ہے۔ لوگوں کو اب قہوے کی بجائے کھانے کی فکر زیادہ دامن گیر ہے۔

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں قہوہ ایک پسندیدہ مشروب ہے۔ کھانے کے بعد یا مہمانوں کو قہوے کا پیالہ پیش کرنا مہمان نوازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ شاہ سوار کی دکان پر قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے ضلع کوہستان کے ایک ادھیڑ عمر شخص محمد یعقوب نے کہا کہ ہمارا کبھی کبھار پشاور آنا ہوتا ہے اور جب بھی ہم یہاں آتے ہیں تو ہم خاص طور پر قصہ خوانی بازار میں قہوہ پینے آتے ہیں۔ قصہ خوانی کا قہوہ بہت مزیدار اور مشہور ہے۔

قصہ خوانی بازار میں پشاور کی صدیوں پرانی ثقافت کے امین قہوہ خانوں پر گاہکوں کا رش ہوتا تھا جو قہوے کی پیالی پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ زیادہ تر مانگ قریبی دکانوں سے ہوتی تھی جو اپنے گاہکوں کو یہ پیش کرتے تھے۔ اپنے تیز اور منفرد ذائقے کے لئے مقبول قہوے کی چار پیالیوں کی کیتلی کی قیمت 12 روپے ہے۔

ماضی قریب میں پشاور میں سلامتی کی مخدوش صورت حال کے باعث حالات خراب ہونا شروع ہو گئے۔

خیبر پختونخواہ کے قہوہ فروخت کنندگان کی ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پشاور میں دہشت گردی نے قہوے کا کاروبار تباہ کر دیا ہے۔ لوگوں نے بازار آنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر کوئی بازار آتا بھی ہے تو وہ قہوہ خانوں کا رخ نہیں کرتا اور جلد سے جلد واپس جانے کی فکر میں ہوتا ہے۔

امان اللہ نے کہا کہ پشاور میں 6 سو قہوہ خانے ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ اڑھائی سال کے عرصے میں کاروبار میں مندی کے باعث ان میں سے 82 بند ہو چکے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران بم دھماکوں میں سبز قہوے کی چھ دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو باقی قہوہ خانے بھی بند ہو جائیں گے۔ اس سے بہت سے لوگ اپنے روزگار سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ ہر قہوہ خانے کے ساتھ 14 سے 15 افراد وابستہ ہوتے ہیں۔

خیبر پختونخواہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر عثمان بلور نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ 2010 کے 3 سو 65 دنوں میں سے صرف 2 سو 12 دن دکانیں کھلیں۔ سلامتی کے خدشات کے باعث سو سے زائد دنوں تک دکانیں بند رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں منفی اقتصادی نمو دیکھی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کا مالاکنڈ کے عوام کے لئے اقتصادی امداد کا پیکج صوبے کے لئے اچھی خبر ثابت ہو سکتا ہے۔

بلور نے کہا کہ رواں ہفتے پشاور میں تین بم دھماکے ہوئے۔ اس سے نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے میں لوگوں کا اعتماد مجروح ہوا ہے اور کاروبار اور صنعت کو نقصان پہنچا ہے۔

عثمان بلور نے کہا کہ دنیا کے دیگر حصوں کے برعکس جہاں تعطیلات کے دوران بھی بازار کھلے رہتے ہیں اور اشیاء فروخت ہوتی ہیں، ہمارے ہاں عید، محرم اور دیگر مواقع پر خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر بازار بند کر دیے جاتے ہیں۔

قصہ خوانی بازار میں سبز قہوہ فروخت کرنے والے ایک اور دکان دار سلیم خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ماضی میں ہم گاہکوں کے لئے رات کے 1 بجے تک کھلے رہتے تھے، تاہم اب رات 9 بجے ہی بازار مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • ایک ہفتے میں تین دھماکے، ان حالات میں کوئی کیسے زندگی گزار سکتا ہے؟

    March 4, 2011 @ 04:03:00AM Tima Altay Kray