قازقستان میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں
حزب اختلاف کو بعض نشستیں دینے کی ضمانت دی گئی ہے
گلمیرا کامزیئیفا
2011-11-22
آستانہ – آستانہ میں جنوری کے وسط میں ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے بعد نئی مجلس، یا ایوان زیریں، پہلی بار کثیر الجماعتی ایوان بن جائے گی کیونکہ حال ہی میں کی جانے والی اصلاحات کے تحت انتخابات میں دوسری سب سے مقبول سیاسی جماعت پارلیمان میں نشستوں کی حق دار ہو گی۔
دس نومبر کو 1 سو 7 اراکین میں سے 53 کی درخواست موصول ہونے کے بعد صدر نور سلطان نذر بائیف نے ایک فرمان پر دستخط کیے تھے جس کے تحت چوتھی مجلس تحلیل ہو گئی تھی اور 15 جنوری کو مجلس کے انتخابات کی تاریخ مقرر کی گئی۔ سیاسی جماعتیں نومبر کے اختتام سے قبل اپنے کنونشن منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
اس سے قبل چوتھی پارلیمان کی میعاد اگست 2012 میں پوری ہونا تھی۔
اراکین پارلیمان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ آئندہ سال ہم مالیاتی/اقتصادی بحران کی نئی لہر کا سامنا کرنے کی توقع کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انتخابات کا عمل جلد از جلد مکمل کرنا اہم ہے۔
صدر کی نور اوتان جماعت اپنا کنونشن 25 نومبر کو منعقد کرے گی جس کے ایک دن بعد کمیونسٹ پیپلز پارٹی اور آل نیشنل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (یا آزات) کے کنونشن منعقد ہوں گے۔ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور کا جائزہ لیں گی اور امیدواروں کی فہرستوں کی منظوری دیں گی۔ آزات پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ابھی کرنا ہے۔
مرکزی انتخابی کمیشن کے سربراہ کوآندیک ترگن کولوف نے کہا کہ صرف کمیونسٹ پارٹی پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے کیونکہ ایک عدالتی حکم کے ذریعے اس کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جماعت پر اکتوبر میں چھ ماہ کی پابندی لگائی گئی تھی کیونکہ اس نے مانگستو اوبلاست میں تیل کے کارکنوں کی ہڑتال کی صورت حال پر نظر رکھنے کے لئے ایک غیر قانونی تحریک منظم کرنے میں مدد دی تھی۔
ترگن کولوف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پہلے ہی امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروع کر دیا ہے جو 5 دسمبر تک جاری رہے گا اور اس کے 10 دن بعد مرکزی انتخابی کمیشن سیاسی جماعتوں کی فہرستوں کا اندراج شروع کر دے گا۔ سیاسی جماعتوں کی فہرستوں سے اٹھانوے اراکین پارلیمان کا انتخاب کیا جائے گا اور قازقستان کی عوامی اسمبلی ان میں سے نو کو منتخب کرے گی۔
اسمبلی ایک مشاورتی ادارہ ہے جس کی وفاداریاں نذر بائیف کے ساتھ ہیں۔
نئی پارلیمان کی کثیر الجماعتی نوعیت کی ستائش
سینیٹر گاسی قاسموف نے کہا کہ ان انتخابات کی بدولت قازقستان کی پارلیمان پہلی بار کثیر الجماعتی ایوان بن جائے گی۔ ہم ایک جماعت کی اجارہ داری سے جان چھڑا لیں گے لہٰذا میرے خیال میں جو کوئی جماعت بھی کامیابی حاصل کرے گی وہ مجلس کے کام میں نئی تبدیلیاں لائے گی۔ قاسموف نے کہا کہ پھر بحث و تکرار بھی ہوا کرے گی اور متبادل آراء بھی سامنے آئے گی جو کہ خوش آئند پیشرفت ہے۔
تاہم کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گزیز الدم زہاروف نے انتخابات کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ پرانے اراکین پارلیمان کی نشستوں پر کون بیٹھے گا کیونکہ اراکین پارلیمان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ اسی طرح یہاں بیٹھیں گے جیسے پہلے بیٹھا کرتے تھے۔ لہٰذا میرے خیال میں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔
خطراتی تجزیہ گروپ سے تعلق رکھنے والے قازقستان کے ماہر سیاسیات دوسم ست پائیف کو امید ہے کہ ان انتخابات سے پارلیمان زیادہ طاقت اور خودمختاری حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ انتخابات کا مقصد کیا ہے۔ اگر یہ سب کچھ صرف کثیر الجماعتی پارلیمان کی تشکیل کے لئے کیا گیا ہے تو پھر ہم پرانی غلطیوں کا ہی اعادہ کریں گے۔
دوسرا متبادل یہ ہے کہ ہم اس بارے میں بات کریں کہ ان قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں مستقبل میں مضبوط پارلیمان ابھرے جو پرانی پارلیمان سے مختلف ہو۔ ہم اس کے ابھرنے اور افعال اور اختیارات کے لحاظ سے اس کی مضبوطی کی بات کر رہے ہیں جو پہلے سے زیادہ ہونی چاہیے۔ ان سب چیزوں کا حتمی مقصد ہمارے صدارتی نظام کی صدارتی پارلیمانی نظام میں تبدیلی ہونا چاہیے۔
آستانہ کی ایل این گومیلیف یوریشین نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ برائے مطالعہ مشرق کے استاد اناطولی روستی چینکو نے کہا کہ ایک حقیقی کثیر الجماعتی پارلیمان سے قازقستان میں ترقی کو فروغ حاصل ہو گا۔ اس میں تمام جماعتوں کے نکتہ نظر کو نمائندگی ملے گی اور صرف حکمران جماعت کو ہی اجارہ داری حاصل نہیں ہو گی۔ اس سے اقوام عالم میں قازقستان کا تصور بہتر ہو گا جو کہ معمولی بات نہیں ہے۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس اچھے اقدام کا مثبت نتیجہ برآمد ہو گا۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو یہ یہ کام سچے دل سے کریں اور یہ تسلیم کریں کہ آپ ایک مسلمان اور پاکستانی ہیں۔
میں کثیر الجماعتی پارلیمنٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے کامیاب ہونے والی جماعت کے پاس مجلس میں 50 سے زائد نشستیں نہیں ہونی چاہییں۔ جبکہ باقی ماندہ نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کر دی جائیں۔
جیسے قازقستان کو چند مسائل ہیں، ایسے حالات میں نئے الیکشن پیسے کا ضیاع ہیں۔ اس کی بجائے کنڈر گارٹن سکول، یتیم خانے، بے گھر، بے روزگار لوگوں کو سہولتیں دیں، کرپشن ختم کریں۔ اور دہشتگردوں کو بھی ختم کریں۔