-
کرغیزستان میں اسلحہ قوانین سخت کرنے پر غور
-
کھلونا بم پاکستانی بچوں کے لئے خطرہ ہیں
-
ازبکستان کی غیرملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش
-
حزب اللہ، جبہت النصرہ شامی بغاوت کو مسخ کر رہے ہیں، تجزیہ کار
پشاور میں دنیائے اسکواش کے مایہ ناز سپوتوں کا غربت زدہ گاؤں
اتنی شہرت پانے کے باوجود اس کی ترقی کے وعدے تاحال پورے نہیں ہو سکے
جاوید عزیز خان
2010-03-15
پشاور، پاکستان ۔۔۔ پشاور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے واحد رن وے پر اترنے والے ہوائی جہاز تاریخی گاؤں نواں کلی کے خستہ حال مکانوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔
لیکن اس غربت زدہ گاؤں کی بڑی وجہ شہرت اسکواش کے حوالے سے ہے کیونکہ اسکواش کے کھیل میں نام پیدا کرنے والے پاکستان کے سات عالمی چیمپئن کھلاڑیوں کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔ ان میں سے پانچ تو ایک ہی خاندان کے تھے۔
درحقیقت، ملک کو اسکواش کے حوالے سے شہرت کے بام عروج پر پہنچانے والے چیمپئن کھلاڑیوں میں صرف یہی سات شامل ہیں۔
پشاور کے مغرب میں تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کو جانے والی سڑک پر واقع اس گاؤں میں عدم توجہی کا شکار "چیمپئنز ولا" قائم ہے جسے اب ہاشم خان کے پوتے استعمال کرتے ہیں۔ ہاشم اسکواش کے چیمپئن خان کھلاڑیوں کے جدامجد تھے۔
ایک بار خان کھلاڑیوں کی خدمات کے اعتراف میں نواں کلی کو ایک ماڈل گاؤں کے طور پر ترقی دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔ لیکن یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔ اسکواش کے سابق کھلاڑی اور آج کل کاروبار سے وابستہ فرمان اللہ کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں ایک بھی اسکواش کورٹ موجود نہیں ہے۔
اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی طرح چیمپئن بننے کے خواب سجائے اور غربت کے چنگل سے باہر نکلنے کے خواہش مند نواں کلی کے درجنوں نوجوان اپنے کندھوں پر ریکٹ بیگ لٹکائے چینی ساختہ سائیکلوں پر تیز تیز پیڈل مارتے یا برق رفتار باڑہ بسوں پر جا رہے ہوتے ہیں۔ ان کی مشترکہ منزل چھاؤنی میں قائم اسکواش کے پریکٹس کورٹ ہیں۔
ان میں سے اکثر اسکواش یا ٹینس کورٹوں میں گیند پکڑنے یا دیگر چھوٹے موٹے کاموں پر مامور ہیں۔ بیشتر کورٹ پاک فضائیہ اور دیگر سرکاری محکموں کے زیر انتظام ہیں۔ یہ نوجوان ادائیگی کرنے والے اراکین کی آمد سے قبل کچھ دیر کھیلنے کی امید رکھتے ہیں۔
نواں کلی کے 14 سالہ گیند پکڑنے والے محمد رشید کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ ایک دن میں ہاشم خان کی طرح چیمپئن بنوں گا۔ آپ کو پتا ہی ہے کہ برٹش اوپن جیت کر دنیا کو حیران کر دینے سے قبل ہاشم خان بھی گیند پکڑنے کی ملازمت کرتے تھے۔
ہاشم خان دیہاتی پس منظر کے باوجود پاکستان سے چیمپئن بن کر ابھرے جب 1951 میں انہوں نے برٹش اوپن کے فائنل میں چار بار برٹش اوپن (اسکواش کا ومبلڈن) چیمپئن محمود الکریم کو 5-9، 0-9 اور 0-9 سے شکست دے کر دنیا بھر کے اسکواش شائقین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔
وہ 1951 سے 1956 تک مسلسل اور پھر 1958 میں کل سات سال تک کھیل کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے فاتح رہے۔ ان کے ایک عزیز روشن خان نے 1957 میں ان کی مسلسل کامیابیوں کا راستہ روکا۔
1954 سے لے کر 1963 تک برٹش اوپن کے ہر فائنل مقابلے میں نواں کلی سے تعلق رکھنے والے خان مدمقابل ہو تے تھے اور اس لحاظ سے یہ ایک خاندانی مقابلہ بن گیا۔
روشن خان 1959 سے 1962 تک ہر سال برٹش اوپن جیتتے رہے۔ 1963 میں، چیمپئن شپ جیتنے کی روایت روشن خان کے بیٹے محب اللہ خان کے حصے میں آئی۔
اگلے 11 سال تک پاکستان ٹورنامنٹ نہ جیت سکا لیکن 1975 میں نواں کلی کے ایک باشندے قمر زمان نے اپنے ہم وطن گوگی علاؤ الدین کو شکست دے کر چیمپئن شپ جیت لی۔ تاہم، بہترین کھیل پیش کرنے والے کھلاڑیوں کی آمد ابھی باقی تھی۔
روشن خان کے بیٹے اور محب اللہ سینئر کے بھائی جہانگیر خان بلاشبہ دنیائے اسکواش کے بہترین کھلاڑی رہے ہیں۔ انہیں بچپن میں ایک بیماری کے بعد ڈاکٹر نے کبھی اسکواش نہ کھیلنے کا مشورہ دیا تھا لیکن جہانگیر خان 1982 میں ہدی جہان کو 2-9، 9-10 اور 3-9 سے شکست دے کر برٹش اوپن کے چیمپئن کے طور پر ابھرے۔
انہوں نے مسلسل دس سال تک برٹش اوپن جیتی اور اس کے علاوہ چھ بار ورلڈ اوپن میں کامیابی حاصل کی۔ چھ سالوں کے دوران یکے بعد دیگرے 555 عالمی مقابلوں میں انہوں نے کبھی شکست کا سامنا نہیں کیا۔ حتٰی ان کے چیمپئن خاندان میں بھی ان کی کامیابیاں سب سے منفرد ہیں۔
سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے زمان نے کہا کہ نواں کلی نے ملک کو سات عالمی چیمپئن دیے جو 37 سال کے طویل عرصے تک اس کھیل پر چھائے رہے۔ یہ گاؤں درحقیقت چیمپئن کھلاڑیوں کا گہوارہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں 35 اسکواش کورٹ ہیں۔ لیکن ان تک ہر شخص کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ ان کے بقول، بعض کورٹ سرکاری افسران کی ورزش کے لئے مختص ہیں، جب کہ اسکواش میں مستقبل بنانے کے خواہش مند افراد کو باہر بیٹھ کر اندر کا نظارہ کرنا پڑتا ہے۔
زمان نے بتایا کہ ہمارے کورٹوں میں 200 کے لگ بھگ لڑکے کھیل رہے ہیں۔ ان میں عامر اطلس دنیا میں 20ویں نمبر پر ہیں جبکہ فرحان 30 بہترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ منصور زمان 80 بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں موجود ہیں۔
نواں کلی کی اسکواش کے چیمپئن کھلاڑیوں کے آبائی گاؤں کی حیثیت کو خان کھلاڑیوں کے خاندان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کھیل کے لئے خاندان کے شوق کا اثر گاؤں کے دیگر باشندوں پر بھی پڑا ہے اور وہ اسکواش کو غربت کے چنگل سے باہر نکلنے کے ذریعے کے طور پر دیکھنے لگے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسکواش کے کھلاڑی اور شائقین اکثر و بیشتر متوسط اور اعلٰی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
بعض نو آموز کھلاڑی چیمپئن خاندان سے تعلق رکھنے والے نوعمر بچوں کو ملنے والی توجہ سے حسد کر تے ہیں۔ جبکہ دیگر نے امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث طے شدہ ٹورنامنٹوں کی منسوخی کو عالمی درجہ بندی میں اپنے زوال کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
رواں سال اگست میں امریکا میں منعقد ہونے والے ورلڈ اوپن کی تیاری کرنے والے 18 سالہ کھلاڑی نوشیرواں خان نے کہا کہ پانچ اہم ٹورنامنٹ یہاں منعقد نہ ہو سکے جس کے باعث ہم عالمی درجہ بندی میں پیچھے رہ گئے۔ اگر ہم یہ چیمپئن شپ کھیل لیتے تو ہمارے بیشتر کھلاڑی دنیا کے 100 بہترین کھلاڑیوں کی صف میں آ کھڑے ہوتے۔
زمان نے کہا کہ ملک میں اس وقت کوئی ایسا اسکواش چیمپئن موجود نہیں جو عالمی سطح پر کارہائے نمایاں دکھا سکے لیکن وہ اس کھیل میں پاکستان اور نواں کلی کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک چکر کی مانند ہے۔ اس وقت دیگر ممالک کے کھلاڑی چھائے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاں چیمپئن پیدا نہیں ہو رہے۔ مجھے موجودہ کھلاڑیوں میں کوئی بھی اس قابل نظر نہیں آتا۔ لیکن مجھے امید ہے کہ نئی نسل میں بہت جلد چیمپئن کھلاڑی ابھریں گے۔







![افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 20 مئی کو لڑکیاں ایک ٹوٹے ہوئے جنگلے پر کھیل رہی ہیں۔ [رائیٹرز/محمد اسماعیل]](/shared/images/2013/05/23/afgirls-230_184.jpg?1369309204)
رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
متاثر کن