آسیاڈا میں قازقستان کے سب سے زیادہ تمغے

ایشیائی سرما کھیلوں کے آخری دن میزبان ملک نے مزید طلائی تمغے جیتے

وسیوولود ہوان

2011-02-04

آستانہ/الماتی – چار فروری کو قازقستان کے مزید کئی کھلاڑیوں نے سونے کے تمغے جیت کر جاپان، چین اور جنوبی کوریا کی ٹیموں کے سامنے یہ بات واضح کر دی کہ ان کے پاس ایشیائی سرما کھیلوں میں تمغوں کی دوڑ میں قازقستان سے آگے نکلنے کی کوئی امید نہیں۔

جمعہ کو یلینا خرستالیفا نے خواتین کی 15 کلومیٹر انفرادی دوڑ جیت کر قازقستان کے شائقین کو خوشی کا وہ موقع فراہم کیا جس کا انہیں طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اپنے چار اہداف میں سے دو سے محروم رہنے کے باوجود انہوں نے جاپان کی فیوکو سوزوکی کو 14 سیکنڈ کے فرق سے شکست دی۔ سوزوکی سے پانچ سیکنڈ پیچھے رہنے والی قازقستان کی مارینا لیبیدیفا نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

خرستالیفا نے کہا کہ سب مجھ سے طلائی تمغہ جیتنے کی توقع کر رہے تھے۔ میں جیتنے کے لئے مکمل تیار تھی۔ ایک دو نشانوں سے محروم رہنے کے باوجود میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں بہت خوش ہوں اور کل ہونے والی ریلے کے لئے تیاری کی امید کر رہی ہوں۔

مردوں کی 20 کلومیٹر دوڑ میں قازقستان کے الیگزینڈر چرویاکوف نے اپنا خیر مقدم کرنے والے شائقین کو مایوس کر دیا۔ وہ ایشیائی کھیلوں میں پہلے بھی دو بار طلائی تمغہ جیت چکے ہیں۔ ان سے سات بار نشانہ چوک گیا اور وہ ساتویں نمبر پر آئے۔ جاپان کے جنگی ناگائی نے سونے کا تمغہ جیتا۔ ان کے پاس اس سے قبل کانسی اور چاندی کا تمغہ تھا۔

بعد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے ناگائی نے کہا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں ان ایشیائی کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتوں گا۔ وہ تمغوں کے چبوترے پر چین کے دو کھلاڑیوں رین لونگ اور لی زہونگائی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

رین نے کہا کہ میں شاید تھوڑا سا ناامید ہوں۔ میں نے 20 میں سے 19 نشانے لگائے اور صرف آخری چوک گیا۔ اس آسیاڈا میں میرے پاس طلائی تمغہ جیتنے کا ابھی بھی موقع ہے۔

اسکی اوریئنٹروں کی مانند بعض اتھلیٹوں کا وقفہ تھا۔ تاہم پک کی بجائے گیند کے ساتھ کھیلی جانے والی ہاکی کی بینڈی ٹیموں کے مقابلے ہوئے۔ قازقستان نے منگولیا کی ٹیم کو سترہ صفر سے شکست دی۔

چمبولاک تفریحی مقام میں ہونے والے مقابلے میں الپائن اسکی بازوں نے اپنا کھیل مکمل کیا۔ اس سے قبل جمعرات کو خراب موسم کے باعث ان کا مقابلہ ملتوی ہو گیا تھا۔ قازقستان کی لڈمیلا فیدوتوفا نے خواتین کی سپر کمبائنڈ سلالوم میں سونے کا تمغہ جیتا جبکہ جنوبی کوریا کی جیونگ سورا اور قازقستان کی زینیا استروئلوفا نے بالترتیب چاندی اور کانسی کے تمغے جیتے۔

مردوں کی سپر کمبائنڈ سلالوم میں جنوبی کوریا کے کھلاڑیوں جنگ دونگ ہیون اور کم ووسنگ نے بالترتیب سونے اور کانسی کے تمغے جیتے جبکہ قازقستان کے آئیگور ذاکر دائیف نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

پندرہ سو میٹر کی دوڑ میں اسپیڈ اسکیٹروں نے دو براعظمی ریکارڈ قائم کیے۔ قازقستان کے ڈینس کوزن نے دوڑ 1:47.37 اور چین کے وانگ فائی نے 1:58.37 میں ختم کی۔

قازقستان کے ڈینس تن نے مردوں کے فگر اسکیٹنگ مختصر پروگرام میں 76.22 پوائنٹس کے ساتھ تمام کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کے بعد آنے والے جاپان کے مچیدا تتسوکی نے 71.58 پوائنٹس حاصل کیے۔

دن کے اختتام پر قازقستان کے پاس کل 56 تمغے تھے جن میں سے 23 سونے، 18 چاندی اور 15 کانسی کے تھے۔ سونے کے تمغوں کی تعداد کے لحاظ سے، جنوبی کوریا 11 طلائی، 9 چاندی اور 10 کانسی کے تمغوں کے ہمراہ کل 30 تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ جاپان 9 طلائی، 18 چاندی اور 12 کانسی کے تمغوں کے ہمراہ کل 39 تمغوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ دیگر ٹیموں میں صرف چین، ایران اور منگولیا نے ابھی تک سونے کے تمغے جیتے ہیں۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے