مستقبل میں دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے والے لڑاکا کھلاڑی تاشقند میں جمع

ازبکستان میں ایشیائی یونی فائٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد

میکسم ینیسیئیف

2011-05-26

تاشقند – تاشقند میں ایشیائی یونی فائٹنگ چیمپئن شپ منعقد کی جا رہی ہے جس میں باکسنگ، کک باکسنگ، سامبو، کراٹے، چاقو بازی، ایئر گن سے فائرنگ اور رکاوٹیں پھلانگنے پر مشتمل کھیل کے اعزاز کا تعین کیا جائے گا۔

دہشت گردی کے خلاف یونی فائٹنگ کے عنوان سے یہ ٹورنامنٹ ایشیائی یونی فائٹنگ فیڈریشن کی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور یہ 24 سے 27 مئی تک جاری رہے گا۔

یونی فائٹنگ کا آغاز 1996 میں روس میں ہوا تھا جس کا مقصد اسپیشل فورسز، عام فوجیوں اور امور داخلہ کے افسران میں لڑنے کی صلاحیتیں پیدا کرنا تھا۔

یونی فائٹنگ کے مقابلوں کے دو مراحل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے تو مدمقابل کھلاڑی رکاوٹوں والی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں اور ایئر گن اور چاقوؤں سے نشانہ بازی کرتے ہیں اور اس کے بعد رنگ میں دست بدست لڑائی شروع کرتے ہیں۔

چوبیس سے چھبیس مئی تک کوالیفائنگ مراحل، آٹھویں فائنل، کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل کے مقابلے منعقد ہوئے۔ ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، ترکمانستان، نائیجیریا، روس، شام، جنوبی کوریا اور بینن کا کم از کم ایک کھلاڑی فائنل میں پہنچا۔

ازبکستان کی یونی فائٹنگ فیڈریشن کے ترجمان رسلان بیگانوروف نے اس ٹورنامنٹ کی وضاحت کچھ یوں کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسے یوں لیتے ہیں کہ آج رنگ میں لڑنے والے یہ بچے کل اس ملک کو مختلف خطرات سے بچائیں گے۔ اس وقت یونی فائٹروں کی بڑی تعداد امور داخلہ کے افسران اور اسپیشل فورسز کے فوجیوں پر مشتمل ہے۔

ایشیائی یونی فائٹنگ کے صدر سردور تاشکود زہائیف نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں خطے کے بہترین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جو انسداد دہشت گردی کے خلاف بہترین جنگجو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کو اس کھیل میں حصہ لینے کی اجازت ہے اور یہ مارشل آرٹ کی مختلف صلاحیتوں پر مشتمل ہے۔ اس کھیل میں 15 سال کی عمر تک کے نوجوان کھلاڑیوں کے لئے بھی مقابلے اور تربیت موجود ہے۔

بیگانوروف نے کہا کہ یونی فائٹنگ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ تنہا لڑائی کے بالکل مختلف کھیلوں کے ماہر کھلاڑی رنگ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں نوجوان کھلاڑیوں کا الگ حصہ ہے۔ ہم انہیں صرف جسمانی تربیت فراہم نہیں کرتے بلکہ انہیں تعلیم بھی دیتے ہیں۔ ہم انہیں اپنا جارحانہ رویہ کنٹرول کرنا سکھاتے ہیں۔

تاشقند سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طالب علم 20 سالہ سمندر بولگوشیف نے کہا کہ مجھے اس کھیل میں حصہ لے کر واقعی مزا آیا۔ یونی فائٹنگ کسی اور کھیل کی مانند نہیں جسے آپ سکون سے دیکھ سکیں بلکہ یہ آپ کو بھی پرجوش کر دیتی ہے۔ آپ دو کھلاڑیوں کے درمیان سنسنی خیز لڑائی دیکھتے ہیں جس میں مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسے دیکھنا کافی پرلطف ہے۔

تاشقند کے ایک اسکینڈری اسکول کی استاد اسنی سلیموفا اپنے طلباء کو ٹورنامنٹ دکھانے کے لئے لائی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے کی موجودگی کے سبب ہم انتہائی تشویش سے دوچار رہتے ہیں۔ ننھے بچوں کو اس قسم کے کھیل کی جانب راغب کرنے سے ان میں حب الوطنی کا جذبہ بڑھے گا۔ بہت سے لڑکے یونی فائٹنگ کے مقابلے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یونی فائٹنگ کا کھیل مزید ترقی کرے گا۔

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • ہر مارشل آرٹس کے کھلاڑی کی کامیابی کی امید کرتے ہیں۔

    June 5, 2014 @ 12:06:43AM محمدرضازاهدی
  • ہیلو۔ آپ ایران سے آپ کے ساتھ رابطہ کررہا ہوں۔ یہ "یونی فائٹنگ" ایران میں کیوں موجود نہیں ہے؟

    March 30, 2013 @ 08:03:39AM مجید
  • اس منفرد کھیل کو فروغ دیا جانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں تعلیمی کام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، جس کا زیادہ انحصار کوچز پر ہے۔ تاکہ کہ شیطانی قوتیں ہمارے تریبت یافتہ لڑکوں کو مستقبل میں استعمال نہ کرسکیں۔

    February 20, 2012 @ 05:02:37AM Ravshan
  • باغیوں کا مقابلہ کریں

    September 21, 2011 @ 11:09:00PM
  • آپ جانتے ہیں کہ یہ کھیل اپنی نوعیت کا منفرد کھیل ہے۔ اگرچے گلی میں کھیلتے ہوئے اس کی صورتحال کچھ مختلف ہو لیکن یہ کھیل ایسے ہی کیسوں کے لیے ہے۔

    September 20, 2011 @ 03:09:00AM Johongir From Tashkent
  • میں متفق ہوں۔ میں تاشقند میں ایتھلیٹکس کے لیے کہاں داخلہ لوں؟

    September 11, 2011 @ 12:09:00PM alexey
  • استانہ میں سپورٹس کلاس کے لیے میں کہاں جاوں؟ میری عمر 30 برس ہے کیا اس عمر میں کھیل سکتا ہوں؟

    August 13, 2011 @ 03:08:00AM Адиль
  • مضمون بہت مسحورکن ہے لیکن کیا ہوگا اگر یہ تریبت یافتہ لڑکے شیطانی ہاتھوں چڑھ گئے؟؟؟؟

    July 10, 2011 @ 01:07:00AM Sheraz
  • سلام، میرا نام کمال برکی ہے اور میں پاکستان میں ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسر کے طور پر ملازمت کرتا ہوں۔ میں آپ کے اس تبصرے سے متفق ہوں کہ رنگ میں لڑنے والے یہ بچے کل ہمارے ملک کو مختلف خطرات سے محفوظ رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اے یو ایف بہت جلد پاکستان میں اس کھیل کو شروع کرے گی۔ ہمیں آپ کا مارشل آرٹ اور تبصرے پسند آئے۔ آداب۔

    July 6, 2011 @ 09:07:00AM anwar kamal burki
  • میں اس بات سے متفق ہوں۔ نوجوانوں کو نائٹ کلبوں میں نشہ آور سگریٹ پینے کی بجائے ورزش گاہوں میں جانا چاہیے۔

    May 29, 2011 @ 03:05:00PM Эльза