کرغزستان میں مزید لڑکیاں فری اسٹائل کشتی میں
کوچز کا کہنا ہے کہ کشتی کے بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں
مکست عثمون علیئیف
2012-01-19
بشکیک – کرغزستان میں فری اسٹائل کشتی میں حصہ لینے والی لڑکیوں کی تعداد بڑھنے سے اب ملک کو اس کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرنے کی امید پیدا ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والے نور بیک عزت بیکوف نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے آخری سالوں میں محض چند درجن کرغیز لڑکیاں ہی اس کھیل میں حصہ لیتی تھیں مگر اب ان کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ عزت بیکوف اب کرغیز خواتین کی فری اسٹائل کشتی ٹیم کی کوچنگ کرتے ہیں۔
عزت بیکوف نے کہا کہ جس وقت 1998 میں خواتین کی فری اسٹائل کشتی کو باضابطہ حیثیت ملی تو ٹیم میں شامل اتھلیٹ خواتین کشتی کی دیگر اقسام مثلاً جوڈو اور سامبو کھیلتی تھیں۔ مگر حال ہی میں دنیا بھر کے علاوہ ہمارے ملک میں بھی خواتین کی کشتی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ خواتین کا مقابلہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ مردوں کا ہے۔ مثال کے طور پر آخری عالمی چیمپئن شپ میں مردوں کے ہر وزن کے زمرے میں تقریباً 40 سے 50 اتھیلٹ شامل تھے اور خواتین کی بھی یہی تعداد تھی۔
اس وقت 20 خواتین اتھلیٹوں پر مشتمل ملک کی قومی ٹیم 2012 لندن اولمپکس میں جگہ حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اور عزت بیکوف کے خیال میں کرغزستان بین الاقوامی سطح پر اپنا مقام بنا لے گا۔
لندن اولمپکس میں کشتی وزن کے صرف چار زمروں میں ہو گی یعنی 48، 55، 63 اور 72 کلو گرام میں۔ پہلوانوں کو اولمپکس میں جگہ بنانے کے لئے تین بین الاقوامی کوالیفائنگ ٹورنامنٹوں میں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ یہ مقابلے بالترتیب مارچ، اپریل اور مئی میں قازقستان (آستانہ)، چین اور فن لینڈ میں منعقد ہوں گے۔ پہلے یا دوسرے نمبر پر آنے والے کھلاڑی اولمپکس کے لئے کوالیفائی کر لیں گے۔
بعض خواتین اتھلیٹ پہلے ہی مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھا چکی ہیں
بعض معروف ناموں میں یانا پانوفا اور مخر النسوء نور ماتوفا شامل ہیں۔
عزت بیکوف نے کہا کہ خواتین اتھلیٹوں کی ایک نئی نسل تیار ہو کر سامنے آ چکی ہے۔ یہ لڑکیاں رضاکارانہ طور پر اس وقت یہاں آئی تھیں جب ان کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں اور ہمیں ان سے کافی زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کرغزستان کی پوزیشن پہلے ہی کافی مضبوط ہے۔ اگر ہم وسطی ایشیا کے ملکوں پر نگاہ دوڑائیں تو ہم صرف قازقستان سے کمتر ہیں اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ان کی ٹیموں میں بہت سی غیر ملکی خواتین کھلاڑی موجود ہیں۔ تاہم ہمیں ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کی خواتین کھلاڑیوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
خواتین کی کشتی فیڈریشن کے صدر آسیئن تورو گیلدیئیف نے کہا کہ نہ صرف اتھلیٹوں کی تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ ان کا معیار بھی بلند ہو رہا ہے۔
تورو گیلدیئیف نے کہا کہ چند روز قبل ہونے والی قومی چیمپئن شپ سے ظاہر ہوا کہ ہم اچھی سطح پر ہیں۔ ہماری امیدیں چار لڑکیوں سے وابستہ ہیں جو بین الاقوامی مقابلوں میں فن پہلوانی کے داؤ پیچ دکھا کر جمہوریہ کرغیز کا سر فخر سے بلند کریں گی۔
دیگر کھیلوں کی اتھلیٹوں کا بھی کشتی کی طرف جھکاؤ
بعض خواتین دیگر کھیلوں کو چھوڑ کر کشتی کی طرف آئی ہیں لہٰذا ان کا اتھلیٹک پس منظر پہلے سے موجود ہے۔
مثال کے طور پر نارین اوبلاست کی آئی سولو تیرین بیکوفا نے بتایا کہ وہ پہلے باسکٹ بال کھیلتی رہی ہیں مگر ایک بار انہوں نے اتفاق سے ٹی وی پر خواتین کی کشتی دیکھی جس کے بعد ان کے دل میں صرف کشتی کے کھیل میں حصہ لینے کی خواہش شدت سے پیدا ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہمارے ضلع میں خواتین کی کشتی کا کلب موجود نہیں تھا لہٰذا میرے لئے پیشہ وارانہ سطح پر اس کھیل میں حصہ لینے کا موقع صرف بشکیک میں تھا۔ اب مجھے کشتی میں دوسرا سال ہو گیا ہے۔ میں نے کرغزستان میں 'ماسٹر آف اسپورٹ' کا اعزاز جیتا اور قومی چیمپئن بن گئی۔ میرا خواب ہے کہ مستقبل میں بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لوں اور اگر ممکن ہو سکے تو اولمپکس کے لئے بھی کوالیفائی کروں۔
عزت بیکوف نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران تقریباً ہر اوبلاست میں خواتین کی فری اسٹائل کشتی کے کلب کھلنا شروع ہو گئے ہیں اور چوئی اوبلاست کے تو ہر ضلع میں لڑکیاں اس کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی رویے کو دیکھا جائے تو جسمانی لحاظ سے مضبوط اور باصلاحیت لڑکیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
کشتی کے فوائد
انہوں نے کہا کہ کشتی کا کھیل روز مرہ زندگی میں بھی مفید ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک لڑکے نے میری توہین کی اور مجھے زور سے پیچھے دھکا دیا۔ میں نے اسے متنبہ کیا کہ وہ اپنے ہاتھ پیچھے رکھے۔ قریب کھڑے چند لڑکوں نے میری بات سن کر ہنسنا شروع کر دیا۔ جس لڑکے نے مجھے پہلے دھکا دیا تھا اس نے مجھے کپڑوں سے پکڑ کر کھینچا اور میرا گلا دبانا شروع کر دیا۔ اس پر میں نے اسے کندھے پر اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔
انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد کسی شخص کو مجھے چھونے کی جرات نہیں ہوئی۔
کشتی سے کردار سازی اور دیگر مضبوط خصوصیات بھی پیدا ہوتی ہیں۔
کئی سال تک کشتی کھیلنے والی اوش کی ایک خاتون پہلوان نار گل زہرکین بائیفا نے کہا کہ کشتی سے مجھے خود اعتمادی ملی ہے۔
عزت بیکوف نے کہا کہ کرغیز خواتین کی جانب سے اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں میں حصہ لینے کی تیاریوں کے دوران وہ کافی محتاط انداز میں پر امید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے 2012 کے اپنے اہداف حاصل نہ کیے تو پھر بھی مجھے زیادہ مایوسی نہیں ہو گی۔ ان اہداف سے میری مراد اولمپکس مقابلوں کے لئے کوالیفائی کرنا ہے۔ میرے منصوبوں کے مطابق میری اتھلیٹس پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گی اور اپنے کھیل کو بہتر بنائیں گی اور پھر 2014 ایشیائی کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گی۔ پھر ہم چین اور جاپان کی خواتین پہلوانوں سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ ہماری خواتین کے لئے کامیابیوں کے طویل راستے کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
بہت اچھے لڑکیو۔ تم نے کھیل کے میدان میں اپنے ملک کی لاج رکھ لی۔