شنگھائی تعاون تنظیم کی دو ہزار بارہ دو ہزار تیرہ تعاون منصوبے کی توثیق
یاروسلافا نومینکو
2011-03-17
آستانہ – سترہ مارچ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے دفاع نے 2013-2012 تعاون منصوبے کی توثیق کی۔ یہ بات قازقستان کے وزیر دفاع عادل بیک دزہانسی بیکوف نے تنظیم کی آستانہ میں ہونے والی کانفرنس کے بعد بتائی۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سلامتی اور انسداد دہشت گردی اقدامات کو مستحکم بنانے پر توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تعاون منصوبے کے تحت باہمی احترام، باہمی فائدے اور مشاورت کے جذبے کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔
چینی وزیر دفاع لیانگ گوانگلی نے کہا کہ دیگر دستاویزات کی مانند یہ دستاویز بھی شنگھائی معاہدوں کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
قازقستان اپنی فوجی تربیت گاہوں میں کرغزستان کے فوجی اہلکاروں کی مفت تربیت جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ قازقستان میں اس وقت 1 سو 10 سے زائد کرغیز افسران زیر تعلیم ہیں جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی زیادہ تعداد ہے۔ 1998 سے لے کر اب تک قازقستان میں 70 کے قریب کرغیز افسران تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع نے قازقستان میں گزشتہ سال منعقد ہونے والی تربیتی مشق امن مشن 2010 کی کامیابی پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں بھی ایسی ہی مشقیں منعقد کرنے کا وعدہ کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں میں چین، قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )