اسلامی بیمہ پالیسی پاکستانیوں کے لیے مفید ہو گی، ماہرین

ظاہر شاہ

2012-01-26

اسلام آباد - شریعت کے مطابق نفع اور نقصان کی بنیاد پر تکفل نظام کو پاکستان میں متعارف کرانے کے سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اقدام سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہو گا اور بیمہ کرانے والے شہریوں کی شرح میں تین گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت پاکستان بیم کرانے کے حوالے سے جنوبی ایشیاء میں پاکستان سب سے آخر میں ہے۔

پاکستان ایکنامک واچ کے صدر مرتضی مغل نے سنٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ اسلامی بیمہ کاری ان افراد کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو روایتی بیمہ کاری سے مستفید نہیں ہوتے کیونکہ اس کی شریعت میں اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی بیمہ کاری پر زیادہ توجہ دینے سے کسی عالمی معاشی بحران کی صورت بیمہ کاری کی صنعت کو مالی بحران سے بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی پاکستان میں 38 سے 40 کمپنیوں کو روایتی بیمہ کاری کے ساتھ ساتھ تکفل بیمہ کاری شروع کرنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تکفل بیمہ کاری کی پالیسیاں اسلامی معاشی قوانین کے مطابق ہیں جو سرمایہ کاروں اور پالیسی ہولڈڑوں کے درمیان تعاون اور نفغ نقصان کے اصولوں پر قائم ہیں۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 0)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 0 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے