زعفران کے کاشتکاروں کو افغان طالبان کی دھمکیاں

افیون کی کاشت بند کرنا قابل سزا مگر زعفران زیادہ منافع بخش ہے

فرزاد لامہ

2011-01-11

کابل-- افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کاشت کار افیون کے علاوہ دیگر فصلیں بھی اگانا چاہتے ہیں مگر ایسے فیصلے کے نتیجے میں انہیں عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیوں یا اس سے بھی بدتر نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک منافع بخش متبادل زعفران ہے۔

افغانستان کی وزارت زراعت کے ایک ترجمان مجید اللہ قرار نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ 2009 کے مقابلے میں 2010 میں افغانستان میں زغفران کی کاشت دوگنی ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہیکٹر کا فارم بارہ کلوگرام زعفران پیدا کر سکتا ہے، جس سے سالانہ تقریبا تیس ہزار امریکی ڈالر کی آمدن ہو سکتی ہے جو کہ افیون کی کاشت سے کہیں بہتر ہے۔

زعفران وزن کے لحاظ سے دنیا کا مہنگا ترین مصالحہ ہے۔

افغانستان کی کم از کم اسی فیصد افرادی قوت زراعت سے منسلک ہے اور اس کے چونتیس صوبوں میں سے پندرہ صوبوں میں زغفران کاشت کیا جاتا ہے۔

قرار نے کہا کہ یہ افغانستان کے کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

مگر وہ عسکریت پسند جو منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والے منافع پر انحصار کرتے ہیں ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان کی وزارت برائے انسداد منشیات کے ڈپٹی، انجنیر ابراہیم اظہر نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ تقریبا 98 فیصد افیون جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں کاشت کی جاتی ہے جہاں طالبان کے عسکریت پسند افغان حکومت اور اتحادی افواج کے ساتھ شدید جنگ میں معروف ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2010 میں تخمینہ لگایا ہے کہ طالبان افیون کی کاشت سے سالانہ 125 ملین امریکی ڈالر آمدن حاصل کرتے ہیں۔

طالبان نے افیون کی کاشت کو روکنے پر کسانوں کو خبردار کیا ہے

اظہر کا کہنا ہے کہ طالبان نے کسانوں کو دھمکی آمیز خط بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں نے "کسانوں کو اغوا" کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کسان طالبان کی طرف سے افیون کی کاشت کو جاری رکھنے کے مطالبے سے انحراف کریں گے انہیں "مار دیا" جائے گا۔

اروزگان صوبے کے گورنر کے ترجمان قیس واردک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہاں پر رہائشیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ دوسری فصلیں نہ اگائیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طالبان کو جنگ جاری رکھنے کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود خریدنے کی ضرورت ہے اس لیے وہ افیون کی کاشت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اظہر نے کہا کہ طالبان کے پاس لوگوں کو مجبور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور اس کا مقصد صرف مالی طور پر اپنی مدد کرنا ہے۔

قرار نے کہا کہ طالبان لوگوں کے آمدنی کے ذرائع کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انہیں طالبان میں شرکت کرنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔

افغانستان کی وزارت زراعت سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، زغفران کی کاشت سے صرف ہرات میں ہی سالانہ ایک سو ملین امریکی ڈالر کی آمدن ہو سکتی ہے اگر یہ علاقہ 5000 سے 7000 ہیکٹرز کو اس فصل کی کاشت کے لیے مختص کر دے۔

آپ کا اس آرٹیکل بارے کیا خیال ہے؟ (مجموعی ووٹ: 31)

پسندیدگی (پسندیدگیاں)، 6 ناپسندیدگی (ناپسندیدگیاں)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے

قارئین کے تبصرے

  • مجھے یہ ویب سائیٹ بہت پسند آئی ہے۔ اس کا ڈیزائن تقریباً ہر زاویے کا احاطہ کرتا ہے۔ میں اس عظیم کاوش کی کامیابی کا خواہش مند اور دعاگو ہوں۔

    January 22, 2011 @ 09:01:00AM imran mansab khan