پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں چار ارب امریکی ڈالر کا اضافہ

ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو مارجن ٹریڈنگ سسٹم اور مزید مراعات متعارف کروانی چاہیں

جاوید محمود

2011-01-13

کراچی -- تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے مثبت واقعات کے باعث پاکستانی سٹاک مارکیٹ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں ستمبر سے اب تک چار ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

پاک اومان ایسٹ منیجمنٹ کمپنی میں سرمایہ کاری کے اعلی مشیر احمد نبیل نے کہا کہ چار ماہ سے بھی کم کے عرصے میں، کراچی سٹاک مارکیٹ (کے ایس ای) کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن اکتوبر میں موجود 34 بلین ڈالر کی حد سے بارہ جنوری کو بڑھ کر 38 بلین امریکی ڈالر ہو گئی۔

نبیل نے کہا کہ "غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں مسلسل جاری دلچسپی، امریکہ کی طرف سے فنڈ کردہ 633 ملین ڈالر کی اتحادی امداد کے اجرا اور آئی ایم ایف کی طرف سے ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس (آر جی ایس ٹی) کو لاگو کرنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے فیصلے اور ترسیلات زر میں متاثر کن اضافے نے مارکیٹ کی ترقی اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں نومبر سے لے کر اب تک 70 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی ہے جس سے مارکیٹ میں مقامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی، اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن بہتر ہوئی اور بلو چپ انسٹرومنٹ کی قدر میں بہترئی ہوئی۔

نبیل نے مزید کہا کہ پاکستان میں مقامی سرمایہ کار عام طور پر سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی تقلید کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کے باعث حکومت نے آر جی ایس ٹی کے نفاذ کو ملتوی کر دیا ہے مگر یہ ٹیکس جولائی میں نافذ کیا جائے گا تاکہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب اور حکومتی آمدنی کو بڑھایا جا سکے اور خرید و فروخت کی بہتر دستاویز سازی کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان کے جی ڈی پی کا تقریبا نو فیصد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے حاصل ہوتا ہے جو کہ پندرہ فیصد کے عالمی معیار سے بہت نیچے ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور ڈالا تھا کہ وہ یکم جنوری سے آر جی ایس ٹی کا نفاذ شروع کرے مگر اس نے اسے جولائی تک ملتوی کر دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ٹیکس کا تناسب اور آر جی ایس ٹی دونوں ہی پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کی شرائط میں شامل تھے۔

بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے

نبیل نے کہا کہ حکومت کو ملک کے امیروں سے ٹیکس اکھٹا کرنا چاہیے وگرنہ ملک کے حکمرانوں کے لیے ملکی خسارے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اضافے کو روکنا اور ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب کی مطلوبہ سطح کو حاصل کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

نبیل نے کہا کہ "غیر ملکی سرمایہ کاروں کی پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں مسلسل جاری دلچسپی، امریکہ کی طرف سے فنڈ کردہ 633 ملین ڈالر کی اتحادی امداد کے اجرا اور آئی ایم ایف کی طرف سے ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس (آر جی ایس ٹی) کو لاگو کرنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے فیصلے اور ترسیلات زر میں متاثر کن اضافے نے مارکیٹ کی ترقی اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کی ہے۔

نبیل نے مزید بتایا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت اور ملک کے امرا حکومت کی طرف سے ٹیکس میں اضافے کے منصوبے کے مخالف ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے حکومت کے مالی نظم و نسق میں تنزلی آ جائے گی کیونکہ حکومت نے جولائی 2010 سے یکم جنوری تک کے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے پہلے ہی سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کمرشل بینکوں سے تقریبا 4.75 بلین ڈالر کا قرض حاصل کر رکھا ہے۔

رفیع سیکورٹیز کے سی ای او نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ سٹاک مارکیٹ ابھی بھی سرمایہ کاری کے لیے کافی پر کشش ہے کیونکہ ساڑھے چار سو سے زیادہ کمپنیوں کے حصص بہت ہی مناسب داموں پر میسر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری تیل اور گیس کی کمپنیوں میں کی گئی ہے جبکہ دیگر کمپنیوں کے حصص ابھی بھی نہایت پرکشش داموں پر دستیاب ہیں۔ اس وقت کے ایس ای میں چھہ سو سے زیادہ کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

رفیع نے کہا کہ درمیانی اور طویل مدت کی سرمایہ کاری سے سرمایہ کاروں کو کافی بہتر منافع ملنا یقینی ہے کیونکہ ملک کی معیشت کے 2011 کے دوران بڑھنے کی کافی امید ہے۔

رفیع نے کہا کہ 2010 کے آخری چھہ ماہ میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں نے 5.3 بلین ڈالر بھیجے جو کہ 2009 کے اسی دورانیے سے 761 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔

رفیع نے کہا کہ ان تمام مثبت واقعات سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17.3 بلین ڈالر کی موجودہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور سٹاک مارکیٹ کی مستحکم ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے بجٹ کے اخراجات میں کمی کرنی چاہیے، امیر لوگوں پر ٹیکس لگانا چاہیے، سبسڈیز کو ختم کرنا چاہیے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے غیرملکی اور مقامی قرضوں پر انحصار کو کم کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ورنہ، کیپیٹل مارکیٹ میں ہونے والی حالیہ بہتری، زر مبادلہ کے ذخائر، برآمدات اور ترسیلات زر عارضی ثابت ہو سکتے ہیں اور ملکی معیشت کے اہم عناصر ایک بار پھر تنزلی کی طرف جا سکتے ہیں۔

قدر میں اضافہ ایک سالہ کوششوں کا نتیجہ تھا

لاہور سٹاک ایکسچینج کے انتظامی ڈائریکٹر آفتاب احمد چوہدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مالیت میں اضافہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایس سی 100 انڈکس کی اہم کمپنیوں نے 2010 میں متاثر کن ترقی دکھائی ہے۔

چوہدری نے کہا کہ ٹریڈنگ اور سرمایہ کاری میں بتدریج بہتری کے باعث جنوری 2010 میں بینچ مارک انڈکس 9,387 پوائنٹس سے شروع ہوئی اور 1,633 پوائنٹس کے اضافے کے بعد یہ 12,020 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2008 میں کے ایس ای 16,000 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی مگر اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کیے جانے اور لال مسجد آپریشن جس کے بعد خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور جس کے بعد عالمی اور مقامی اقتصادی تنزلی شروع ہو گئی تھی، یہ نیچے گر گئی تھی۔

چوہدری نے کہا کہ جنوری 2009 سے مارکیٹ بتدریج بہتری کی طرف بڑھی اور یہ سلسلہ 2010 میں بھی جاری رہا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ انڈیکس 2011 میں 15,000 تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی ترقی کی اس رفتار کو جاری رکھنے کے لیے حکومت کو سرمایہ کاری کی نئی مصنوعات، ایک مارجن ٹریڈنگ سسٹم متعارف کروانا چاہیے اور سرمایہ کاروں اور دیگر سٹاک ہولڈروں کے لیے ترغیبات مہیا کرنی چاہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 35)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • allah humaary lovely pakistan ki hafazet fermaay in curapit humraano say aamain suma aamaino

    April 21, 2012 @ 11:04:27PM anayatullah saeed ahmed
  • یہ اچھا مضمون ہے اور اس سے معلومات بھی کافی ملی ہیں۔

    April 9, 2012 @ 10:04:04PM Noman Khan
  • آپ کے مضامین بہت اچھے اور ہماری معلومات میں بہت اضافہ کرتے ہیں۔

    October 9, 2011 @ 03:10:00AM Aliza
  • HUM TERI SHAR ME AUHE HE MOSAFAR KE TARHA SARUF AK BAR MOLAKAT KA MOKA DEDI SALEEM RAZA BALOCH HALA HE

    September 18, 2011 @ 02:09:00PM SALEEM,RAZA
  • allah pakistan ke hafazet kerry or pakistan ko ek aman der leder ata fermey

    August 5, 2011 @ 11:08:00AM saqib
  • ہمیں مستقبل کی ضروریات کے لیے پانی ذخیرہ کرنے، زراعت اور لائیوسٹاک شعبوں پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ پاکستان خوراک کی ضروریات پورا کر سکے۔

    May 6, 2011 @ 10:05:00AM Javed Iqbal
  • اچھی بات ہے۔

    April 9, 2011 @ 09:04:00PM musarrat
  • آپ کی ویب سائیٹ انتہائی شاندار ہے۔

    April 4, 2011 @ 01:04:00AM maqsood abbas
  • hello india ap na bahat acha cricket khali hay I am farzand ali from karachi

    March 31, 2011 @ 03:03:00AM atifshah
  • میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔

    March 29, 2011 @ 02:03:00PM ahsan
  • پاکستانی معیشت کی موجودہ صورت حال گزشتہ تین چار سالوں کے مقابلے میں اتنی بری نہیں ہے۔ پاکستان کا واحد مسئلہ دہشت گردی ہے۔

    March 17, 2011 @ 01:03:00AM touseef saifee
  • ٹھیک۔

    January 27, 2011 @ 06:01:00AM samar abas
  • سیاسی رہنماؤں نے معیشت کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ حکومت کو سیاسی رہنماؤں خاص طور پر ہمارے صدر سے مناسب ٹیکس وصول کرنے کی ضرورت ہے۔

    January 18, 2011 @ 04:01:00AM raza hussain