نشتر ہال میں پرجوش شائقین کے لیے رحمان بابا کی زندگی کے بارے میں ڈرامہ
اباسین یوسف زئی ہٹ ہونے والے ڈرامہ کے مصنف، عجب گل ہدایتکار ہیں
جاوید عزیز خان
2012-01-18
پشاور - خیبر پختونخواہ کا محکمہ ثقافت ایک نئی نسل کو پشتون صوفی شاعر عبد الرحمان بابا کی امن اور محبت کے بارے میں تعلیمات سے ڈرامہ کے ذریعے متعارف کرا رہا ہے۔
آغہ خغلی خغلی خلق (وہ خوبصورت لوگ) ڈرامہ 16-18 جنوری کو نشتر ہال میں پیش کیا گیا۔ حکام 19 جنوری کو فیصلہ کرینگے کہ آیا شائقین کے پرجوش ردعمل کی وجہ سے اس شو کو مزید جاری رکھا جائے۔
اداکار اور پروڈیوسر عجب گل نے سنٹرل ایشیاء آن لائن کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ میں لوگ بڑی آس سے مثبت تفریح تلاش کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہم میٹنگ میں اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ڈرامے میں چند دن مزید توسیع کی جائے۔
شاعر اباسین یوسف زئی کے تحریر کردہ ڈرامے میں افتخار قیصر عبد الرحمان بابا (جو رحمان بابا [1653 - 1711] کے نام سے مشہور ہیں) کا کردار ادا کرہا ہے۔ مشہور فنکار جاوید بابر، سید رحمان، شینو، عمر دراز، کلیم خان، زاہدہ تنہا، مینا شمس، ایچ ایم رضا، عزیز عزیر، شبیر خان، عشرت عباس اور ریاض اختر معاون کرداروں کے طور پر ڈرامے میں حصہ لے رہے ہیں۔
رحمان بابا کے شاعرانہ کلام میں ایک نعت شامل ہے، چی می مینہ خدائی پا ٹا بندی پیدا کرے (جب اللہ نے میرے دل میں آپ کی محبت پیدا کی)۔
ڈرامے کو پاکستان اور بیرون ملک سراہا گیا
گل نے کہا کہ اس ڈرامے کے ذریعے، ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پشتون دہشتگرد نہیں ہیں اور انہوں نے ہمیشہ امن اور محبت کا پرچار کیا۔ ہم دنیا کو پشتونوں کی یہ تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیرون ملک ڈرامے پر عوامی ردعمل نے اسے حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان اور یورپی یونین کے حکام نے اس ڈرامے کو کابل اور برسلز میں سٹیج کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ گل نے کہا کہ لوگوں نے ہم سے اس ڈرامے کو کوئٹہ اور (پاکستان کے) دیگر کئی حصوں میں پیش کرنے کی درخواست کی ہے اور ہم موبائل تھیٹر قائم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
خیبر پختونخواہ میں تھیٹر کی بحالی کے حصے کے طور پر، صوبائی محکمہ ثقافت پشتو کی دیگر عظیم ہستیوں جیسا کہ خوشحال خان خٹک، خان عبدالغفار خان (المعروف باچا خان) کے بارے میں ڈرامے تیار کرانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
کے پی کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین جو رحمان بابا ڈرامہ کی افتتاحی شب کو 600 شائقین میں سے تھے نے کہا کہ تھیٹر ایک طاقتور ذریعہ ہے اور ہم خوشحال خان خٹک، پیر روخان اور دیگر شخصیات کی زندگیوں کے بارے میں ڈرامے بنانا جاری رکھیں گے، تاکہ ان کے امن اور محبت کے پیغامات کو نئی نسل تک پہنچایا جا سکے۔
گل نے کہا یہ رحمان بابا کی زندگی کے بارے میں پہلا ڈرامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سے زائد صدیوں میں کسی نے اس طرح کا ڈرامہ تحریر نہیں کیا۔ شائقین نے نہ صرف اس کاوش کو سراہا ہے بالکہ نہوں نے اس کے ڈائلاگ، مناظر اور شاعری کی تعریف کرنے میں بھی سخاوت کا مظاہرہ کیا۔
ڈرامے میں رحمان بابا کی تعلیمات کو اجاگر کیا گیا ہے
یوسفزئی نے کہا کہ ڈرامہ رحمان بابا کی شاعری، پیغام اور زندگی کو بیان کرتا ہے۔ ہم نے رحمان بابا کی شاعری میں امن، محبت اور روحانیت کو تشدد اور دہشتگردی سے متاثرہ نئی نسل کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔
دو گھنٹے کے ڈرامے میں شروع سے آخر تک افتخار قیصر نے شائقین کو محسور رکھا، شاعر کے سادہ طرز زندگی اور نرم بول چال کی عادت کو شائقین تک پہنچانے میں پوری احتیاط سے کام لیتے ہوئے۔
پشاور کے ایک صحافی نثار محمود جو ثقافتی سرگرمیوں کو کوور کرتے ہیں نے کہا کہ مشہور صوفی شاعر کی زندگی اور تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو ڈرامے کے مختلف مناظر میں اجاگر کیا گیا ہے۔
شائقین کے جذبات ڈرامے کے موضوع کے عکاس ہیں
رخسانہ جس اس ڈرامے کا ایک شو ملاحظہ نے کیا کہا کہ یہ لوگ ہماری زندگی میں آئیڈیل ہوتے ہیں۔ رحمان بابا کی زندگی کے بارے میں ڈرامہ انتہائی خوش کی بات ہے۔
رحمان بابا پشاور کے مضافات میں پیدا ہوئے اور ان کو حضرخوانی کے باہر دفن کیا گیا۔ اس دور میں امن، محبت اور تعلیم کے بارے میں ان کا شاعرانہ پیغام عام آدمی کے لیے بہترین تعلیم تصور کی جاتی ہے۔
تاہم، دہشتگردوں نے ان کے پیغام کو مسترد کردیا ہے۔ مارچ 2009 میں ایک بم حملے میں ان کے مزار کو شدید نقصان پہنچا جب عورتوں نے انکے مزار پر خراج عقیدت کے لیے آنے سے منع کرنے کے بارے میں دہشت گردوں کی دھمکیوں پر دھیان دینے سے انکار کر دیا۔
محمود نے کہا کہ ان کی آفاقی شاعری مقامی ثقافت کی پرامن اور صوفیانہ پہلو کو ظاہر کرتی ہے، جسے اسلام کی غیر متحمل اور عدم برداشت پر مبنی تشریحات سے خطرات لاحق ہیں، جیسا کہ 2009 میں ان کے مزار پر ہونے والا بم حملہ ظاہر کرتا ہے۔









رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
me is drame ka hami hon our is ke banane wale ko dad deta hon k wo har pal buzurgo ka shewa apnaye
رحمان بابا کی تعلیمات معاشرے سے دہشت کو ختم کریں گی۔
sir da de program video ba kala raze thanks
خیبر پختونخواہ میں یہ بہترین پروگرام ہے۔
مجھے یہ بیان پسند آیا ہے۔
خیبر پختونخواہ کی حکومت کی جانب سے یہ اچھی کوشش ہے۔ بابا رحمان ایک عظیم شاعر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ امن، محبت کا پیغام دیا۔ ان صوفیوں کی تعلیمات کو فروغ دے کر ہی ہم دنیا مِں امن قائم کر سکتے ہیں۔ میری ہر فورم سے درخواست ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔